Friday , November 24 2017
Home / شہر کی خبریں / حیدرآبادی نوجوان اسمٰعیل محمد کو امریکہ میں سی آئی اور لیڈر شپ اسکالر شپ

حیدرآبادی نوجوان اسمٰعیل محمد کو امریکہ میں سی آئی اور لیڈر شپ اسکالر شپ

آئی ٹی ماہر کی 1000 سے زائد ماہرین کی جانب سے ستائش ،سیاست کی ملی خدمات مثالی
حیدرآباد ۔ 21 نومبر (محمد ریاض احمد) اولاد کی تعلیم و تربیت میں والدین کا اہم رول ہوتا ہے۔ ماں باپ کی خصوصی توجہ اولاد کو غیرمعمولی طور پر معاشرہ میں بلند و بالا مقام، خاندان اور معاشرہ کیلئے رحمت کا باعث بن جاتی ہے۔ ہمارے شہر حیدرآباد فرخندہ بنیاد کو اس بات کا اعزاز حاصل ہیکہ یہاں والدین اپنے بچوں کی دینی و دنیاوی تعلیم ان کے اخلاق و کردار کو سجانے سنوارنے پر خصوصی توجہ مرکوز کرتے ہیں جس کے باعث حیدرآبادی نوجوان اپنی صلاحیتوں کا لوہا منواتے ہوئے دنیا بھر میں اپنے والدین، شہر حیدرآباد اور ہندوستان کے ساتھ ساتھ ملت کا نام روشن کررہے ہیں۔ ایسے ہی قابل ترین اور باصلاحیت نوجوانوں میں اسمعیل محمد بھی شامل ہیں۔ وہ جارجیا اسٹیٹ یونیورسٹی اٹلانٹا امریکہ کے بے ہیک رابنسن کالج آف بزنس میں تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ وہ اس باوقار یونیورسٹی سے انفارمیشن سسٹمس میں ماسٹر کررہے ہیں۔ جاریہ ماہ گچی باؤلی کے رہنے والے محمد عبدالساجد اور محترمہ افسر قریشی کے اس ہونہار فرزند کو جارجیا سی آئی او لیڈر شپ ایوارڈ (بشکل اسکالر شپ) عطا کیا گیا جو کسی بھی ہندوستانی کیلئے ایک بہت بڑا اعزاز ہے۔ 13 نومبر کو امریکہ کے زائد از 1000 سی آئی اوز اور سی ای اوز اور اوراکل کے چیف ایگزیکیٹیو آفیسر مسٹر مارک ہرڈکی موجودگی میں یہ ایوارڈ عطا کیا گیا۔ اس ضمن میں اٹلانٹا بزنس کرانیکل میں اسمعیل محمد کے بارے میں ایک تفصیلی مضمون بھی شائع کیا گیا۔ اسمعیل محمد کے مطابق انہوں نے جارجیا یونیورسٹی میں اپنی اسٹڈیز کا آغاز جنوری 2015ء میں کیا۔ وہ کالج کے کمپیوٹر انفارمیشن سسٹم ڈپارٹمنٹ کے صدرنشین ڈاکٹر بالا سبرامنین رمیش کی نگرانی میں اپنا تحقیقی کام کررہے ہیں۔ ان کی محنت و جستجو اور صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے ہی یونیورسٹی اور اس کے انفارمیشن سسٹم ڈپارٹمنٹ نے اس باوقار اسکالر شپ کیلئے نامزد کیا۔ اپنی پیشہ ورانہ سرگرمیوں کے بارے میں اسمعیل محمد نے بتایا کہ جارجیا یونیورسٹی کے ماسٹر پروگرام میں شمولیت سے قبل انہوں نے حیدرآباد میں ساڑھے چار سال اور سنگاپور میں تین برسوں تک ٹیکنالوجی کے مختلف اداروں میں اہم ذمہ داریاں نبھائیں۔ اس طرح انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ایک کنسلٹنٹ تجزیہ نگار اور پروگرامر کی حیثیت سے عالمی تجربہ حاصل کرنے کا انہیں موقع ملا۔ انہوں نے عالمی سطح کی کمپنیوں میں منیجر اور ماڈیول لیڈر کی حیثیت سے کام کرتے ہوئے ڈیزائن، تجزیہ سی ایس ڈی ایل (کمپلیٹ سافٹ ویر ڈیولپمنٹ لائف ساسکل) اور بزنس پروس امپرومنٹس کے علاوہ ڈاٹا مائننگ اور انالائیٹکس جیسے شعبوں میں غیرمعمولی مہارت کا مظاہرہ کیا۔ انڈر گریجویٹ اسٹڈیز کے دوران اسٹوڈنٹ چیاپٹر کے وہ چیرمین بھی رہیں۔ اپنی اس شاندار کامیابی کیلئے اسمعیل محمد نے بارگاہ رب العزت میں سجدہ شکر بجا لایا اور کہا کہ اللہ رب العزت نے انہیں جس کام کا موقع دیا ہے اس کیلئے اپنے رب کا جتنا شکر کیا جائے کم ہے۔ اسمعیل محمد کے مطابق آج وہ جس مقام پر ہیں وہ دراصل ان کے ماں باپ کی محنت اور دعاؤں کا نتیجہ ہے۔ ان لوگوں نے زندگی کے ہر موڑ پر ان کی حوصلہ افزائی کی۔ وہ اپنی شریک حیات سے لیکر بھائیوں کو بھی اپنی کامیابی کا حصہ قرار دیتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہیکہ اسمعیل محمد ہر روز سیاست اخبار کا آن لائن مطالعہ کرنا نہیں بھولتے۔ روزنامہ سیاست اور ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خان کے بارے میں ان کا کہنا ہیکہ وہ سیاست کی جانب سے ملت کی فلاح و بہبود بالخصوص تعلیمی شعبہ میں جو کام کررہے ہیں، اس سے بہت متاثر ہیں۔ دوسری جانب اپنے بیٹے کی کامیابی پر مسرور محترمہ افسر قریشی نے راقم الحروف کو بتایا کہ اسمعیل محمد کے دیگر دو بھائی سعید احمد اور محمدالحسن نے آئی آئی ٹی کھڑکپور سے آئی آئی ٹی ایم کیا ہے۔ ان میں ایک امریکہ میں ہی ایم ایس کررہے ہیں جبکہ ان کے خاوند محمد عبدالساجد گجویل کے قریب کاغذ گوڑہ میں ایک دینی مدرسہ چلا رہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT