Wednesday , July 18 2018
Home / Top Stories / حیدرآباد اور اضلاع میں طوفانی ہواؤں کیساتھ موسلادھار بارش ، ایک ہلاک

حیدرآباد اور اضلاع میں طوفانی ہواؤں کیساتھ موسلادھار بارش ، ایک ہلاک

ایک زخمی، شدید مالی نقصانات ، کئی درخت اُکھڑ گئے ، آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید بارش کی پیش قیاسی

حیدرآباد۔17مئی (سیاست نیوز) شہر حیدرآباد کے علاوہ شہر کے اطراف کے اضلاع میں تیز ہواؤں کے ساتھ موسلادھار بارش کے سبب شدید تباہی اور نقصانات پیش آئے ہیں ۔ شہر میں اچانک بارش کے نتیجے میں برقی تار کی زد میں آکر ایک شخص عثمان گنج مسجد کے قریب ہلاک ہوگیا۔ بتایا جاتا ہے کہ 45 سالہ قاسم علی ساکن ضیاء گوڑہ عثمان گنج مسجد کے قریب کھلے ہوئے برقی تاروں کی زد میں آگیا اور برسر موقع ہلاک ہوگیا جبکہ اس کا بھائی انور علی شدید طور پر جھلس گیا۔ پولیس نے قاسم علی کی نعش کو دواخانہ عثمانیہ کے مردہ خانہ منتقل کیا اور زخمی کو علاج کیلئے شریک کیا گیا۔شہر اور اضلاع میں ہوئی شدید بارش اور تیز ہواؤں کے سبب درجہ حرارت میں بھاری گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے اور موسم میں ٹھنڈک پیدا ہوچکی ہے۔ شہر حیدرآباد کے کئی علاقوں میں تیز ہواؤں ‘ گھن ‘ گرج کے ساتھ ہوئی بارش کے سبب کئی درخت اکھڑ گئے جبکہ پرانے شہر میں والٹا ہوٹل مغلپورہ کے روبرو واقع شامی کباب کی معروف شمع ہوٹل کا مخدوش حصہ منہدم ہوگیا لیکن اس واقعہ میں بھی کسی جانی نقصان یا زخمی ہونے کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔ یاقوت پورہ‘ چارمینار‘ بہادرپورہ‘ ملک پیٹ ‘ نامپلی‘ جوبلی ہلز‘ مہیشورم‘ صنعت نگر‘ سکندرآباد حلقہ جات اسمبلی کے مختلف علاقوں کی مساجد میں گندہ پانی داخل ہوجانے کی شکایات موصول ہوئی ۔ دونوں شہروں کے کئی علاقوں کی مساجد میں موریوں کے ابل پڑنے سے مساجد میں گندہ پانی داخل ہونے کی شکایات موصول ہوئی لیکن ان شکایات کی سماعت کرنے کیلئے مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کا عملہ موجود نہیں تھا جس کے سبب مساجد میں مصلیوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

مسجد محمدیہ خان نگر سلطان شاہی میں مسجد کے اندرونی حصہ تک بھی بارش اور سڑک سے بہنے والا پانی داخل ہونے کی شکایات موصول ہوئی ہیں۔ تالاب کٹہ‘ رین بازار‘ عیدی بازار ‘ سنتوش نگر ‘ نشیمن نگر‘ سلطان شاہی‘ کاروان‘ گولکنڈہ‘ بنجارہ ہلز‘ فرسٹ لانسرز ‘ محمدی لانسرز‘ ٹولی چوکی کے علاوہ چارمینار ‘ منڈی میر عالم‘ چادر گھاٹ ‘ زہرہ نگر‘ قطب اللہ پور‘ پرانی حویلی ‘ دارالشفاء ‘ شاہ علی بنڈہ‘ فلک نما‘ کالا پتھر ‘ جہاں نما‘ انجن باؤلی ‘ کوکٹ پلی ‘ اکبر باغ‘ سعید آباد‘ آئی ایس سدن‘ مانصاحب ٹینک‘ مہدی پٹنم‘ آصف نگر‘ کالاڈیرہ‘ نامپلی‘ آغاپورہ‘ بیگم بازار اور دیگر علاقو ںمیں بھی کئی مقامات پر بارش کا پانی جمع ہونے کی شکایات موصول ہوئی ہیں اور ان شکایات کو دور کرنے کیلئے مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے ایمرجنسی عملہ کو متحرک کردیا گیا لیکن کئی علاقو ںمیں بلدی عملہ کے فوری نہ پہنچنے کے سبب دکانوں اور مکانات میں پانی داخل ہوجانے کی شکایات موصول ہوئی ہیں۔ شہر حیدرآباد میں دوپہر سے ہی آسمان پر سیاہ بادل منڈلانے لگے تھے اور 3بجے کے قریب قریب مکمل شہر میں سیاہ بادل کے سبب اندھیرا چھا گیا اور اس کے فوری بعد تیز ہواؤں کے ساتھ بارش کا سلسلہ شروع ہوا جو مسلسل 1گھنٹے تک جاری رہا۔ بارش کے دوران شہر میں کئی مقامات پر قدیم مخدوش عمارتوں کی چھتوں کے ٹکڑے منہدم ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔اسی طرح بیشتر مقامات پر درختوں کے سائے میں کھڑی کی گئی موٹر سیکلوں اور کاروں کے علاوہ آٹو رکشاؤں پر درخت گر پڑنے سے ان گاڑیوں کا نقصان ہوا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ تقریباً 162 درخت جڑ سے اکھڑ کر گرپڑے اور 38 مقامات پر پانی جمع ہونے کی اطلاعات ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید بارش کی پیش قیاسی کی جا رہی ہے اور آئندہ 24گھنٹوں میں 35تا40 کیلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کا خدشہ ہے ۔ آج ہوئی بارش کے دوران شہر کے علاوہ اطراف کے اضلاع میں 35کیلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں ریکارڈ کی گئی ہیں۔مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے عہدیداروں نے بتایا کہ محکمہ موسمیات کی پیش قیاسی کے بعد ایمر جنسی عملہ کو متحرک رکھا گیا ہے اور مساجد کے علاوہ سڑکوں اور رہائشی علاقوں میں صفائی کے انتظامات کو یقینی بنانے کے اقدامات کئے جائیں گے۔حیدرآباد و سکندرآباد میں ہونے والی تیز بارش اور ہواؤں کے سبب ہونے والے نقصانات کا جائزہ لینے کے اقدامات کئے جا رہے ہیں ۔

TOPPOPULARRECENT