Sunday , December 17 2017
Home / مضامین / حیدرآباد جو کل تھا سید عباس زیدی

حیدرآباد جو کل تھا سید عباس زیدی

محبوب خان اصغر
محترم عباس زیدی صاحب حیدرآباد کے علم پرور خاندان کے چشم و چراغ ہیں ۔ ریاست تلنگانہ کے دارالحکومت حیدرآباد ہی میں تولد ہوئے اور تعلیمی مراحل سے گذرنے کے بعد ذریعہ معاش کی تلاش میں برطانیہ پابہ رکاب ہوئے تو جیبیں خالی تھیں اور سامنے مقصد حیات تھا جس کے حصول کیلئے ایک لائحہ عمل کے ساتھ جانفشانی اور جہد مسلسل کی ازحد ضرورت تھی ۔ چنانچہ انھوں نے وہاں مختلف محکموں میں ملازمت کی اور طویل عرصہ تک حالات سے نبرد آزما رہنے کے بعد وہ مرفعہ الحالی سے ہم آہنگ ہوئے ۔ ان کی زندگی ارتقاء کے ایک نئے موڑ سے آشنا ہونے کے بعد جمود کا شکار نہیں ہوئی بلکہ وہ اور بھی منظم و متحرک ہوگئے تاہم انہوں نے اس بات کا انکشاف بھی کیا کہ 1958ء میں برطانیہ کا ماحول بہت ہی متعصبانہ تھا ۔ ملازمت کا حصول جوئے شیر لانے سے کم نہ تھا ۔ آزمودہ کار لوگوں کو بھی برٹش تجربہ کی بابت پوچھ کر ٹال دیا جاتا تھا ۔ اس کے باوجود وہاں ایشیائی بالخصوص پاکستانی برادری نے انتھک محنت اور لگن سے زبردست معاشی استحکام حاصل کیا ۔ ہندوستانی بھی کچھ کم نہیں تھے ۔ شبانہ روز محنت ، اہلیت اور صلاحیت سے خود کو منوانے میں کبھی بھی پیچھے نہیں رہے ۔ انہوں نے بتایا کہ برطانیہ میں عبداللہ سلیم تھے جو برٹش ریلوے میں ملازم تھے ۔ ان کے تعاون سے انہیں بھی وہاں ملازمت مل گئی جو چار برس تک جاری رہی ۔ اس کے بعد ویسٹرن سنٹر بینک میں مستقلاً انہیں نوکری مل گئی اور وہیں سے وظیفہ حسن خدمت پر سبکدوش ہوئے ۔ ماموں زاد بہن نفیسہ سے ان کا عقد ہوا تھا ۔ وہ اسکول آف فائن آرٹس کی ڈپلوما ہولڈر تھیں۔ 1993 میں وہ مالک حقیقی سے جاملیں ۔ ایک بیٹی اور ایک بیٹا ہی ان کا اثاثہ ہیں جبکہ پوتا پوتی اور نواسہ نواسی سامان دلجوئی ہیں ۔
برطانیہ میں اردو سے متعلق اٹھائے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے زیدی صاحب نے بتایا کہ انہوں نے وہاں اردو ادب کو زندگی کی حرارت بنالیا تھا اور برطانیہ کی غیر ادبی فضاؤں میں اردو مجلس کا قیام عمل میں لایا۔ اس وقت وہاں کے مقامی اور ہندوستانی باشندے جنہیں ذرا بھی اردو زبان و ادب کا چسکہ تھا ان سے اپنے تال میل اور ربط و ضبط کو اس قدر مضبوط کیا کہ وہ اردو مجلس کو تقویت اور استحکام دینے کیلئے ہر قسم کا تعاون دینے پر آمادہ تھے ۔ اردو مجلس سانس لینے لگی تو کئی نامور ادیب اور شعراء کی توجہ ہونے لگی ۔ لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا ، کے مصداق لوگ مجلس سے جڑتے گئے اور اردو ادب کے چراغ کی تابندگی میں روز افزوں اضافہ ہی ہوتا گیا ۔

کسی اہم سمینار ، سمپوزیم یا کانفرنس کے بارے میں پوچھے جانے پر انہوں نے کہا کہ برطانیہ میں حیدرآباد کا چار سو سالہ جشن بڑے ہی تزک و احتشام کے ساتھ منایا گیا تھا ۔ انہوں نے اس جشن میں جہاں ماہرین علم و ادب کو مدعو کیا تھا وہیں حیدرآباد کی آبرو نواب میر عابد علی خاں صاحب بانی و سابق مدیر اعلی اردو روزنامہ ’’سیاست‘‘ کو بھی مدعوئین میں شامل کرکے جشن حیدرآباد کے وقار کو بلند کیا ۔ جناب عابد علی خان صاحب اس جشن میں اپنے ساتھ نوادرات بھی لائے تھے جن میں ریاست کے قدیم سکّے ، اسٹامپ اور بانیٔ شہر کی تاریخی اور بے مثال عمارت چارمینار کے ماڈلس شامل تھے ۔ ایسی کمیاب و نایاب چیزوں کا مشاہدہ بڑے ہی ذوق و شوق سے کیا گیا ۔ اس جشن کا خمار وہاں کے باشندوں میں اب بھی باقی ہے ۔ اس جشن کے بعد برطانیہ میں مشاعروں اور ادبی جلسوں سے فضا ہمہ وقت منور رہنے لگی ۔ فیض احمد فیض نے بھی ان محفلوں کو رونق بخشی ہے (یاور عباس فلم ساز وہدایت کار) اکثر جلسوں میں انگریزی شہ پاروں کا ترجمہ کرکے سنایا کرتے تھے جو ان کی فطانت کا بین ثبوت ہوا کرتا تھا ۔ دیگر شرکائے محفل غالب ، اقبال اور داغ کی شاعری پر مرقومہ مقالے سنا کر داد پایا کرتے تھے ۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ 1987ء میں لندن میں شام نغمہ منائی گئی تھی جس میں میرؔ سے لیکر ساحر لدھیانوی تک شعراء کا کلام ساز و سنگیت کے ساتھ پیش کیا گیا تھا ۔ شائقین کا جم غفیر تھا ۔ تمام پروگراموں کے انتظام وانصرام میں شمس الدین آغا اور نفیسہ (اہلیہ) کا تعاون انہیں حاصل رہا ۔ انہوں نے اس بات کا بھی انکشاف کیا کہ 1984 ء میں اردو طنز و مزاح کے سربرآوردہ ادیب مجتبیٰ حسین اور بعد میں غالباً  1993 میں ممتاز شاعر مضطر مجاز اردو مجلس کی دعوت پر لندن تشریف لائے تھے ۔ جہاں ان کے اعزازمیں محفلوں اور مشاعروں کا اہتمام کیا گیا تھا جس میں انہوں نے اپنی تخلیقات سنا کر خوب داد پائی تھی  ۔علی سردار جعفری جب بھی وہاں آتے بزم سخن میں چار چاند لگ جاتے ۔ اردو مجلس کو یوسف الدین خان مرحوم کا بھی بڑا تعاون حاصل تھا ۔ لندن کے ایک نامور شاعر کے لب و لہجے کی سراہنا کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وقار لطیف نے اپنے لہجے کی ندرت اور شگفتگی کی وجہ سے وہاں کے ادبی حلقوں میں ایک نمایاں مقام بنالیا تھا ۔ انہوں نے برجستہ مذکورہ شاعر کا شعر بھی سنایا

یہ دولتِ دوام محبت ہے جس کا نام
جتنا اِسے لُٹایئے اُتنا اُسے سیمٹیئے
انہوں نے ڈاکٹر ضیاء الدین احمد شکیب سے اپنے مراسم کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کیلئے ایک بڑا سرمایہ ہیں ۔  جناب زیدی صاحب کے مطابق یوروپ کے کسی بھی ملک میں بڑی کانفرنس منعقد ہوتی ہے تو اردو مجلس کو دعوت نامہ ضرور آتا ہے ۔ اس گذارش کے ساتھ کہ اردو کو Represent کیا جائے ۔ انہوں نے بتایا کہ وہ اردو مجلس کے معتمد رہے جبکہ محترم غلام ربانی کے بھائی جناب غلام یزدانی صاحب صدر تھے ۔ وہاں کے ادبی حلقوں کی ایک اور انتہائی اہم شخصیت اکبر حیدرآبادی کی تھی وہ نہ صرف استاد شاعر تھے بلکہ ذہانت اور فطانت کی دولت بھی قدرت نے انہیں ودیعت کی تھی ۔ جن کی بے لاگ آراء اردو مجلس کے حق میں تقویت کا باعث ہوا کرتی تھیں ۔ اسی زمانے میں ’’ملت‘‘ اور ’’جنگ‘‘ وہاں کے اہم اخبارات تھے  ہندوستان کا کوئی اچھا اخبار وہاں دستیاب نہیں تھا  ۔نہ ہی وہاں سے اخبار کی نکاسی کا کوئی نظم تھا ۔ انہوں نے نقی تنویر کے ساتھ مل کر ’’حیات نو‘‘ جاری کیا جس کے مدیر اعلی نقی تنویر تھے انہیں ’’جرنلسٹ آف دی ایئر‘‘ کا اعزاز بھی ملا تھا۔

گفت و شنید کے دوران عباس زیدی نے بتایا کہ ان کے دادا حافظ سید محمد مرتضی آسمان جاہ بہادر کے پرسنل سکریٹری تھے اور جون پور سے حیدرآباد آئے تھے ۔ ان کے والد کیپٹن سید محمد علی زیدی دارالشفاء میں اپنے آبائی مکان میں مقیم تھے اور وہیں 8 مئی 1935ء کو زیدی صاحب کی ولادت ہوئی ۔ اور دارالشفاء ہائی اسکول ہی میں ان کی تعلیم کا آغاز ہوا ۔ جہاں اڈمبرا کے فارغ التحصیل جناب نور الحسن استاد الاساتذہ تھے ۔ شہریار کاوس جی ، جگموہن پرساد ، جیسے اساتذہ کی معیت میں ان کی شخصیت سازی ہوئی ۔ چادر گھاٹ کالج میں قدم رکھا تو احمد عبدالعزیز اور ڈاکٹر زور (ماہر دکنیات) جیسے ذی اثر استاذ کی نگرانی رہی ۔ اس وقت دارالعلوم سے چادر گھاٹ کالج کا الحاق ہوگیا تھا اور ڈاکٹر محی الدین قادری زور پرنسپال تھے ۔ کامرس سے انٹر کامیاب کرلینے کے بعد انہیں جامعہ عثمانیہ میں داخلہ مل گیا ۔ امتیاز حسین خان صدر شعبہ کامرس تھے ۔ 1956تا 1958 یعنی تین سال جامعہ عثمانیہ کی گود نے انکی شخصیت سازی میں نمایاں کردار ادا کیا ۔ انہیں بڑے غور و فکر اور سوچ بچار کے حامل اساتذہ میسر آئے جنہیں طویل و بسیط دنیا کا بڑا تجربہ تھا ۔ ان کی نیک طینیت کا اثر لازماً طلباء پر پڑتا تھا ۔ یہی وجہ ہے کہ پرانے لوگ وضع دار ہوا کرتے تھے ۔ چاہے جان چلی جائے نہج نہ جائے ۔ انہوںنے بتایا کہ ریاست حیدرآباد عظیم ، باوقار اور معتبر ہستیوں کا مسکن رہی ہے ۔ اس شہر کی بلند و بالا عمارتوں ، دواخانوں ، تفریح گاہوں ، مسجدوں ، مندروں اور بازاروں سے آج بھی یکجہتی اوریک رنگی کا اظہار ہوتا ہے ۔ ۔ سڑکوں کی کشادگی ، آمد و رفت کے بے حساب ذرائع ، راہ گیروں کی کثرت اور چہل پہل میں غیر معمولی برکت سے یقیناً شہر کی خوبصورت اور سجاوٹ میں اضافہ ہوا ہے ۔ اس کے باوجود بھی کسی چیز کی کمی کا احساس شدید طور پر ہوتا ہے اور ان کی دانست میں تہذیب کی کمی ہے  ۔ شائستہ اور مہذب لوگوں کا فقدان ہے ۔ ان خوبیوں کی حامل شخصیتیں اپنی منزلیں پاچکی ہیں اور جو ہیں وہ اپنی منزلوں کے قریب جاچکی ہیں اور نئی نسل اپنے اسلاف کی شائستگی سے کماحقہ واقف نہیں ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی والدہ کے حقیقی ماموں نواب مہدی نواز جنگ سلیم الطبع اور فریس انسان تھے ۔ وہ اکثر کہا کرتے تھے کہ ’’اصل تہذیب احترام آدم است‘‘ ۔

اپنے والد برزگوار سے متعلق انہوں نے بتایا کہ وہ حیدرآباد آرمی میں تھے ۔ فٹبال کے بہترین کھلاڑی تھے ۔ میری گراؤنڈ فبٹال کلب گوشہ محل کا ان دنوں اس لئے بھی بہت شہرہ تھا کہ اس کلب سے اپنے وقت کے نامی گرامی لوگ وابستہ تھے ۔ جہاں کھیلتے فتح یاب ہو کر لوٹتے تھے ۔ گگن محل پر ہی زیادہ تر ٹورنمنٹ ہوتے تھے ۔ نواب بسالت جاہ بہادر بعد میں رحیم صاحب اور ہادی  صاحب نے بھی کلب کا نام روشن کیا ۔ انہوں نے بتایا کہ 1948ء کے سیاسی انقلاب کے بعد ریاست حیدرآباد میں ایک طرح کا جمود آگیا تھا ۔ ادبی سرگرمیاں ٹھپ ہوگئی تھیں ۔ اور اورینٹ ہوٹل کو محض اس لئے تہذیبی اور ثقافتی حیثیت حاصل ہوگئی تھی کہ وہاں ادب کے ثقہ لوگ جمع ہوتے تھے ۔ نقی تنویر اور مجتبیٰ حسین سے وہیں انکی ملاقات ہوئی ۔ پروفیسر حسن عسکری بھی غالباً وہیں ملے تھے ۔ ان کی نپی تلی باتوں میں کیا کچھ نہیں ہوتا تھا ۔ چوٹی کے اہل قلم اور دقیقہ رس افراد کی آمد ورفت سے اورینٹ کا ڈنکا باہر کے ممالک میںبھی بجا کرتا تھا ۔ مختلف تہذیبوں کا گہوارہ حیدرآباد کے محرم کو یاد کرتے ہوئے انہوں نے قطب شاہی سلاطین کی سرپرستی کی سراہنا کی اور اس روایت کی بقا کو خوش آیند اقدام کہا ۔ مزید برآں انہوں نے ترملگیری میں واقع کوہ امام ضامن کا بھی ذکر کیا جہاں 5 شعبان کو حضرت عباس کا جشن اور 12 ذیعقدہ کو حضرت امام رضا کا جشن منایا جاتا ہے جن کے روضہ مبارک ایران میں ہیں ۔ پولیس ایکشن کے بعد فرقہ پرستوں نے جہاں منظم پیمانے پر دھینگا مشتی مچائی تھی وہیں کوہ امام ضامن کو بھی شدید نقصان پہونچایا تھا اور تبرکات لوٹ لی گئی تھیں اور جانمازوں کو تتر بتر کردیا گیا تھا جے این چودھری بہ نفس نفیس مقام واردات پر پہنچے تھے انہوںنے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے جرم کے مرتکبین کی گرفتاری کیلئے احکامات جاری کئے ۔
ہم نے ان کی جائے پیدائش کی تاریخی حیثیت سے متعلق پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ دارالشفاء ان کا مسکن ہے ۔ ناصر جونپوری  ، باقر امانت خانی ، نجم آفندی ، سعید شہیدی ، خاور نوری ، ابوالقاسم چاند ، کیپٹن عباس عابدی اور جسٹس سردار علی خان اس تاریخی محلے کے باشندے ہیں ۔ پرانی حویلی ، نور خان بازار وغیرہ ماہ محرم میں جگ مگ جگ مگ کرتے ہیں ۔ مسالموں سے فضائیں گونجنے لگتی ہیں ۔ انہوں نے اس بات پر اظہار تاسف بھی کیا کہ ریاست حیدرآباد کو حکومت ہند میں ضم ہوئے اڑسٹھ سال ہوگئے مگر صورتحال ہنوز غیر اطمینان بخش ہے ۔ رواداری کو خطرہ درپیش ہے ۔ یہ ریاست چار زبانوں کا گلدستہ تھی جس کی خوشبو دور دور تک پھیلی ہوئی تھی مگر اس میں سے اردو کو علاحدہ کردیا گیا جبکہ تلگو مرہٹی اور کنڑی کو اسکا مستحقہ مقام دیا گیا ہے ۔

دکن کی رواداری سے متعلق انہوں نے بتایا کہ یہاں کا ہر طبقہ دوسرے طبقے کا بہت پاس و لحاظ رکھتا تھا ۔ تمام طبقوں کے مابین برادرانہ اور مخلصانہ تعلقات تھے ۔ شادی بیاہ کا موقع ہو کہ عیدین یا تہواروں کا آپس میں مبارکبادیاں دی جاتی تھیں ۔ تحفے اور تحائف ایک دوسرے کو دئے اور لئے جاتے تھے اور یہی عمل رواداری کو قوت دیتا تھا ۔ شیروانی دونوں فرقوں میں رائج تھی جس کی وجہ سے ہندو مسلم میں تمیز کرنا مشکل تھا ۔ مسلمانوں میں تو شیروانی اور ٹوپی پہننا لازم تھا  ۔اس کے بغیر گھر سے باہر نکلنے کو غیر تہذیبی عمل سمجھا جاتا تھا ۔ بزرگوں کو جھک کر سلام کیا جاتا تھا ۔ چچا کے دوست چچا کے مماثل اور ماموں کے دوست ماموں کے برابر سمجھے جاتے تھے ۔ خاندان کا تصور وسیع تھا۔ لوگ تنگدستی میں بھی خوشحال و خوش پوشاک معلوم ہوتے تھے ۔ ذہنی پستی جو آج دکھائی دے رہی ہے وہ کل نہیں تھی ۔ کوئی ترقی کے مدارج طے کرتا تو اس کی مزید سرفرازی کیلئے دعائیں دی جاتی تھیں  ۔آج کسی کا بھی قد اونچا نہیں دیکھا جاسکتا ۔ حسد کے جذبات سے قلوب بجھ گئے ہیں اور اضطراب و بے چینی نے روشنیوں کو نگل لیا ہے ۔ یہ معاشرتی بگاڑ اور مسائل کا حل صرف مثبت انداز فکر کو اپنانے ہی میں مضمر ہے ورنہ اس میں کوئی دورائے نہیں کہ ہم قعر مذلت میں دھنس جائیں !

TOPPOPULARRECENT