Sunday , December 17 2017
Home / Top Stories / حیدرآباد اور اضلاع میں ڈینگو اور ملیریا کا خطرناک اضافہ

حیدرآباد اور اضلاع میں ڈینگو اور ملیریا کا خطرناک اضافہ

سرکاری اور خانگی دواخانوں میں مریضوں کی کثرت ، حکومت کی لاپرواہی آشکار ، فوری اقدامات کی ضرورت
حیدرآباد۔ 8 اگسٹ ( سیاست نیوز ) ریاست تلنگانہ میں ڈینگو‘ ملیریا اور دیگر وبائی امراض میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوتا جا رہا ہے لیکن سرکاری سطح پر اس کی تصدیق میں برتی جانے والی لاپرواہی کے سبب عوام میں یہ الجھن پائی جا رہی ہے کہ جو بخار چل رہے ہیں وہ ڈینگو یا ملیریا ہیں یا نہیں ؟ ریاست تلنگانہ کے تمام اضلاع ان بیماریوں کی لپیٹ میں آچکے ہیں اور ان بیماریوں کے سبب ریاست کے سرکاری دواخانوں میںمریضوں کی تعداد میں روز افزوں اضافہ ہوتا جا رہا ہے جبکہ خانگی دواخانوں میں بھی ڈینگو کے مریضوں کا علاج جاری ہے تاہم ان مریضوں کی تشخیص و تصدیق کے لئے ذمہ دار سرکاری ادارے آئی پی ایم سے رابطہ نہیں کیا جا رہا ہے جس کی وجہ سے یہ اطلاعات منظر عام پر نہیں آرہی ہیں۔ حکومت کی جانب سے فراہم کردہ تفصیلات کے بموجب جاریہ سال ماہ جولائی کے اختتام تک صرف 77مریضوں کی تشخیص و نشاندہی ہو پائی ہے جبکہ خانگی کارپوریٹ دواخانوں کا دعوی ہے کہ آئے دن ڈینگو جیسی خطرناک بیماری سے مریض رجوع ہو رہے ہیں جہاں ان کا مؤثر علاج خانگی دواخانوں میں کیا جا رہا ہے۔ تلنگانہ کے مختلف اضلاع کے علاوہ دونوں شہروں میں بھی شدید بخار‘ کھانسی ‘ نزلہ اور دیگر امراض سے متاثرین کی بڑی تعداد دواخانوں سے رجوع ہو رہی ہے

اس کے باوجود شہر میں حکومت کی جانب سے ان وبائی امراض کو پھیلنے سے روکنے کے اقدامات ہوتے نظر نہیں آرہے ہیں۔ دونوں شہروں کے سرکاری دواخانوں میں حالیہ عرصہ میں ان شکایات کے ساتھ رجوع ہونے والوں کی تعداد میں زبردست اضافہ ہوا ہے اور کارپوریٹ دواخانوں کے ذمہ داران کا کہنا ہے کہ دونوں شہروں میں ان کے پاس رجوع ہونے والے بیشتر مریض ڈینگو یا ملیریا جیسے امراض میں مبتلاء ہیں ۔ کارپوریٹ دواخانو ںکے دعوؤں کو سچ مانا جائے تو دونوں شہروں میں اب تک سینکڑوں افراد ڈینگو سے متاثر ہو چکے ہیں اور ان میں 4کی اموات واقع ہو چکی ہیں لیکن حکومت کی جانب سے عدم تصدیق کی بنیاد پر یہ کہنا دشوار ہے۔ فیور ہاسپٹل‘ نیلوفر دواخانہ‘ عثمانیہ دواخانہ‘ گاندھی ہاسپٹل کے علاوہ شہر کے بعض علاقوں میں موجود اربن ہیلت پوسٹ سے بھی ان علامات کے ساتھ مریض رجوع ہو رہے ہیں لیکن بعض دواخانوں کی یہ صورتحال ہے کہ ان دواخانوں میں مریضوں کو شریک کرنے کیلئے بستر موجود نہیں ہیں اور آؤٹ پیشنٹ کی حیثیت سے رجوع ہونے والے مریضوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ریاست تلنگانہ میں موجود تما م 10اضلاع میں وبائی امراض میں مبتلاء شہریوں کے مفت علاج و معالجہ کا اعلان کیا جانا ضروری ہوتا جا رہا ہے کیونکہ جو ڈاکٹرس ان مریضوں کا علاج کر رہے ہیں

اب وہ خود یہ کہنے لگے ہیں کہ شہر حیدرآباد میں صحت عامہ و حفظان صحت کیلئے کوئی اقدامات نہیں ہیں جس کے سبب بچوں کو پانی ابال کر پلانے اور غذاؤں میں احتیاط ناگزیر ہے۔ ماہر اطباء کا کہنا ہے کہ تمام 10 اضلاع سے موصول ہو رہی اطلاعات کو دیکھتے ہوئے ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ ریاست تلنگانہ میں ’’طبی ایمرجنسی ‘‘ کا نفاذ ناگزیر ہو چکا ہے۔ شہر حیدرآباد کے ایک کارپوریٹ ہاسپٹل کے ذمہ دار نے بتایا کہ گذشتہ دو ماہ کے دوران ان کے دواخانوں میں زائد از 60ڈینگو کے متاثرین کا علاج کیا گیا ہے اور ملیریا سے متاثرین کی تعداد میں بھی زبر دست اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ نیلوفر ہاسپٹل کے ذرائع کے بموجب ماہرین اطفال ان حالات سے تشویش میں مبتلاء ہیں اور علاج پر بہتر توجہ مرکوز کرنے پر زور دے رہے ہیں۔ فیور ہاسپٹل میں گذشتہ کے دوران کالیرا(ہیضہ) کے متاثرین کے رجوع ہونے کے بعد ہی چوکسی اختیار کی جانی چاہئے تھی لیکن ایسا نہیں کیا گیا جس کی بنیادی وجہ بتائی جاتی ہے کہ عوام میں کسی قسم کی وحشت یا خوف نہ پیدا ہو اس کیلئے سرکاری طور پر اس کا اعلان نہیں کیا گیا

لیکن دواخانہ نے اس بات کی توثیق کر دی کہ ہیضہ کے متاثرین دواخانہ سے رجوع ہوئے ہیں۔سرکاری سطح پر ہندستان سے ہیضہ کے خاتمہ کا اعلان کیا گیا تھا لیکن اب شہر حیدرآباد میں ہیضہ کی بیماری میں مبتلاء مریضوں کی نشاندہی نے حقیقت کا انکشاف کر دیا۔ دونوں شہروں کے دواخانوں میں بڑھتے مریضوں کی تعداد کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جا رہا ہے کہ ان وبائی امراض کو مزید پھیلنے سے فوری طور پر روکا جانا ضروری ہے۔ حفظان صحت اور صحت عامہ کے متعلق حکومت کی جانب سے اختیار کردہ لاپرواہی شہریوں کی زندگی کیلئے خطرہ کا باعث بن سکتی ہے اسی لئے یہ ضروری ہے کہ حکومت فوری طور پر متحرک ہوتے ہوئے اقدامات کا آغاز کرے اور حالات کو بہتر بنانے کی سمت توجہ مرکوز کرے کیونکہ آئے دن اسکولوں میں بچوں کے ان وبائی امراض میں مبتلاء ہونے کی اطلاعات موصول ہور ہی ہیں اور متاثرہ بچوں سے یہ بیماریاں دوسروں تک پھیلنے لگی ہیں اسی لئے ان وبائی امراض پر کنٹرول کے لئے ضروری اقدامات کئے جانے ضروری ہیں۔

TOPPOPULARRECENT