Saturday , November 18 2017
Home / Top Stories / حکومت ہر شعبہ حیات میں مسلم حصہ داری میں اضافہ کیلئے کوشاں

حکومت ہر شعبہ حیات میں مسلم حصہ داری میں اضافہ کیلئے کوشاں

موثر اقدامات کیلئے دانشور طبقہ سے تجاویز کی طلبی ۔ فتح میدان پر دعوت افطار سے چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ کا خطاب
حیدرآباد 18 جون (سیاست نیوز) ریاست میں ٹی آر ایس حکومت ہر شعبہ میں مسلمانوں کے حصہ میں اضافہ کرنے کوشاں ہے اسی لئے حکومت میں مسلم ڈپٹی چیف منسٹر، چار ایم ایل سی ‘ پانچ مختلف کارپوریشنس صدورنشین عہدوں پر مسلم قائدین کی نامزدگی الیکٹرسٹی ریگولیٹری کمیشن صدرنشین عہدے پر مسٹر اسماعیل علی خان کا انتخاب کیا گیا۔ علاوہ ازیں مسلم وائس چانسلر کا بھی انتخاب کیا جائیگا ۔ یہ اقدامات بھی کم ہیں لہذا مزید اقدامات کئے جائیں گے۔ علاوہ ازیں مسلمانوں کی ہمہ جہتی ترقی کیلئے ریاست کے علم دانشور و دانشمند طبقہ سے حکومت کو ڈپٹی چیف منسٹر یا صدرنشین وقف بورڈ وغیرہ کے ذریعہ مثبت تجاویز پیش کرنے کی چیف منسٹر نے خواہش کی تاکہ مختلف مثبت تجاویز کے حصول کے ذریعہ حکومت مسلم طبقہ کی ہمہ جہتی ترقی کو یقینی بنانے مؤثر اقدامات کرسکے۔ آج شام لال بہادر اسٹیڈیم میںحکومت کی جانب سے منعقدہ افطار پارٹی کے موقع پر مختصر لیکن جامع شستہ اُردو زبان میں اظہار خیال کرتے ہوئے چیف منسٹر کے چندرشیکھر راؤ نے یہ تیقن دیا اور کہاکہ حکومت فی الوقت اقلیتوں کی ترقی کیلئے جو اقدامات کررہی ہے ان اقدامات سے اقلیتوں کی پوری ترقی نہیں ہوسکے گی۔ انھوں نے شہر حیدرآباد و تلنگانہ کی گنگا جمنی تہذیب کا تذکرہ کرتے ہوئے کہاکہ تلنگانہ میں گنگا جمنی تہذیب کو برقرار رکھنے اور فروغ دیتے ہوئے نہ صرف ہندوستان میں بلکہ دنیا بھر میں تلنگانہ کو مثالی ریاست بناسکیں۔ چیف منسٹر نے دہلی میں قائم اسلامک سنٹر کا تذکرہ کرتے ہوئے حکومت تلنگانہ عالمی سطح و معیار کا اسلامک سنٹر کا شہر حیدرآباد کے کسی اہم مضافاتی علاقہ میں قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس سلسلہ میں اراضی کی نشاندہی بھی کرلی گئی ہے بلکہ بہت جلد وہ خود اسلامک سنٹر کی عمارت کیلئے سنگ بنیاد رکھیں گے۔ انھوں نے کہاکہ آج ہی نامپلی کے مقام پر 30 کروڑ روپیوں کے مصارف سے تعمیر کی جانے والی انیس الغرباء کی عالیشان عمارت کا سنگ بنیاد رکھا جاچکا ہے۔ چیف منسٹر نے کہاکہ کوشش کے ذریعہ ہر چیز ممکن ہوسکتی ہے اور انصاف کی ہمیشہ جیت ہوتی ہے۔ چیف منسٹر نے اعلان کیاکہ نئی ریاست تلنگانہ کو ترقی کے معاملہ میں اور پیداوار کے معاملہ میں ملک بھر میں پہلا مقام حاصل ہے اور یہی موقف برقرار رہے گا۔ انھوں نے حصول تلنگانہ سے قبل کے حالات کا اظہار کرتے ہوئے مختلف گوشوں سے علیحدہ تلنگانہ جدوجہد کا مذاق اُڑایا گیا تھا لیکن حکومت تلنگانہ نے شاندار کارکردگی کے ذریعہ اس مذاق کو آج خوشی میں تبدیل کرکے رکھ دیا ہے۔ چیف منسٹر نے کہاکہ وہ فخر اور خوشی کے ساتھ یہ بتاسکتے ہیں کہ ریاست میں اقلیتی طبقہ کو تعلیمی میدان میں ترقی دینے اب تک 204 اقلیتی اقامتی اسکولس قائم کئے گئے جہاں پر اقلیتی طلباء کو کانونٹ و کارپوریٹ مدارس کے طرز کی تعلیم فراہم کی جائیگی۔ چندرشیکھر راؤ نے کہاکہ سال 2022 ء تک ان اقامتی اقلیتی مدارس سے 1.33 لاکھ طلباء و طالبات تعلیم حاصل کریں گے۔ انھوں نے ان اقامتی اقلیتی مدارس کے قیام میں مشیر حکومت برائے اقلیتی اُمور و سابق ڈی جی پی مسٹر اے کے خان کی خدمات کی ستائش کی۔ انھوں نے کہاکہ حکومت تلنگانہ سیول سرویسس میں بھی اقلیتوں کی مناسب نمائندگی کو یقینی بنانے 100 اقلیتی طبقہ کے طلبا کا انتخاب کرکے انھیں آئی اے ایس و آئی پی ایس امتحانات کیلئے معیاری ٹریننگ دلوارہی ہے۔ اس کے علاوہ اوورسیز فینانشیل اسکیم کے تحت 595 طلباء و طالبات کو بیرونی ممالک میں اعلیٰ تعلیم کے حصول کیلئے فی طالب علم 20 لاکھ روپئے کی مالی امداد فراہم کررہی ہے۔ چیف منسٹر نے مسلمانوں کو تعلیم اور روزگار کے شعبہ میں تحفظات فراہم کرنے کا تذکرہ کرتے ہوئے کہاکہ غریب مسلمانوں کو تعلیم و روزگار کے شعبہ میں 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کا نہ صرف فیصلہ کیا ہے بلکہ اسمبلی میں بل پیش کرکے متفقہ طور پر بل کو منظور کروایا گیا اور اس بل کو قطعی منظوری کیلئے مرکز کو روانہ کردیا گیا ۔ گزشتہ دنوں اس بل کی منظوری کیلئے وزیراعظم سے بھی بات چیت کی ہے۔ انھوں نے کہاکہ ضرورت پڑنے پر دہلی کو وفد کے ساتھ جاکر مرکز سے مؤثر نمائندگی کے ذریعہ 12 فیصد تحفظات حاصل کئے جائیں گے۔ قبل ازیں چندرشیکھر راؤ نے انیس الغرباء کے یتیم و نادار بچوں میں رمضان گفٹ پیاکس تقسیم کئے۔ مولانا مفتی خلیل احمد شیخ الجامعہ جامعہ نظامیہ نے رمضان المبارک کی اہمیت کے علاوہ مذہب اسلام کی حقانیت پر روشنی ڈالی اور دعا کی۔ قبل ازیں حافظ و قاری ذبیح اللہ کی قرأت کلام پاک سے تقریب کا آغاز ہوا۔ بعد افطار شہ نشین کے دونوں جانب نماز مغرب کا اہتمام کیا گیا۔ ایک جماعت کی مفتی خلیل احمد اور دوسری جماعت کی حافظ صابر پاشاہ امام مسجد حج ہاؤز نے امامت کی۔ افطار پارٹی میں مختلف سیاسی جماعتوں کے قائدین، مرکزی و ریاستی وزراء مسٹر بنڈارو دتاتریہ، ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی، وزیرداخلہ این نرسمہا ریڈی، جوپلی کرشنا راؤ، اسپیکر اسمبلی مسٹر مدھو سدن چاری، ارکان پارلیمنٹ اسد اویسی، سی ایچ ملا ریڈی، کے کیشو راؤ، ڈی سرینواس، ارکان کونسل، محمد سلیم صدرنشین وقف بورڈ، سید امین الحسن جعفری، محمد فاروق حسین، محمد فرید الدین ‘ برٹش ڈپٹی ہائی کمشنر میک الیٹر، قونصل جنرل ایران متعینہ حیدرآباد حسن نوریان، قونصل جنرل ترکی برائے متعینہ حیدرآباد اردا وولوٹاز، مولانا قبول پاشاہ قادری شطاری، جناب عامر علی خان نیوز ایڈیٹر سیاست، مولانا سید نثار حسین حیدر آقا، ارکان وقف بورڈ ملک معتصم خان، وحیدالدین ایڈوکیٹ، میئر حیدرآباد بی رام موہن، ڈپٹی میئر مسٹر بابا فصیح الدین، صدورنشین کارپوریشن محمد اکبر حسین، عنایت علی باقری، زاہد یوسف، ایس اے علیم ، غیاث الدین بابو خان، ظفر جاوید، محمد اظہر جماعت اسلامی چیف اڈوائزر حکومت راجیو شرما، چیف سکریٹری ایس پی سنگھ، ڈی جی پی انوراگ شرما، کمشنر پولیس مہیندر ریڈی، ڈی سی پی سنٹرل زون زون جیول ڈیوس و دیگر علماء و مشائخین سرکاری عہدیدار شریک تھے۔ اے کے خان ‘ سید عمر جلیل سکریٹری اقلیتی بہبود، پروفیسر ایس اے شکور اسپیشل آفیسر حج کمیٹی کی راست نگرانی میں افطار کے انتظامات کئے گئے۔ مسٹر جاوید کمال نے کارروائی چلائی۔

TOPPOPULARRECENT