Monday , December 11 2017
Home / اے پی ڈائری / حکومت کے نمائندہ کا ایماندارانہ اعتراف

حکومت کے نمائندہ کا ایماندارانہ اعتراف

 

تلنگانہ / اے پی ڈائری خیر اللہ بیگ
تلنگانہ حکومت میں اپنی ناقص کارکردگی کا اعتراف کرنے کا رجحان بڑھتا جارہا ہے ۔ یہ باتیں ان لوگوں کی ہیں جو کام نہیں کرنا چاہتے مگر جو کام کرنا چاہتے ہیں وہ ان حدود وغیرہ جیسی فضول باتوں کی پرواہ نہیں کرتے بلکہ ان محنتی وزراء اور عوامی نمائندوں کے زیادہ تر کام ہی ان کے حدود سے باہر ہوتے ہیں ۔ ٹی آر ایس کے قائدین اتنے ہارڈ ورکنگ سمجھے جاتے ہیں کہ وہ اس امر کا بھی اعتراف کرتے ہیں کہ ان کے اپنے بچے شہر حیدرآباد کی خراب سڑکوں پر ریمارک کرتے ہوئے حکومت کی ناقص کارکردگی کا ذکر کرتے ہیں ۔ جی ہاں وزیر بلدی نظم و نسق کے ٹی راما راؤ نے شہر حیدرآباد کی خراب سڑکوں کا اعتراف کرتے ہوئے یہ تسلیم تو کیا ہے کہ حالیہ بارش نے شہر کی حالت ہی بدل دی ہے اور خود ان کے بیٹے نے خراب سڑکوں کی جانب توجہ دلائی ۔ ایک ایماندار وزیر کی حیثیت سے کے ٹی راما راؤ نے عوام کو درپیش مسائل اور مشکلات کا اندازہ کرتے ہوئے یہ اعتراف کیا کہ ان کی وزارت کے تحت شہر کی سڑکیں ، کھڈوں میں تبدیل ہوگئی ہیں لیکن اب ان کی تیزی سے مرمت کروائیں گے ۔ تلنگانہ حکومت کے ہارڈ ورکنگ وزیر ثابت کرنے کے لیے کے ٹی راما راؤ کو عوام کے عین مفاد میں اپنے وعدوںکو پورا کرنے کی ضرورت ہے ۔ برسوں سے اس شہر پر راج کرنے والوں نے اپنی ذمہ داریوں سے راہ فرار اختیار کی ہے ۔ اب کے ٹی راما راؤ کو خود کام کرتے ہوئے منہ چھپا کر نکلنے والے شہر کے قائدین کو عوام کے سامنے بے نقاب کرنا ہوگا ۔ شہر کے کارپوریٹر حلقوں میں ایک مقامی جماعت کے قائدین کا راج ہے جہاں کی ہر بلدی مسئلہ تباہ کن ہے اور شہریوں کے لیے عذاب جان بن رہا ہے ۔ جب عوام ان سے صاف اور واضح سوالوں کے جواب طلب کرتے ہیں تو وہ اِدھر اُدھر کی ہانکنا شروع کردیتے ہیں۔

مگر اب وزیر بلدی نظم و نسق کا ضمیر جاگ گیا ہے تو عوام کو یقین ہے کہ آخر میں وہ ہی شہر کے کام آئیں گے اور رات دن کام کر کے سڑکوں اور دیگر بلدی مسائل کو حل کریں گے ۔ ریاستی حکومت اور بلدی حکام کے علاوہ کے ٹی راما راؤ کے لیے یہ شرمسار کرنے والی ہی بات ہے کہ شہر کا ہر علاقہ حالیہ بارش کی وجہ سے ابتری کا شکار ہوچکا ہے ۔ کے ٹی آر نے خود کہا کہ حیدرآباد میں خراب سڑکوں کی صورتحال کا اعتراف کرنے میں مجھے کوئی شرمندگی محسوس نہیں ہوگی ۔ گذشتہ 19 روز سے بارش کا سلسلہ جاری ہے ۔ عوام کو نازک حالات سے گذرنا پڑتا ہے حکومت نے اس سلسلہ میں ایک بہت بڑا منصوبہ بنایا ہے لیکن اس منصوبہ پر عمل آوری کے لیے وقت درکار ہوگا ۔ حکومت شہر کو بہتر بنانے کا عہد کرچکی ہے ۔ حکومت کو اپنے عہد کی پابندی کرنا لازمی ہوچکا ہے کیوں کہ شہریوں نے فوری راحت نہ ملنے پر شدید احتجاج کی دھمکی دی ہے ۔ برہم شہریوں نے الزام عائد کیا کہ شدید بارش کے دوران ان کے محلوں میں پانی داخل ہوجاتا ہے اور گھروں کے اندر پانی جمع ہوتا ہے ۔ حکام کی توجہ بارہا مبذول کرانے کے باوجود کوئی کام نہیں کیا جاتا ۔ عوام کو یہ اندازہ ہونا چاہئے کہ اس حکومت پر عوام کی دھمکیاں اثر نہیں کرتی اور نہ ہی یہ حکومت عوام کی دھمکیوں اور احتجاج کی پرواہ کرتی ہے ۔ ہندوستان میں جمہوریت ہونے کی وجہ سے عوامی نمائندے من مانی کررہے ہیں ۔ رائے دہندوں اور شہریوں کو اگر منتخب نمائندوں کی باز طلبی کا اختیار دیتے ہوئے قانون لایا جائے تو تمام عوامی نمائندے دیانتداری سے کام کریں گے بلکہ عوام کو ناراضگی کا موقع ہی نہیں دیں گے ۔ آج تلنگانہ کی ٹی آر ایس حکومت خود اچھی طرح جانتی ہے کہ عوام کے احتجاج میں کتنی طاقت ہوتی ہے ۔

کیوں کہ وہ خود بھی تلنگانہ تحریک میں عوام کے احتجاج اور دھرنوں کی وجہ سے ہی اقتدار تک پہونچی ہے ۔ اس حقیقت سے اگر حکومت انکار کرتی ہے تو پھر وہ اپنے لیے آگے چل کر مشکلات پیدا کرے گی ۔ حیدرآباد میں جہاں سڑکوں کی خرابی کا مسئلہ ہے وہیں موٹر گاڑیوں کی پارکنگ کا بھی مسئلہ سنگین ہے ۔ ہر روز 700 نئی موٹر گاڑیاں شہر کی سڑکوں پر دوڑ رہی ہیں ۔ سڑکیں وہی جگہ کی گنجائش اتنی ہی اور حدود بھی محدود ہیں ۔ اس کے باوجود محکمہ آر ٹی اے ہر روز 700 نئی گاڑیوں کا رجسٹریشن کروا کر ٹریفک کا مسئلہ نازک بناتا جارہا ہے ۔ اس مسئلہ پر وزیر آئی ٹی کے ٹی راما راؤ نے تلنگانہ حکومت کے منصوبوں سے واقف کرواتے ہوئے عزم ظاہر کیا کہ اس سال کے اواخر تک شہر میں ایک نئی پارکنگ پالیسی پر عمل کیا جائے گا ۔ پارکنگ کے بڑھتے مسئلہ سے نمٹنے کے لیے حکومت کی جامع پالیسی تیار ہورہی ہے ۔ اس پالیسی کے تحت ان جائیداد مالکین پر جرمانے عائد کیے جائیں گے ۔ جہاں پارکنگ کی سہولت نہیں ہوگی اور پارکنگ کے چارجس کو باقاعدہ بنایا جائے گا ۔ ماضی میں شہر میں ملٹی لیول پارکنگ کے منصوبے تیار کئے جاچکے ہیں مگر ان پر ہنوز کام شروع نہیں ہوا ۔ دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد میں ملٹی لیول پارکنگ کے لیے خانگی کمپنیوں کو شراکت دار بنایا جانے والا ہے ۔ نئی پالیسی میں زمرہ بندی کی جائے گی ایک تو سڑکوں پر کی جانے والی پارکنگ ہوگی دوسرا رہائشی علاقوں میں ہونے والی پارکنگ اور مختصر وقفہ کے لیے موٹر گاڑیاں پارک کرنے کی سہولت ، بس اسٹیشنوں میں پارکنگ کی سہولتوں کے علاوہ ایم ایم ٹی ایس اسٹیشنوں اور میٹرو اسٹیشنوں پر پارکنگ کی سہولتیں فراہم کی جائیں گی ۔ حکومت کی پالیسیوں اور اس پر عمل آوری کے درمیان عوام کو بھی ایماندارانہ طور پر یہ اعتراف کرنا پڑے گا کہ حالیہ شدید بارش اور مختلف بلدی مسائل کے باوجود عوام کو زیادہ پریشانیوں سے بچانے کے لیے بلدی عملہ نے موثر کام انجام دیا اور چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤنے اپنے وعدہ کے مطابق شہریوں کو بلا خلل برقی سربراہ کرنے کو یقینی بنایا ۔

بعض مقامات پر بارش اور تیز ہواؤں کی وجہ سے برقی سربراہی میں خلل پایا گیا لیکن مجموعی طور پر کارکردگی کے مظاہرہ میں کے سی آر حکومت نے اپنے بیشتر وعدوں کو پورا کرنے میں اخلاص سے کام لیا ہے ۔ خامیاں اور کوتاہیاں تو ہر جگہ ہوتی ہیں ۔ اس کے باوجود کے سی آر حکومت کی کارکردگی کو عوام کے لیے اطمینان بخش سمجھاجارہا ہے ۔ ان کے نقاد کہتے ہیں کہ چیف منسٹر کی زبان کا وعدہ کبھی پورا ہو یا نہ ہو مگر ان کی وعدہ کی زبان سے ملنے والا زخم کبھی نہیں بھرے گا ۔ احتیاط تو یہ ہونی چاہئے کہ چیف منسٹر اپنی زبان سے کسی کو زخم نہ پہونچائیں کیوں کہ یہ زبان عوام کے ووٹ دلاسکتی ہے تو یہ زبان ووٹ کاٹ بھی سکتی ہے ۔ تلنگانہ کی سیاست میں آج کل زبان کے ایسے ایسے زخم لگائے جارہے ہیں کہ سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ زخم لگانے والے حکومت کے نمائندے بھی ہیں اور اپوزیشن کے کارندے بھی ۔ یہ ایک دوسرے کو زبان کے ذریعہ لہولہان کررہے ہیں ۔ پھر بھی حکمراں طبقہ یہ سوچنے کی زحمت بھی گوارا نہیں کررہا ہے کہ اپنی زبان سے جو دوسروں کو جو زخم لگا رہے ہیں وہ زخم ان کے جسم پر بھی لگ رہے ہیں ۔ اپوزیشن کے قائدین کا بھی یہی حال ہے ۔ سوشیل میڈیا پر ان دنوں ایک تصویر وائرل ہوئی جس کی دھوم بیرون ملک تک مچی ہوئی ہے ۔ ایک این آر آئی خاتون کے فلیٹ پر حکمراں پارٹی کے ایم ایل سی کے قبضہ اور مکان مالک سے گالی گلوج کی ویڈیو نے کے سی آر حکومت کی رہی سہی خوبی بھی مٹی میں ملا دی ہے ۔ ایم ایل سی ایک شریف النفس انسان سمجھے جاتے ہیں لیکن جب بیروزگار سیاستداں کو کوئی کرسی مل جاتی ہے تو وہ دوسروں سے ہٹ کر اپنے رویہ میں تبدیلی لاتا ہے ۔ یہ حکمراں لوگ بھی عجیب تخلیق کار ہوتے ہیں ۔ اپنے اطراف ایسی عجیب مخلوق تخلیق دیتے ہیں کہ ماضی ، حال اور مستقبل سب ایک ہوجاتے ہیں ۔ ان میں احتیاط ، تحمل ، تدبر نہ ہونا ایک معیوب سیاسی ضد کے ساتھ بدنامی کی کھائی میں گرجاتے ہیں ۔۔
[email protected]

TOPPOPULARRECENT