Saturday , November 18 2017
Home / اداریہ / حکومت کی کارکردگی

حکومت کی کارکردگی

رات دن صدمات میں لکھتا رہا
اس کے احسانات میں لکھتا رہا
حکومت کی کارکردگی
وزیراعظم نریندر مودی زیرقیادت این ڈی اے حکومت کی 3 سال کی کارکردگی کی خاص بات یہ رہی کہ بجٹ کی پیشکش کو آسان بنایا گیا۔ سالانہ بجٹ کی خصوصی تبدیلی یہ ہوئی کہ ریلوے بجٹ کو مرکزی بجٹ میں ضم کیا گیا۔ حکومت کے تمام محکموں کو یکساں موقف دیا گیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ دستور میں ریلوے بجٹ کو علحدہ پیش کرنے کا کوئی تذکرہ نہیں کیا گیا تھا۔ مودی حکومت دستورہند کے مطابق خود کو ڈھالنے کی کوشش کے بہانے کے طور پر صرف ان موضوعات کو پسندیدہ بنایا جس سے اس کی ساکھ مضبوط ہوئی ہے۔ طلاق ثلاثہ، یکساں سیول کوڈ، گاؤکشی کے مسائل کے بارے میں حکومت نے دستور کا سہارا لیا جبکہ دیگر حقوق اور مسائل کے تعلق سے حکومت دستوری ذمہ داریوں سے راہ فرار ہوتے دکھائی دی ہے۔ اپنی 3 سال کی حکمرانی کو عوامی حمایت والی حکومت قرار دے کر مودی نے عوام کو زیادہ سے زیادہ راحت فراہم کرنے کا عہد کیا ہے۔ اس سلسلہ میں ان کی صنعت اسکیمات کا بھی آغاز ہوا خاص کر ہیلت کیر شعبہ کو مؤثر بنانے کی کوشش کامیاب ہوتی ہے تو ملک کے دیہی سطح پر عوام کو بہتر صحت نگہداشت سے فائدہ ہوگا۔ اس حکومت کے ابتدائی دنوں میں جن عنوانات کو اہمیت دی گئی تھی اب ان کا ذکر دور دور تک نہیں ہوتا۔ خاص کر کالادھن لانے کا وعدہ ادھورا ہے۔ جن دھن اور ڈگی دھن پر وزیراعظم کی پالیسی کا کیا ہوا یہ غیرواضح ہے۔ عوام اس حکومت کے بارے میں جو رائے قائم کریں گے اس کا ثبوت آئندہ 2019ء کے انتخابات سے مل جائیگا۔ اس حکومت میں خاص تبدیلیاں آنے کی جو نشاندہی کی گئی ہے اس میں منظم طریقہ سے مسلمانوں کو دوسرے درجہ کا شہری بنانے کی کوشش کی گئی۔ گاؤرکھشکوں کو کھلی چھوٹ دے کر اخلاق حسین اور پہلوخاں جیسے واقعات کو ہندوستانی مسلمانوں کے سامنے بھیانک اور ڈراونے دن رات کی شکل میں پیش کیا گیا۔ ہر محاذ پر ایسے مہرے سرگرم رکھے گئے ہیں جو صرف مسلمانوں، مسلم خواتین، مسلم دہشت گردی اور درگاہوں کی زیارت، طلاق، لوجہاد، گاؤکشی جیسے موضوعات پر ہی ہوا کھڑا کرکے ابنائے وطن کے سامنے مسلم طبقہ کو نچلا دکھانے کا کام کرنے میں مصروف ہیں۔ مودی حکومت میں انگریزی الیکٹرانک میڈیا اتنا بکاؤ بن گیا کہ مودی حکومت کی خرابیوں کی پردہ پوشی اور مسلمانوں کی بے گناہی کو خطرناک گناہ کے طور پر پیش کرنے میں آگے آگے رہے ہیں۔ اس کے بعد مسلمانوں کو خوف و ہراس کے ماحول میں سانس لینے کے ساتھ مبتلا اضطراب میں چھوڑنے کی کوشش کی گئی۔ کشمیر مسئلہ کو نازک بنانے میں اہم رول ادا کرنے والی حکمراں طاقتوں نے اب اپنے ہر غلط کام کو درست قرار دینا ہی اچھی کارکردگی سمجھ لیا ہے۔ خوشنما نعرے، مذہب کی بنیاد پر پالیسیاں بنانا اور سماجی امور کی تکلیف دہ طریقہ سے انجام دہی کی تعریف کرنے والے پیروکار اس حکومت کو مل چکے ہیں تو انتخابات سے قبل عوام سے کئے گئے وعدوں کو پورا نہ کرنے پر حکومت سے سوال کرنے کا اختیار بھی اپنی پیروکاروں نے دبا دیا ہے۔ نوٹ بندی کے بعد ملک سے رشوت کے خاتمہ کا دعویٰ کیا جارہا ہے۔ غریبوں کی ترقی اور معاشی پیداوار میں اضافہ کے دعوے کے درمیان جب اس حقیقت کی جانب نشاندہی کی جائے گی اس ملک کے لاکھوں عوام کو کھانے کیلئے ہنوز کچھ حاصل نہیں ہے، پینے کیلئے صاف پانی میسر نہیں ہے، بیت الخلاء نہیں ہیں، پکے مکانات کو غریب ترس رہے ہیں، اسکولوں میں انفراسٹرکچر نہیں ہے، ہیلت کیر سنٹرس کا برا حال ہے اور ملک کی سڑکیں کھڈوں سے بھری ہوئی ہیں تو ایسے میں سوچھ بھارت کی مہم چلا کر لوگوں کو کچرا اٹھانے کے کام میں مصروف کردیا گیا۔ مودی حکومت نے اپنی حکمرانی کی توجہ خاص کر کرپشن کے خاتمہ پر مرکوز کی تھی اور کہا تھا کہ وہ کارکردگی کے معیار کو فروغ دے گی اور اب اپنے منصوبوں پر عمل آوری کا دعویٰ کرنے والی یہ 3 سالہ کارکردگی والی حکومت یہ بتانے سے قاصر ہے کہ اس کے دعوے کہاں دکھائی دے رہیں۔ اچھے دن کے خواب دے کر عوام کو محوخواب کرنے والی حکومت کو مودی کے جادو سے کئی فائدے ہوئے اور کہا گیا ہیکہ عوام پر مودی کا سحر غالب آچکا ہے اس لئے وہ نوٹ بندی کی مار برداشت کررہے ہیں۔ کالادھن تو کجامودی حکومت ملک کے مفرور وجئے ملیا جیسے لوگوں کو واپس لانے میں ناکام ہے۔ ملک کی 75 ویں یوم آزادی کو دھوم سے منانے کا خواب دیکھنے والی حکومت 2019ء کے انتخابات کے بعد دوبارہ اقتدار حاصل کرکے 2022ء میں ایک نئے ہندوستان کی بنیاد ڈالنے کا بھی خواب دکھائی جارہی ہے۔ اس حکومت کو ملک کے انفراسٹرکچر جیسے قومی شاہراہوں، دیہی برقیات کے منصوبوں، صحت، خواتین اور اطفال بہبود، ماحولیات، ضروری اشیاء کی قیمتوں میں کمی کیلئے بہت کام کرنے باقی ہیں۔ اس حکومت کو عوام کی حکومت بنانے کا دعویٰ رکھنے والی قیادت کو اپنی روح، اپنے اخلاق اور اپنے تمام تقاضوں کے اعتبار سے حکمرانی کے فرائض انجام دینے ہوں گے۔
مہاراشٹرا علاقائی پارٹیوں کی ہزیمت
صدرجمہوریہ کے انتخاب کیلئے کوشاں بی جے پی کے لئے مہاراشٹرا کے بعض علاقوں میں ہوئے میونسپل انتخابات کے بعد ایک دھکہ ضرور لگا ہے۔ بی جے پی کی حلیف پارٹی شیوسینا نے بی جے پی کی جانب سے امیدوار بنائے جانے والے شخص کو مسترد کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ اگرچیکہ مہاراشٹرا کے پنویل، بھیونڈی اور مالیگاؤں میونسپل انتخابات میں تمام پارٹیوں کیلئے ملاجلا نتیجہ ملا ہے جبکہ بی جے پی کو نوتشکیل شدہ پنویل میونسپلٹی میں کامیابی ملی ہے۔ بھیونڈی میں کانگریس کا قبضہ برقرار رہنے کا مطلب اس مسلم غلبہ والی آبادی میںکانگریس کے حق میں ہنوز ہمدردی پائی جاتی ہے۔ مالیگاؤں میں بی جے پی کیلئے مسلم امیدوار کھڑا کرنا فائدہ مند ثابت نہیں ہوا۔ مسلم غلبہ والی آبادیوں میں بی جے پی نے اپنے امیدوار کی حیثیت سے کئی مسلمانوں کو ٹکٹ دیا تھا مگر ان سے کسی نے بھی کامیابی حاصل نہیں کی اس کے سامنے کانگریس کے روایتی قائدین منتخب ہوئے ہیں۔ کانگریس کو مالیگاؤں میں واحد بڑی پارٹی کا موقف ملا ہے۔ ہر جگہ اپنی مداخلت کے ذریعہ مسلم ووٹ کاٹنے کی مہم پر چل رہی حیدرآباد کی مقامی جماعت نے مالیگاؤں میں بی جے پی کی درپردہ مدد کی ہے اسی لئے مالیگاؤں میں جہاں بی جے پی کا ایک بھی مسلم امیدوار کامیاب نہیں ہوا وہاں دیگر حلقوں میں مسلم ووٹ کاٹنے میں بی جے پی کی مدد کی گئی ہے۔ یہ نتائج مہاراشٹرا کی سیاست پر غیرمعمولی اثرانداز ہوں گے اور سیاسی رجحان بھی واضح ہوجائے گا۔ قومی پارٹیاں بی جے پی اور کانگریس مہاراشٹرا میں اصل پارٹیاں بن کر ابھری ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ علاقائی پارٹیاں جیسے نیشلسٹ کانگریس پارٹی این سی پی اور شیوسینا کو تقریباً دو دہوں بعد بری طرح شکست ہوئی ہے۔ بی جے پی کی جانبدارانہ سیاست نے شیوسینا کو چراغ پا کردیا ہے۔ ضرورت پڑنے پر شیوسینا سے سیاسی فائدہ حاصل کرنے والی بی جے پی کی اس بے رخی کا نتیجہ نکلے گا کہ شیوسینا بھی اب صدارتی انتخاب کیلئے بی جے پی کے امیدوار کے خلاف ووٹ دینے کا فیصلہ کرے گی۔ بہرحال مودی حکومت کے خلاف اپوزیشن کی مورچہ بندی کی کوششوں کے درمیان یہ تبدیلی نئی سیاسی سمت کشادہ ہونے کا مظہر ہے۔

TOPPOPULARRECENT