Monday , December 18 2017
Home / مضامین / حیدرآباد جو کل تھا حکیم میر مظفر علی خان

حیدرآباد جو کل تھا حکیم میر مظفر علی خان

محبوب خان اصغر
’’بحیثیت طبیب مجھے یہ کہنے میں کوئی عار یا تامل نہیں ہے کہ سرزمین دکن پر حکمرانی کرنے والوں میں سلطنت مغلیہ کے بعد سلاطین آصفیہ نے جو خدمات انجام دیں ان میں قابل ذکر طب کی ترقی ہے ۔ عہد آصفیہ میں طبابت کو جو وسعت دی گئی وہ کسی سے مخفی نہیں‘‘ ۔ جی ہاں ، یہ خیالات حاذق حکیم صاحبزادہ نواب میر مظفر علی خان کے ہیں ۔ ہم نے حکیم صاحب کو ’’حیدرآباد جو کل تھا‘‘ کے موضوع پر اظہار خیال کیلئے روزنامہ ’’سیاست‘‘ کے اسٹوڈیو میں مدعو کیا تھا ۔ ماہ صیام میں بحالت صوم انکی تشریف آوری پر ہم نے ان سے اظہار تشکر کیا اور ان سے حیدرآباد کے ماضی سے متعلق سوال کیا تو انہوں نے بتایا کہ یہاں  ہندو مسلم تعلقات ہمیشہ ہی مضبوط رہے اور ہندو مسلم رواداری ، حسن سلوک اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی مثالی رہی۔ یونانی طریقہ علاج اور اس پیشہ پر ایک مخصوص طبقہ کی اجارہ داری پر اٹھائے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے شد و مد سے تردید کی اور کہا کہ قدیم زمانے میں بھی مختلف طبقے اور مذہب کے یونانی اطباء ہوا کرتے تھے ۔ ڈاکٹر گنگا شنکر لال ، ڈاکٹر ساکت راماراؤ ، ڈاکٹر کیسر موہن ، ڈاکٹر سروجہ آستھانہ ، ڈاکٹر منموہن سنگھ ، ڈاکٹر راج موہانی وغیرہ کا شمار اپنے عصر کے حاذق حکماء میں ہوا کرتا تھا اور ان کے مطب پر جو مرجوعہ ہواکرتا تھا ان میں بھی ہندو مسلم کے علاوہ دیگر فرقوں کے مریض بھی شامل رہتے تھے جن کا کشادہ قلبی کے ساتھ علاج کیا جاتا تھا جس سے اس پیشے کی شفافیت کا اظہار ہوتا ہے ۔ حیدرآباد میں طب یونانی کے آغاز اور ارتقاء کی بابت حکیم میر مظفر علی خان نے بتایا کہ میر نظام علی خان آصف جاہ سوم نے اطباء کی بڑی قدردانی کی اور یہی سبب تھا کہ ملک کے مختلف گوشوں سے اطباء حضرات نے حیدرآباد دکن کا رخ کیا ۔ حکیم صاحب نے یاد رفتگان کو تازہ کرتے ہوئے بتایا کہ سلطان میر نظام علی خان بیمار ہوگئے تھے ماہرین طب کا ایک گروہ آپ کی خدمت پر مامور کردیا گیا اور وہ بہت جلد شفایاب ہوگئے ۔ انہوں نے جشن صحت منایا اور اطباء کو انعامات سے سرفراز فرمایا ۔ آصف جاہ ثانی کے بعد نواب ناصر الدولہ آصف جاہ رابع نے طب یونانی کو فروغ دینے کیلئے مدرسہ طبابت کا قیام عمل میں لایا ۔ غالباً 1845 کی بات ہے مذکورہ مدرسہ میں ڈاکٹری کی تعلیم اردو میں دی جاتی تھی ۔ ڈاکٹر ارسطو یار جنگ اور ڈاکٹر لقمان جیسی  نابغہ روزگار ہستیاں اسی مدرسے کی دین ہیں۔

حکیم صاحب نے سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے بتایا کہ ان کی ابتدائی تعلیم مدرسہ اعزہ میں ہوئی ۔ ان دنوں صرف دو ہی مدرسے تھے ایک اعزہ اور دوسرا عالیہ ۔ ان کے والد محترم صاحبزادہ میر وزارت علی خان نے ان کیلئے مدرسہ اعزہ کا انتخاب کیا ۔ حکیم صاحب کے بموجب ان کا داخلہ مدرسہ اعزہ میں اعلی حضرت نواب میر عثمان علی خان آصف سابع کے فرمان سے ہوا  ۔اس مدرسے میں صاحبزادہ میر منیر علی خان اور صاحبزادہ تیمور علی خان کی صحبت میسر آئی ۔ ذریعہ تعلیم اگرچہ کہ اردو تھا مگر انگریزی بھی پڑھائی جاتی تھی ۔ انہیں جید اساتذہ میسر آئے تھے ۔ مسٹر شرما ،مسٹر ایر کے شاگرد ہونے پر افتخار کرنے والے حکیم صاحب نے بتایا کہ اردو کے ممتاز رباعی گو شاعر حضرت امجد حیدرآبادی نے انہیں کچھ دن اردو سکھائی اور پڑھائی ۔ بعد میں اسی مدرسہ میں حضرت خلیل اللہ حسینی مرحوم کے بھی وہ تلمیذ رہے ۔ حضرت امجد کا طرز اس قدر عمدہ ہوا کرتا تھا کہ وقت گزرنے کا احساس ہی نہ ہو پاتا تھا ۔ موجودہ تعمیر ملت کا قدیم نام بزم احباب تھا اور خلیل اللہ حسینی بزم احباب کی انتہائی متحرک اور فعال شخصیتوں میں شمار کئے جاتے تھے ۔ حکیم صاحب کے مطابق حضرت خلیل اللہ حسینی صاحب مرحوم نے انہیں تاریخ اور جغرافیہ کی تعلیم دی جو کہ خشک مضامین تھے ۔ مگر انکے انداز درس و تدریس کی وجہ سے طلبا انتہائی انہماک کے ساتھ ان مضامین کو پڑھتے تھے ۔

اپنی زندگی کی اسّی بہاریں دیکھنے والے حکیم مظفر علی خان نے بتایا کہ وہ ابتداء ہی سے حسینی علم میں مقیم ہیں ۔ اس شہر کی تاریخی حیثیت کو ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ چندو لال اور بنسی لال کی دیوڑھیوں نے حسینی علم کو ایک شناخت عطا کی ۔ یہاں ڈونگر سنگھ کا طبیلہ بھی اہمیت کا حامل ہوا کرتا تھا  ۔ یہاں راجہ بابا پورن داس کامٹھ بھی ہے جہاں اکثریت ہنود کی ہے ۔ تاریخی عاشور خانہ ہے ۔ کائستھ لوگ اگرچیکہ اب کم ہیں مگر قدیم حیدرآباد میں اس فرقہ کے لوگ بھی کثرت سے پائے جاتے تھے جو کہ بہت ہی تہذیب یافتہ ہوا کرتے تھے  ۔اگر ان کے دولت خانے پر کوئی مہمان آجائے تو بحیثیت میزبان اپنے ملازم سے کہتے تھے کہ ’’آب خاصا لاؤ‘‘ (یہ مہمان کو پانی پلانے کی طرف اشارہ ہوا کرتا تھا) اور ملازم مودبانہ انداز میں مہمان کی خدمت میں آداب بجالاتا پھر آپ خاصا پیش کرتا تھا۔ اس طرح محلہ حسینی علم میں مختلف مذہب اور فرقے کے لوگ شیر وشکر کی طرح رہتے آئے ہیں  ۔
حکیم میر مظفر علی خان 1957 میں GCIM گریجویٹ کورس آف انٹی گریٹڈ میڈیسن کی ڈگری حاصل کی ۔ 1958 میں انہیں GCUM گریجویٹ کورس آف یونانی میڈیسن کی سند عطا ہوئی اور 1959-60 میں BUMS بیچلر ان یونانی میڈیسن اینڈ سرجری جیسی اہم سند سے انہیں سرفراز کیا گیا ۔ تعلیمی مراحل طے کرنا ان کے لئے اس لئے بھی آسان ہوسکا کہ انہیں بہت ہی قابل اساتذہ ملے ۔ حکیم اجمل خان کے شاگرد حکیم شیخ عبد علی ، حکیم حکمت اللہ ، ڈاکٹر حمید اللہ بیگ ، ڈاکٹر وی ایس مہا ، ان کے قابل ذکر اساتذہ ہیں ۔
انہوں نے بتایا کہ نظامیہ طبی کالج میں حکمت کے نصاب کے ساتھ عصری تعلیم بھی دی جاتی تھی ۔ اس کالج کے قیام میں اعلی حضرت نے ذاتی دلچسپی لی تھی اور اس عہدمیں کم و بیش تین لاکھ روپئے کی ادائیگی کے بعد ایک طبی کالج کے قیام کے لئے زمین خریدی گئی تھی اور اس کی تعمیر کے لئے خاصا سرمایہ لگایا گیا تھا تب کہیں جا کر ایک عالیشان عمارت وجود میں آئی جسے نظامیہ طبی کالج کا نام دیا گیا ۔ اس کے نظم و نسق کیلئے قابل اساتذہ متعین کئے گئے ۔ انہوں نے اس کالج کے تئیں معلومات فراہم کرتے ہوئے کہا کہ متذکرہ کالج میں اگرچیکہ آغاز میں مریضوں کے علاج کے ساتھ ان کی رہائش کا بندوبست بھی کیا گیا تھا ساتھ ہی امراض کی تشخیص کیلئے خاص کمرے بھی بنائے گئے تھے جنہیں انگریزی اصطلاح میں Diagnostic Centre کہتے ہیں ۔ انہوں نے یہ انکشاف بھی کیا کہ اس طبی کالج میں طبی حمام (گرم حمام) کی بھی کشادگی عمل میں آئی تھی ۔ جہاں مریضوں کو بھپارا (یعنی جوش دی ہوئی دوا) کے ذریعہ راحت پہونچائی جاتی تھی ۔ حکیم صاحب کے مطابق  اس بھپارا کے تین مدارج ہوا کرتے تھے اور آخری درجہ میں مریض پسینے سے شرابور ہوکر چند منٹوں بعد اطمینان محسوس کرتا تھا ۔ حکیم صاحب نے بتایا کہ سلاطین آصفیہ کے پیش نظر صحت عامہ اور اس کے لئے عصری انتظام کو بروئے کار لانا تھا اسی طرز فکر نے عوام کو سہولتیں مہیا کیں نتیجتاً عثمانیہ دواخانہ ، وکٹوریہ زنانہ دواخانہ ، کنگ ایڈورڈ یادگار دواخانہ ، سلطان بازار دواخانہ ، نظامیہ طبی کالج ، نظام آرتھوپیڈک دواخانہ اور دوسرے دواخانے وجود میں لائے گئے ۔ جہاں سینکڑوں لوگ مستفید ہوتے ہیں ۔ حکیم صاحب نے کہا کہ صحت عامہ جیسے عظیم منصوبے پر عمل آوری کیلئے سلاطین آصفیہ نے بڑی بڑی رقمیں مہیا کیں جس کی نظیر نہیں ملتی ۔ دواخانوں کی موجودہ صورتحال پر اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج خدمات کے جذبات مفقود ہوگئے ہیں ۔ دواخانے روپیہ بٹورنے کے ذرائع بن گئے ہیں بلکہ مجبور اور بے بس عوام کو لوٹنا ہی نصب العین بن کر رہ گیا ہے  ۔

حکیم صاحب نے سلاطین آصفیہ کے عہد میں ویدک طریقہ علاج کے فروغ اور اس کی ترقی کے ضمن میں کی جانے والی مساعی کا بھی ذکر کیا۔ ویدک طب کیلئے نصاب اور معقول تعلیم بھی اس عہد کے حکمرانوں کے پیش نظر رہی اور کئی ہزار نفوس پر مشتمل شہر میں ویدک علاج کیلئے شفاخانے کھولے گئے اور ان میں بتدریج بہتری لانے کے لئے مشاورتی بورڈ کا قیام عمل میں آیا تھا ۔ اس عہد کے حکمرانوں کا منشا یہ تھا کہ یونانی شفاخانوں کے دوش بدوش ویدک شفاخانے بھی کارگزار رہیں اس طرح عہد آصفیہ کے حکمرانوں کا یہ ایک بڑا کار نمایاں ہے کہ انہوں نے جہاں تمام مذاہب اور ان کے ماننے والوں کو محترم سمجھا وہیں  یونانی ، ایلوپیتھی اور ویدک طب میں بغیر کسی تفاوت کے سب ہی کو اہم متصور کیا ۔

ہم نے حکیم صاحب سے ایک علحدہ موضوع پر سوال کیا کہ ان دنوں شہر کی ٹرافک پر وہ کیا کہتے ہیں ۔ انہوں نے برجستہ کہا کہ آبادی میں غیر معمولی اضافہ تو ہوا ہے ساتھ ہی موجودہ حکومت ماسٹر پلان کے حوالے سے غیر مجاز تعمیرات کے خلاف سخت اقدام اٹھاتے ہوئے  سڑکوں کی توسیع میں جٹی ہوتی ہے جو مستحسن ہے ۔ ضرورت ہے کہ ٹریفک پولیس قابل تقلید کردار ادا کرے اور خاطیوں کو موقع ہی پر جھنجھوڑیں تاکہ وہ ٹرافک قوانین کے پابند ہوسکیں ۔ قدیم حیدرآباد میں مقررہ رفتار سے تیز رفتاری پر سخت نوٹ لیا جاتا تھا ۔ بغیر لائٹ کی سائیکلیں سڑکوں پر نظر آجائیں تو جرمانہ عائد کیا جاتا تھا جس کی وجہ سے سڑک پر حادثے کم کم ہی ہوا کرتے تھے ۔ ہم نے اپنی گفتگو کا رخ موڑا اور پولیس ایکشن سے متعلق استفسار کیا تو انہوں نے کہا کہ پولیس ایکشن ناقابل فراموش واقعہ ہے ۔ قیاس اغلب ہے کہ دو لاکھ سے زیادہ لوگوں کی اس ایکشن میں جانیں گئیں ۔ گلبرگہ اور اسکا سرحدی علاقہ لنگسگور ، عثمان آباد ، رائچور ، بیدر ، پربھنی اورنگ آباد ، ناندیڑ ، تانڈور اور ہمنا آباد خون میں نہا گئے تھے ۔ بعض گھروں کے تو سارے ہی افراد ختم ہوگئے ۔ اکا دکا بچ گئے مگر دربدر ہوگئے مگر انکی آنکھوں میں وہ ہولناک مناظر ہنوز تازہ ہیں ۔ ہم نے اپنی گفتگو کو سمیٹتے ہوئے حکیم میر مظفر علی خان سے یونانی اور ایلوپیتھی کے مابین پائے جانے والے فرق کی وضاحت چاہی تو انہوں نے کہا کہ جگر ، گردے اور قلب کا علاج ایلوپیتھی میں نہیں ہے اگر ہے بھی تو موقتی ہے ۔ دوسرے یہ کہ ایک مرض پر قابو پانے کی سعی میں دوسرا مسئلہ درپیش ہوجاتا ہے اسی لئے اکثریت یونانی طریقہ علاج کو فوقیت دیتی ہے اور جہاں تک ایقان کی بات ہے کل بھی تھا اور آج بھی ہے ۔ اس کے مہنگے ہونے سے متعلق انہوں نے کہا کہ یونانی طریقہ علاج مہنگا بھی ہے اور سستا بھی ہے ۔ حکیم صاحب نے ایک واقعہ کا یوں ذکر کیا کہ ان کے ہاں ایک مریض آیا ۔ آئرن کی کمی تھی۔ دو بوتلیں شربت فولاد کی تجویز کرنے پر مریض کو مہنگا لگا ۔ حکیم صاحب نے مشورہ دیا کہ گھوڑے کی نال کو گرم کرکے پانی میں ٹھنڈا کریں۔ یہی عمل تین تا چار دفعہ کرلینے کے بعد اس پانی کو پی لیں ، یہ عمل آئرن میں غیر معمولی اضافہ کا موجب ہے ۔

حکیم صاحب نے اس بات کا بھی انکشاف کیا کہ سلطنت آصفیہ کے تمام ہی حکمرانوں کا یونانی طریقہ علاج پر کامل یقین تھا اور تمام ہی سلاطین اپنے لئے مخصوص حکیم کو مختص کررکھے تھے ۔ حکیم عزت یار جنگ ، سکندر جاہ کی خدمت کیلئے متعین تھے ۔ حکیم صلاح الدین دکنی ، حکیم بڑکمر اور بھی دیگر نامور اطباء سلاطین دکن کی خدمات کے لئے وقف تھے ۔ انہوں نے بتایا کہ امراض تو کل بھی تھے اور آج بھی ہیں ۔ کل کے امراض خبیثہ میں ایک مہلک مرض آج ایڈس کے نام سے جانا جاتا ہے ۔ انہوں نے اپنی بات کو طول دیتے ہوئے کہا کہ جامعہ عثمانیہ کے درالترجمہ میں جو اصطلاحات وضع کی گئیں وہ قابل تعریف ہیں ۔ جامعہ کے تذکرے کے ساتھ ہی محترم حکیم صاحب نے موضوع بدلا اور جامعہ عثمانیہ میں اپنے ابتدائی ایام کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ وہ دور بھلائے نہیں بھولتا ۔ اساتذہ اور طالبعلموں نے جو فضا پیدا کی تھی وہ فضا شاید اب بھی پیدا نہ ہوگی ۔ اساتذہ کا احترام بہرحال ملحوظ رکھا جاتا تھا اور اساتذہ بھی اپنے شاگردوں کو معنوی اولاد سمجھتے تھے ۔
آخر میں ہم نے بحیثیت حکیم اپنے قارئین کیلئے ان سے کسی پیغام کی استدعا کی تو انہوں نے کہا کہ تندرستی ہزار نعمت ہے اپنی صحت کے خود ڈاکٹر بنیں ۔ وقت کو رائیگاں جانے نہ دیں ۔ فارغ اوقات میں دوسری زبانیں سیکھیں ۔ اپنے اندر تحقیق اور تجسس کے جذبات کو ابھاریں ۔ اپنے علمی تفکر کو متحرک رکھیں کہ اس سے افکار میں تازگی اور تطہیر پیدا ہوتی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT