Sunday , November 19 2017
Home / شہر کی خبریں / حکومت کی لاپرواہی سے طلباء کا مستقبل تاریک

حکومت کی لاپرواہی سے طلباء کا مستقبل تاریک

کانگریس کا کونسل سے واک آؤٹ، تحریک مراعات شکنی پیش کرنے کا اعلان۔

حیدرآباد۔4۔جنوری(سیاست نیوز) قائد اپوزیشن تلنگانہ قانون ساز کونسل جناب محمد علی شبیر نے چیف منسٹر مسٹر کے چندرشیکھر راؤ پر ایوان اور ریاست کے عوام کو گمراہ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے ان کے خلاف تحریک مراعات شکنی پیش کرنے کا اعلان کیا۔بعد ازاں کانگریس ارکان قانون ساز کونسل نے حکومت تلنگانہ کی جانب سے ریاستی وزیر مسٹر جی جگدیش ریڈی کے جواب پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ایوان سے واک آؤٹ کردیا۔جناب محمد علی شبیر نے قانون ساز کونسل میں اسکالر شپس و فیس بازادائیگی مسئلہ پر مباحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ چیف منسٹر نے 29مارچ 2016کو ایوان میں اس بات کا اعلان کیا تھا کہ 30اپریل تک تمام فیس باز ادائیگی اور اسکالر شپس کے بقایاجات ادا کردیئے جائیں گے لیکن اب تک بھی فیس بازادائیگی اور اسکالرشپس کے بقایاجات کی اجرائی عمل میں نہیں لائی گئی ہے جس کے سبب تلنگانہ کے طلبہ کا مستقبل تاریک ہوتا جا رہا ہے۔ جناب محمد علی شبیر نے مباحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ ریاست تلنگانہ میں 4ہزار کروڑ سے زائد بقایاجات ادا شدنی ہیں جس وقت چیف منسٹر نے 30اپریل2016تک بقایاجات کی ادائیگی کو یقینی بنانے کا اعلان کیا اس وقت 3058کروڑ بقایاجات اداشدنی تھے۔ قائد اپوزیشن تلنگانہ قانون ساز کونسل نے فیس باز ادائیگی مسئلہ پر حکومت کی جانب سے اختیار کردہ رویہ پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت تعلیم کو اہمیت نہیں دے رہی ہے جبکہ ریاست کے طلبہ نے سنہرے تلنگانہ کا خواب دیکھتے ہوئے علحدہ ریاست کی تحریک میں حصہ لیا تھا لیکن آج افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ حکومت تلنگانہ طلبہ کے خوابوں کو چکنا چور کرچکی ہے۔ اسکالر شپس اور فیس بازادائیگی مسئلہ پر مختصر مباحث کے دوران ریاستی وزیر مسٹر ٹی سرینواس یادو نے حکومت کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے تعلیمی اداروں میں موجود نقائص کو دور کرنے کیلئے تعلیمی اداروں کے معیارات کی جانچ کی جس میں کئی تعلیمی اداروں میں تدریسی عملہ ‘ لیاب‘ انفراسٹرکچر کی عدم موجودگی کا انکشاف ہوا ۔ انہوں نے بتایا کہ ریاستی حکومت طلبہ کو مفت تعلیم کی فراہمی کے معاملہ میں سنجیدہ ہے اور اس مسئلہ کی یکسوئی کے لئے اقدامات کئے جارہے ہیں۔ مسٹر ٹی سرینواس یادو کے بیان پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے جناب محمد علی شبیر نے کہا کہ حکومت تلنگانہ میں چیف منسٹر کے بیان کی اہمیت باقی نہیں رہی کیونکہ چیف منسٹر کی جانب سے ایوان میں دیئے گئے بیان پر حکومت قائم نہیں رہ سکی جبکہ چیف منسٹر کی زبان سے نکلنے والی بات کو احکام اور قانون تصور کیا جاتا تھا لیکن اسکالر شپس اور فیس بازادائیگی مسئلہ پر حکومت کے موقف سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ریاستی حکومت عوام اور طلبہ کو دھوکہ دے رہی ہے۔ )

TOPPOPULARRECENT