Saturday , November 18 2017
Home / شہر کی خبریں / ’’ حکومت یا جی ایچ ایم سی ‘‘ کس کو برتری ؟حج ہاوز سے متصل وقف مال کو رجسٹریشن فیس کی معافی پر کمشنر بلدیہ کی سردمہری

’’ حکومت یا جی ایچ ایم سی ‘‘ کس کو برتری ؟حج ہاوز سے متصل وقف مال کو رجسٹریشن فیس کی معافی پر کمشنر بلدیہ کی سردمہری

حیدرآباد۔ 16 ۔ ستمبر (سیاست نیوز) کمشنر گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن اور تلنگانہ حکومت میں کس کو برتری حاصل ہے؟ کیا کوئی عہدیدار حکومت کی جانب سے جاری کردہ احکامات کو نظر انداز کرسکتا ہے ؟ اگر کوئی عہدیدار حکومت کی جانب سے جاری کردہ جی او کو چار مہینے تک نظر انداز کرے اور احکامات کی تکمیل سے انکار کرے تو ظاہر ہے کہ اسے حکومت سے بالاتر سمجھا جائے گا۔ یوں تو حکومت کے کسی بھی جی او کا مقصد اس پر عمل آوری ہوتا ہے لیکن کمشنر گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن اقلیتوں سے متعلق ایک جی او پر عمل آوری گزشتہ 4 ماہ سے ٹال رہے ہیں اور زبانی طور پر انہوں نے احکامات پر عمل آوری سے انکار کردیا۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اقلیتوں سے متعلق مسئلہ کے سبب کمشنر بلدیہ بھی حکومت کے احکامات کو نظر انداز کر رہے ہیں۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ چار ماہ سے احکامات پر عمل آوری نہ ہونے کے باوجود حکومت کے اعلیٰ عہدیدار خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔

یہ مسئلہ حج ہاؤز نامپلی سے متصل گارڈن ویو وقف مال سے متعلق ہے۔ حکومت نے اس کامپلکس کے پلان کو منظوری کیلئے مقررہ 4کروڑ 60 لاکھ 50 ہزار 185 روپئے کی ادائیگی سے استثنیٰ دیا تھا لیکن مجلس بلدیہ ان احکامات کو ماننے کیلئے تیار نہیں۔ واضح رہے کہ فروری 2009 ء میں اس وقت کے چیف منسٹر وائی ایس راج شیکھر ریڈی نے حج ہاؤز سے متصل کھلی اراضی پر گارڈن ویو وقف مال کی تعمیر کا سنگ بنیاد رکھا تھا۔ اس وقت کی حکومت نے اراضی کی رجسٹریشن فیس 2 کروڑ 10 لاکھ روپئے معاف کردی تھی جس کے بعد تعمیری کام کا سنگ بنیاد رکھا گیا ۔

اس کامپلکس کے تحت 2 بیسمنٹ گراؤنڈ فلور اور 7 فلورس کی تعمیر کا منصوبہ تھا۔ وقف بورڈ کی جانب سے مجلس بلدیہ میں پلان داخل کیا گیا اور بلدی حکام نے وقف بورڈ کو پلان کی منظوری کیلئے بلڈنگ فیس کے طور پر 4 کروڑ 60 لاکھ 50 ہزار 185 روپئے داخل کرنے کا مشورہ دیا۔ وقف بورڈ نے حکومت سے نمائندگی کی کہ اس فیس سے استثنیٰ دیا جائے کیونکہ وقف بورڈ اس قدر بھاری رقم ادا کرنے کے موقف میں نہیں ہے ۔ حکومت کی اس نمائندگی پر پرنسپل سکریٹری میونسپل ایڈمنسٹریشن ایم جی گوپال نے 20 مئی 2015 ء کو جی او ایم ایس 77 جاری کرتے ہوئے مذکورہ فیس کی ادائیگی سے استثنیٰ دیا اور کمشنر گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کو کامپلکلس کی تعمیر کے پلان کی منظوری کی ہدایت دی گئی۔ 4 ماہ گزرنے کے باوجود آج تک کمشنر بلدیہ نے پلان کو منظوری نہیں دی اور اس عرصہ کے دوران وقف بورڈ کی جانب سے بارہا نمائندگی کی گئی۔ بتایا جاتا ہے کہ کمشنر بلدیہ سومیش کمار نے زبانی طور پر عہدیداروں سے کہا کہ اس قدر بھاری بلڈنگ فیس معاف کرنا ممکن نہیں ہے ۔ انہوں نے استدلال پیش کیا کہ انڈومنٹ ڈپارٹمنٹ سے بھی اس طرح کی فیس وصول کی جاتی ہے لہذا وقف بورڈ کو رعایت دینے کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔ اقلیتی بہبود کے عہدیداروں نے پلان کی منظوری کیلئے چیف سٹی پلانر کو بھی مکتوب روانہ کیا لیکن آج تک کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ مجلس بلدیہ کے اس رویہ کے باعث زیر تعمیر کامپلکس کا کام ٹھپ ہوچکا ہے اور گزشتہ 6 سال سے کامپلکس کی تعمیر زیر التواء ہے۔ وقف بورڈ حکام چاہتے ہیں کہ پلان کی منظوری کے بعد اس زیر تعمیر کامپلکس کو ڈیولپمنٹ کیلئے لیز پر دیا جائے۔ اقلیتی بہبود اور وقف بورڈ کے عہدیدار کمشنر بلدیہ کی سرد مہری اور جی او پر عمل آوری سے گریز کی پالیسی پر حیرت میں ہیں۔ اس مسئلہ کو چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ سے رجوع کرنے کی کوشش کی جارہی ہے تاکہ ان کے ذریعہ بلدی حکام پر پلان کی منظوری کے لئے دباؤ بنایا جاسکے۔ حکومت کی جانب سے بلڈنگ فیس کی معافی سے متعلق احکامات کی اجرائی کے چار ماہ گزرنے کے باوجود بلدی حکام کا عمل آوری سے گریز عہدیداروں کی من مانی کو ظاہر کرتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT