Saturday , December 15 2018

’’حیدرآبادی تہذیب ، محبت و مروت کا جواب نہیں ‘‘

اُردو میں مہارت حاصل کرنے والی یونیورسٹی آف ٹیکساس کی طالبات کے تاثرات
صاف ستھرا ماحول اور ذائقے بھی سارے ہندوستان میں مثالی

حیدرآباد میں یوپی جیسی ہندو ۔ مسلم کشیدگی نہیں : امریکی طالبہ

حیدرآباد۔ 11 جنوری (سیاست نیوز) دنیا میں بے شمار زبانیں بولی جاتی ہیں اور کچھ ایسے لوگ ہوتے ہیں جن میں اپنی مادری و قومی زبانوں کے ساتھ ساتھ دوسری زبانیں بھی سیکھنے کا جنون کی حد تک شوق پایا جاتا ہے۔ اس طرح کے مرد و خواتین اکثر ہمیں اور آپ کو سفارتی اُمور انجام دینے والے اداروں ، یونیورسٹیز اور حساس ایجنسیوں میں نظر آتے ہیں۔ جن کی مندارین (Mandarin) زبان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان ہے، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ مندارین بولنے والوں کی تعداد کا زیادہ تر تعلق ایک ہی ملک چین سے ہوگا جبکہ زیادہ بولی جانے والی زبانوں میں شاید اُردو ہی مندارین کا مقابلہ کرسکتی ہے۔ اُردو دنیا کے کونے کونے میں بولی جاتی ہے۔ اس میں اتنی طاقت ہے کہ وہ کسی کے دباؤ، تعصب و جانبداری کو بھی خاطر میں نہیں لاتی۔ مخالفین کی زبان پر بھی اس کے اشعار، محاورے اور مکالمے وغیرہ ہوتے ہیں۔ امریکہ میں بھی اُردو بڑی تیزی کے ساتھ مقبولیت حاصل کررہی ہے۔ یونیورسٹی آف ٹیکساس میں اُردو اور اس کی خالہ ’’ہندی‘‘ سکھانے اس کے شعبہ تقابلی ادب اور ایشین اسٹڈیز پر خصوصی توجہ مرکوز کرتا ہے۔ اس شعبہ کے پروفیسر سید اکبر حیدر کی قیادت میں اردو اور ہندی سیکھ رہے امریکی طلباء و طالبات کا ایک وفد ہر سال حیدرآباد کا دورہ ضرور کرتا ہے جس میں دفتر روزنامہ سیاست کا دورہ بھی شامل ہوتا ہے۔ دفتر سیاست میں مرانڈہ ایڈکنس، ڈینل، اپانا، کورٹن ناکن اور پیٹن یو لہورن کا خیرمقدم کیا گیا۔ راقم الحروف سے بات چیت میں ان چاروں طالبات نے بتایا کہ اُردو ایک شیریں زبان ہے اور عالمی سطح پر مقبول ترین زبانوں میں اس کا شمار ہوتا ہے۔ امریکہ میں بھی اُردو بولنے والوں کی غیرمعمولی تعداد پائی جاتی ہے۔ اردو زبان دراصل خود میں ایک ایسی تہذیب کو سموئے ہوئے ہے جسے گنگا جمنی تہذیب کہتے ہیں۔ یہ زبان کسی سے دور نہیں ہوتی۔ کسی کو دور نہیں کرتی بلکہ اُردو اب اس کی شاعری، نغمے، غزلیں، نظمیں بلالحاظ مذہب و علاقہ سب کو قریب کرتے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں مرانڈہ اڈکنس نے بتایا کہ وہ ہندوستان میں ایک سالہ تربیتی پروگرام کے تحت لکھنؤ اور جئے پور میں رہ کر اردو اور ہندی سیکھ رہی ہیں اور خوشی کی بات یہ ہے کہ ایک طالبہ نے یہ شعر سناکر ثابت کردیا کہ اُردو والوں کو فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔
نکتہ چیں ہے غمِ دل اس کو سنائے نہ بنے
کیا بنے بات جہاں بات بنائے نہ بنے
ان چاروں امریکی طالبات نے اُردو سیکھ بھی لی ہے اور اُردو کو اُردو کی طرح بڑی نزاکت سے بولتی ہیں۔ مرنڈ السانیات پڑھتی ہیں۔ اس بات میں وہ کہتی ہیں کہ انہیں زبانیں اچھی لگتی ہیں۔ وہ پی ایچ ڈی کرنے کی خواہاں ہے۔

TOPPOPULARRECENT