حکومت کی 50 فیصد اسکیمات ناکام

مسلمان کے صرف کان خوش کیے گئے

رکن پارلیمنٹ نظام آباد کے مسلمانوں کو پرندے کہنے پر بھی اعتراض
جعفر پاشاہ کی محمود علی اور فورم کے ارکان کے روبرو حق گوئی

حیدرآباد۔12 اکٹوبر (سیاست نیوز) اسمبلی انتخابات میں مسلمانوں کی تائید حاصل کرنے کے لیے ٹی آر ایس کی کوششوں کو اس وقت دھکہ لگا جب یونائیٹڈ مسلم فورم کے ذمہ داروں سے ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی کی ملاقات میں امیر امارت ملت اسلامیہ مولانا حسام الدین ثانی جعفر پاشاہ نے بیباکی کے ساتھ مسلم مسائل کی نہ صرف ترجمانی کی بلکہ کے سی آر کے ’’زبانی پھول برسانے‘‘ پر نکتہ چینی کی۔ یونائیٹڈ مسلم فورم جو ٹی آر ایس کی حلیف مقامی سیاسی جماعت مجلس کے زیر اثر کام کرتا ہے، اس نے مجوزہ اسمبلی انتخابات میں ٹی آر ایس کی تائید کا عملاً فیصلہ کردیا تاہم رسمی طور پر دیگر جماعتوں سے مسلم مسائل پر مشاورت کی بات کہی جارہی ہے۔ محمد محمود علی کی دفتر تعمیر ملت میں فورم کے قائدین سے ملاقات کے دوران متحدہ مسلم فورم ایک منتشر فورم کی صورت میں بے نقاب ہوگیا۔ بتایا جاتا ہے کہ فورم میں شامل بعض ذمہ داروں کو ٹی آر ایس کی اندھی تائید پر اعتراض ہے۔ انہیں اس بات پر بھی اعتراض ہے کہ فورم کے صدر نے اسمبلی کی تحلیل سے عین قبل صدر اردو اکیڈیمی کا سرکاری عہدہ حاصل کرلیا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ فورم کے صدر نے جب ٹی آر ایس سرکاری عہدے کا انعام حاصل کرلیا تو پھر ان کا فورم میں کیا کام ہے۔ ان کی صدارت میں فورم ٹی آر ایس کی تائید کے سوا کوئی اور فیصلہ کیسے کرسکتا ہے۔ اگر وہ سرکاری عہدے سے مستعفی ہوکر فورم کے صدر برقرار رہیں تو اس وقت فیصلے کی غیر جانبداری کو تسلیم کیا جاسکتا ہے۔ سرکاری عہدے کے ساتھ فورم کی صدارت پر فورم کے دوسرے ذمہ داروں میں بے چینی پائی جاتی ہے اور وہ کھل کر اظہار خیال سے گریز کررہے ہیں کیوں کہ صدر اور جنرل سکریٹری دونوں اہم عہدوں پر مقامی سیاسی جماعت کے صدر نے اپنے قریبی افراد کو مقرر کیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ گزشتہ دیڑھ ماہ سے فورم کے قائدین چیف منسٹر سے ملاقات کا وقت مانگ رہے ہیں لیکن کے سی آر نے انہیں آج تک وقت نہیں دیا حالانکہ رکن پارلیمنٹ حیدرآباد نے بھی وقت لینے کی کوشش کی۔ جماعت اسلامی کے قائدین سے چار گھنٹوں کی ملاقات کے بعد فورم کے قائدین کی بے چینی اور بڑھ گئی اور انہوں نے چیف منسٹر سے ملاقات کے لیے کافی جدوجہد کی۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر نے یہ کہتے ہوئے ملاقات کا وقت مقرر نہیں کیا کہ فورم دراصل مجلس کے تحت ہے اور وہ ہر صورت میں ٹی آر ایس کی تائید کرے گا۔ چیف منسٹر کے رویہ سے ناراض ہوکر فورم میں دیگر جماعتوں سے ملاقات کا شوشہ چھوڑا جس پر ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی کو فورم کے ذمہ داروں سے ملاقات کے لیے روانہ کیا گیا۔ اس ملاقات میں جعفر پاشاہ نے حکومت کی ناکامیوں کا ذکر کیا اور کہا کہ دوبارہ تائید کی صورت میں اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ مسلمانوں کے ساتھ محض زبانی وعدے نہیں کیے جائیں گے۔ جعفر پاشاہ کی تقریر کا ویڈیو سوشل میڈیا میں وائرل ہوچکا ہے اور اسے عام مسلمان کافی پسند کررہے ہیں جس وقت جعفر پاشاہ نے ڈپٹی چیف منسٹر کے سامنے کھری کھری سنائی فورم کے صدر جو اردو اکیڈیمی کے بھی صدر ہیں، کافی بے چین دکھائی دیئے لیکن کسی نے جعفر پاشاہ کو روکنے کی جرأت نہیں کی۔ جعفر پاشاہ نے محمود علی سے کہا کہ قبول پاشاہ کی قیام گاہ پر انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ چیف منسٹر سے ملاقات کا اہتمام کیا جائے گا لیکن آج تک یہ وعدہ پورا نہیں ہوا۔ دوسری شکایت یہ کی گئی کہ چیف منسٹر کسی سے ملنا ہی نہیں چاہتے۔ جو علماء مشائخ اور قوم کے ذمہ دار ہیں ان سے ملنے کے بجائے صرف اپنی مرضی کے لوگوں اور چاہنے والوں سے مصافحہ کرکے خاموش ہوجاتے ہیں۔ جعفر پاشاہ نے کہا کہ چیف منسٹر جو آج تک صرف زبان سے پھول برساتے رہے ہیں۔ ہمارا مطالبہ یہ ہے کہ جس طرح آج تک زبان سے پھول برساتے رہے ہیں اس طرح کی بات دوبارہ نہیں ہونی چاہئے۔ نظام آباد میں رکن پارلیمنٹ کویتا کی ایک تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے جعفر پاشاہ نے کہا کہ کویتا کی تقریر کے الفاظ سے حیرت ہوئی ہے جس میں انہوں نے کہا کہ مسلمان اقلیت پرندوں کی طرح ہیں جنہیں جب چاہے بلاسکتے ہیں۔ جعفر پاشاہ نے کہا کہ اس بیان کا صاف مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کو دانا ڈالیں گے۔ کویتا نے اس بیان سے مسلمانوں کے جذبات سے کھیلنے کی کوشش کی ہے۔ اس کے بعد ہم کس طرح امید کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اقتدار میں آنے سے پہلے بڑے وعدے کیئے جاتے ہیں لیکن بعد میں بھول جاتے ہیں۔ 12 فیصد کا وعدہ اسی طرح رہا اور 4 فیصد بھی باقی نہیں رہا۔ انہوں نے شکایت کی کہ حکومت کی اقلیتی بہبود سے متعلق اسکیمات میں 50 فیصد اسکیمات ناکام ہوچکی ہیں۔ کسی بھی مسئلہ میں حکومت یہ دعوی نہیں کرسکتی کہ مسلمان کامیاب ہوئے ہیں۔ ہاں آپ تسلی ضرور دے سکتے ہیں۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ فورم کے قیام کے وقت فیصلہ کیا گیا تھا کہ کوئی ذمہ دار سرکاری عہدہ قبول نہیں کرے گا۔ اس وقت بھی اردو اکیڈیمی کے صدر کا عہدہ کانگریس حکومت سے حاصل کرلیا گیا جس پر جماعت اسلامی نے فورم سے علیحدگی اختیار کرلی تھی۔ دوسری طرف جماعت اسلامی نے کسی ایک پارٹی کی تائید کے لیے جو کمیٹی تشکیل دی ہے اس میں سرکاری عہدے کے حامل جماعت کے ذمہ دار شامل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کے سی آر نے دعوی کیا کہ جماعت اسلامی ٹی آر ایس کی تائید کرے گی۔

TOPPOPULARRECENT