Sunday , August 19 2018
Home / شہر کی خبریں / حیدرآباد اور مضافات کی غیر آباد مساجد کو آباد کرنے پر توجہ

حیدرآباد اور مضافات کی غیر آباد مساجد کو آباد کرنے پر توجہ

نادرگل میں قدیم مسجد میں نماز کی ادائیگی ، محمد سلیم چیرمین تلنگانہ وقف بورڈ کی دلچسپی
حیدرآباد۔ 7 ڈسمبر (سیاست نیوز) صدرنشین تلنگانہ وقف بورڈ محمد سلیم نے حیدرآباد اور اس کے مضافاتی علاقوں میں غیر آباد تاریخی مساجد کو آباد کرنے پر توجہ مرکوز کی ہے۔ انہوں نے آج نادرگل کے علاقے میں قدیم قطب شاہی مسجد میں نماز ظہر کے ساتھ اسے آباد کرنے میں اہم رول ادا کیا۔ گزشتہ تقریباً 70 برسوں سے یہ مسجد غیر آباد تھی جو کہ 400 سالہ قدیم بتائی جاتی ہے۔ مقامی افراد نے مسجد کو آباد کرنے کے لیے اپنے طور پر مساعی کی جسے صدرنشین وقف بورڈ کی مکمل تائید حاصل ہوئی۔ صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم نے چیف ایگزیکٹیو آفیسر ایم اے منان فاروقی کے ہمراہ مسجد قطب شاہی کا دورہ کرتے ہوئے مقامی عوام کی ستائش کی جنہوں نے مسجد کو آباد کرنے میں دلچسپی دکھائی ہے۔ صدرنشین وقف بورڈ نے نماز ظہر کی امامت کی اور اس طرح مسجد میں باقاعدہ نمازوں کا آغاز ہوگیا۔ محمد سلیم نے بتایا کہ وقف بورڈ کی جانب سے مسجد میں وضو خانے اور باتھ رومس تعمیر کیئے جائیں گے ۔ اس کے علاوہ امام اور موذن کی تنخواہ ادا کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ مقامی افراد پر مشتمل کمیٹی اس مسجد کی نگرانی کرے گی۔ یہ مسجد درج اوقاف ہے اور اس کے تحفظ میں مقامی افراد نے اہم رول ادا کیا۔ محمد سلیم نے کہا کہ وہ بہت جلد شیخ پیٹ میں واقع قطب شاہی مسجد کو آباد کریں گے۔ یہ مسجد آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کے تحت ہے اور وہ عہدیداروں سے بات چیت کے بعد اس مسجد میں باقاعدہ نمازوں کا آغاز کریں گے۔ انہوں نے کہاکہ گولکنڈہ قلعہ کے دروازے کے پاس ایک مسجد پر غیر سماجی عناصر کا قبضہ ہے۔ وہ اس مسجد کو بھی آزاد کرتے ہوئے باقاعدہ نمازوں کا آغاز کریںگے۔ انہوں نے کہا کہ شہر اور مضافات میں جہاں کہیں بھی غیر آباد مساجد ہیں اس کی اطلاع اگر وقف بورڈ کو دی جائے تو وہ انہیں آباد کرنے کے اقدامات کریں گے۔ محمد سلیم نے کہا کہ مساجد کو آباد کرنا اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کا اہم ذریعہ ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ وقف بورڈ اس کام میں اپنا رول ادا کرے۔ صدرنشین وقف بورڈ نے کہا کہ آئندہ اجلاس میں وہ لاوارث مسلم میتوں کی تدفین کے سلسلہ میں تجویز پیش کریں گے۔ بورڈ کی منظوری حاصل کرتے ہوئے لاوارث میتوں کی تدفین کا انتظام کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ تجہیز و تدفین کے انتظامات کے علاوہ جہاں کہیں قبرستان میں جگہ ہوگی قبر کے لیے جگہ فراہم کی جائے گی۔

TOPPOPULARRECENT