Friday , June 22 2018
Home / کھیل کی خبریں / حیدرآباد آئی پی ایل 7میں بہتر مظاہرے کیلئے پُرعزم

حیدرآباد آئی پی ایل 7میں بہتر مظاہرے کیلئے پُرعزم

حیدرآباد۔11اپریل(سیاست ڈاٹ کام ) ٹیم کو ایک متوازن حریف قرار دیتے ہوئے سن رائیزرس حیدرآباد کے چیف کوچ ٹام موڈی اور مینٹر کرشنماچاری سریکانت نے آج اس اعتماد کا اظہارکیا ہے کہ 16اپریل کو ابوظہبی میں شروع ہونے والے آئی پی ایل کے ساتویں سیزن کیلئے ٹیم بہتر مظاہرہ کرے گی۔ موڈی نے یہاں میڈیا نمائندوں سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ یقیناً

حیدرآباد۔11اپریل(سیاست ڈاٹ کام ) ٹیم کو ایک متوازن حریف قرار دیتے ہوئے سن رائیزرس حیدرآباد کے چیف کوچ ٹام موڈی اور مینٹر کرشنماچاری سریکانت نے آج اس اعتماد کا اظہارکیا ہے کہ 16اپریل کو ابوظہبی میں شروع ہونے والے آئی پی ایل کے ساتویں سیزن کیلئے ٹیم بہتر مظاہرہ کرے گی۔ موڈی نے یہاں میڈیا نمائندوں سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ یقیناً گذشتہ برس ہم نے آئی پی ایل میں بہتر مظاہرے کئے ہیں حالانکہ سن رائیزرس حیدرآباد کیلئے وہ پہلا سیزن تھا تاہم اس مرتبہ کافی پُرعزم ہے کہ ٹیم جو کہ کافی متوازن ہے وہ حالات سے خود کو جلد ہم آہنگ کرتے ہوئے بہتر نتائج فراہم کرے گی ۔ سن رائیزرس حیدرآباد گذشتہ برس پلے آف کے مرحلے تک رسائی حاصل کی تھی ۔ سریکانت نے اس اُمید کا اظہار کیا کہ ٹیم ایک مکمل اکائی بن چکی ہے اور اُمیدہے کہ گذشتہ برس کی طرح آئی پی ایل 7میں بھی ٹیم بہتر مظاہرہ کرے گی ۔ انہوں نے مزید کہاکہ جہاں تک ہمارا تعلق ہے میں سمجھتا ہوں کہ ٹیم نے بہتر مظاہرہ کیا ہے ۔ انہوں نے مزید کہاکہ ٹیم کو شکھر دھون ‘ ایشانت شرما اورکرن شرما کی خدمات دستیاب ہیں جب کہ امیت مشرا کی موجودگی بھی ٹیم کو مستحکم بنارہی ہے ۔

بیرونی کھلاڑیوں کا تذکرہ کریں تو ڈیرین سیمی اور دنیا کے نمبر ایک فاسٹ بولر ڈیل اسٹین ٹیم کو فتوحات دلوانے والے کھلاڑی ہیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ٹیم کا سب سے مثبت پہلو کھلاڑیوں کا بحیثیت اکائی اور یکجا ہوکر مظاہرہ کرنا ہے جس کے گذشتہ برس بھی بہتر نتائج حاصل ہوئے تھے ۔ دیگر ٹیموں کے متعلق سریکانت کا کہنا ہے کہ ہر ٹیم بہتر منصوبہ کے تحت ٹورنمنٹ میں شرکت کرے گی اور آئی پی ایل کی سب سے بہتر خوبی یہ ہے کہ یہ ایک متوازن ٹورنمنٹ ہے۔ گذشتہ چند برسوں کے دوران یہ گمان کیا جارہا تھا کہ چند ٹیمیں کمزور ہیں لیکن آئی پی ایل کے ساتویں ایڈیشن کیلئے کھلاڑیوں کے انتخاب کے بعد ہر ٹیم اب متوازن ہوچکی ہے اور امید کی جاسکتی ہے کہ متوازن اور طاقتور ٹیموں کے درمیان ایک مسابقتی ٹورنمنٹ دیکھنے کو ملے گا ۔ ابتدائی مرحلے کے مقابلوں کا متحدہ عرب امارات میں انعقاد ‘پھر ٹورنمنٹ کی ہندوستانی منتقلی پر تبصرہ کرتے ہوئے سریکانت نے کہا کہ کھلاڑیوں اور ٹیموں کیلئے ٹورنمنٹ کا دو مختلف ممالک میں انعقاد کوئی بڑامسئلہ نہیں ہوگاکیونکہ دونوں مقامات کی وکٹوں میں تقریباً مماثلت پائی جاتی ہے ۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان میں عام انتخابات کے پیش نظر ٹورنمنٹ دو مختلف مقامات میں منعقد ہورہا ہے لیکن اس سے کھلاڑیوں کوحالات سے خود کو ہم آہنگ کرنے میں زیادہ مشکلات درپیش نہیں ہوں گی۔ سریکانت نے اپنے وقت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب ہم شارجہ میں کرکٹ کھیلتے تھے تو اُس وقت کی وکٹ اور ہندوستان کی وکٹ میں کوئی زیادہ فرق نہیں رہتا تھا اور اسی طرح امید کی جاسکتی ہے کہ اس مرتبہ بھی دونوں ممالک کی وکٹیں ایک جیسی ہوںگی ۔ ٹیم کے سابق بیٹسمین اور مینٹر وی وی ایس لکشمن نے بھی سن رائیزرس حیدرآباد کے بیٹنگ اور بولنگ شعبہ کا تذکرہ کرتے ہوئے کہاکہ ارون فنچ ‘ ڈیوڈ وارنر ‘ عرفان پٹھان اور بھونیشور کمار کی بدولت ٹیم کو کافی تقویت ملی ہے۔ موڈی نے عرفان پٹھان اور بھونیشور کمارکو پسندیدہ کھلاڑی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی موجودگی سے ٹیم کا بولنگ شعبہ مزید طاقتور ہوچکا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT