Friday , April 20 2018
Home / شہر کی خبریں / حکومت کے اقدامات سے انجینئرنگ تعلیم کا معیار بلند

حکومت کے اقدامات سے انجینئرنگ تعلیم کا معیار بلند

کالجس میں حاضری کو یقینی بنایا گیا، خامیاں دور ہوگئیں، وزیرتعلیم کڈیم سری ہری کا جواب
حیدرآباد ۔14۔ نومبر (سیاست نیوز) ڈپٹی چیف منسٹر و وزیر تعلیم کڈیم سری ہری نے کہا کہ حکومت کے اقدامات کے نتیجہ میں ریاست میں انجنیئرنگ کی تعلیم کا معیار بلند ہوا ہے۔ اس شعبہ میں جو خامیاں اور کمیاں دیکھی جارہی تھی، ان پر قابو پالیا گیا اور انجنیئرنگ ایجوکیشن پٹری پر آچکی ہے۔ قانون ساز کونسل میں وقفہ سوالات کے دوران ٹی آر ایس رکن پی سدھاکر ریڈی کے سوال پر وزیر تعلیم نے کہا کہ سابق میں طلبہ کسی سنجیدگی کے بغیر انجنیئرنگ میں داخلہ حاصل کر رہے تھے۔ کالجس میں ان کی حاضری برائے نام تھی ۔ حکومت نے اس شعبہ میں اصلاحات نافذ کرتے ہوئے بائیو میٹرک حاضری سسٹم متعارف کیا اور کالجس کو پابند کیا گیا کہ وہ معیاری تعلیم کیلئے قابل اساتذہ کا تقرر کریں۔ حکومت کے یہ اقدامات کامیاب ثابت ہوئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال بورڈ آف انٹرمیڈیٹ کی جانب سے 10,414 طلبہ کو مائیگریشن سرٹیفکٹ جاری کیا گیا جبکہ جاریہ سال 9429 طلبہ کو یہ سرٹیفکٹ جاری کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پڑوسی ریاستوں جیسے مہاراشٹرا ، ٹاملناڈو ، کرناٹک کے علاوہ دہلی میں اعلیٰ تعلیم کے حصول کیلئے انٹرمیڈیٹ کے بعد تلنگانہ کے طلبہ نقل مقام کر رہے ہیں۔ ایروناٹیکل انجنیئرنگ ، بینکنگ ، فینانشیل سرویسز ، میڈیسن اور دیگر کورسس کے علاوہ مسابقتی امتحانات میں شرکت کیلئے دوسری ریاستوں کا رخ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے طلبہ کی تعداد کافی کم ہے۔ پڑوسی ریاستوں میں میڈیکل اور انجنیئرنگ کے علاوہ اگریکلچرل کالجس کی تعداد تلنگانہ کے مقابلہ میں زیادہ ہے ۔ اس لئے بآسانی نشستوں کے حصول کے مقصد سے انٹرمیڈیٹ کے بعد بعض طلبہ پڑوسی ریاستوں کا رخ کر رہے ہیں۔ کڈیم سری ہری نے اس بات کی تردید کی کہ تلنگانہ میں سہولتوں کی کمی اور معیاری تعلیم کے فقدان کے سبب طلبہ دیگر ریاستوں کا رخ کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ دوسری ریاستوں سے تلنگانہ میں آنے والے طلبہ کی تعداد کافی زیادہ ہے۔ گزشتہ سال 27000 طلبہ دیگر ریاستوں سے تلنگانہ میں اعلیٰ تعلیم کیلئے پہنچے۔ جاریہ سال 27,580 طلبہ نے تلنگانہ میں انٹرمیڈیٹ تعلیم حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ دسویں جماعت کے بعد یہ طلبہ تلنگانہ کا رخ کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ آندھراپردیش تنظیم جدید قانون کے تحت 10 سال تک دونوں ریاستوں میں طلبہ کو داخلہ کی گنجائش حاصل ہے ، لہذا تلنگانہ اور آندھراپردیش کے طلبہ کیلئے دونوں ریاستوں میں داخلہ کیلئے وطنیت کا سرٹیفکٹ لازمی نہیں جبکہ تقررات کے سلسلہ میں یہ سرٹیفکٹس ضروری ہے۔ اس مسئلہ پر چیف منسٹر نے ایڈوکیٹ جنرل اورماہرین قانون سے مشاورت کی ہے۔ قائد اپوزیشن محمد علی شبیر نے صدارتی اعلامیہ کی اجرائی کے سلسلہ میں حکومت سے نمائندگی کی اور حکومت کے موقف کی وضاحت کا مطالبہ کیا۔

TOPPOPULARRECENT