Friday , December 15 2017
Home / شہر کی خبریں / حکومت کی نظر میں عام شہریوں کی کوئی اہمیت نہیں

حکومت کی نظر میں عام شہریوں کی کوئی اہمیت نہیں

کھلے نالے اور ڈرینج میں بہہ جانے سے اموات میں اضافہ ، حکام کی لاپرواہی میں اضافہ
حیدرآباد۔10اکٹوبر (سیاست نیوز) انسان خواہ کوئی بھی ہو اس کی زندگی کی اہمیت اتنی ہی ہوتی ہے اور ہر کسی کو زندگی جینے کا مساوی حق حاصل ہوتا ہے لیکن مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد اور ریاستی حکومت کے اقدامات سے ایسا لگتا ہے کہ حکومت کی نظر میں عام شہریوں کی کوئی اہمیت نہیں ہے اور ڈرینیج کی صفائی کرنے والوں کی اہمیت ہے اسی لئے صفائی عملہ کی اموات پر فوری احکامات جاری کردیئے گئے کہ انسانوں کے ذریعہ ڈرینیج کی صفائی کا عمل پر امتناع عائد کیا جائے اور مشین کے ذریعہ ڈرین لائن کی صفائی کو یقینی بنایا جائے لیکن اس کے برعکس کھلے مین ہول اور ڈرینیج میں شہریوں کی اموات کے باوجود حکومت یا بلدیہ کو کوئی فرق پڑتا محسوس نہیں ہوتا کیونکہ گذشتہ دو برسوں کے دوران صرف پرانے شہر میں کھلے نالے یا ڈرینیج میں بہنے کے سبب 4اموات واقع ہو چکی ہیں لیکن اس کے باوجود کوئی کاروائی نہیں کی گئی جس سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شہر کے نالوں اور ڈرینیج میں بہہ جانے والوں کی حکومت کو کوئی پرواہ نہیں ہے۔ جاریہ سال کے اوائل میں حلقہ اسمبلی یاقوت پورہ میں ایم معصوم کی موت واقع ہوئی تھی جبکہ گذشتہ برس حلقہ اسمبلی بہادر پورہ میں ایک معصوم کی موت واقع ہوئی تھی اور گذشتہ یوم ایک بزرگ شہری اور معصوم کی نعش برآمد ہوئی جن کی بارش میں بہہ جانے کے سبب اموات واقع ہوئی ہیں۔ شہریوں کی بہنے کے سبب ہونے والی اموات پر مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے عہدیداروں کے علاوہ محکمہ آبرسانی کے عہدیداروں کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کرتے ہوئے تحقیقات کی جانی چاہئے کیونکہ اس طرح کے واقعات پر عوام اور منتخبہ عوامی نمائندوں کی خاموشی کے سبب اموات کا سلسلہ جاری رہے گا اور عہدیداروں کی جانب سے ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے سلسلہ میں کوتاہی و لاپرواہی کا عمل بھی یوں ہی چلتا رہے گا اسی لئے حکومت کو اس مسئلہ پر سخت اقدامات کرتے ہوئے ان لوگوں کے خلاف کاروائی کو ممکن بنایا جاناچاہئے جو اس طرح کی غفلت کے سبب انسانی جانیں ضائع ہو رہی ہیں۔ جناب امجد اللہ خان خالد ترجمان مجلس بچاؤ تحریک و سابق کارپوریٹر نے شہر کے مختلف مقامات پر جمع ہونے والے پانی اور پانی کی عدم نکاسی کے مسائل کی بنیادی وجوہات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ بلدی و آبرسانی عملہ کے علاوہ کنٹراکٹرس کی جانب سے اختیار کردہ رویہ کے سبب یہ صورتحال پیدا ہو رہی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ مانسون سے قبل نالوں کی صفائی کی مہم شروع کی جاتی ہے اور کروڑوں روپئے کے ٹنڈرس منظور کئے جاتے ہیں لیکن مانسون گذر جانے تک بھی صفائی کا عمل مکمل نہیں کیا جاتا اس کے علاوہ جن مقامات پر صفائی کا عمل انجام دیا جاتا ہے نالوں اور ڈرینیج سے نکالا جانے والا کچہرا وہیں پھیلا دیا جاتا ہے جو بارش کے ذریعہ دوبارہ ان نالوں اور ڈرینیج میں پہنچ جاتا ہے ۔ جناب امجد اللہ خان خالد نے بتایا کہ شہر میں لگائے جانے والے بڑے بڑے فلیکس اور بیانرس کے سبب بھی نالوں میں کچہرا جمع ہورہا ہے کیونکہ یہ فلیکس اور بیانرس بھی نالوں کی نذر کردیئے جاتے ہیں اور یہ پانی کے بہاؤ میں رکاوٹ پیدا کرنے لگے ہیں جس کا اندازہ حالیہ بارش کے دوران نالوں کی صفائی کے وقت ہوا کیونکہ نالوں سے بیانرس بھی نکالے گئے ہیں۔ شہریوں کی حفاظت کے ذمہ دار اداروں میں محکمہ آبرسانی‘ بلدیہ اور برقی کے عہدیداروں کو جوابدہ بنانے اور حادثات کی صورت میں ان محکمہ جات کے اعلی عہدیداروں کے خلاف سخت دفعات کے تحت مقدمات درج نہیں کئے جاتے اس وقت تک ان محکمہ جات کے عہدیداروں کو انسانی زندگیوں کی اہمیت کا اندازہ ہونا ممکن نہیں ہے۔

 

TOPPOPULARRECENT