Saturday , November 18 2017
Home / مضامین / حیدرآباد جو کل تھا سید ہدایت اللہ پیرزادہ

حیدرآباد جو کل تھا سید ہدایت اللہ پیرزادہ

محبوب خان اصغر
سقوط حیدرآباد کے وقت سلطنت آصفیہ تین علاقوں یعنی تلنگانہ ، مرہٹواڑہ اور کرنانک پر محیط تھی ۔ تلنگانہ میں تلگو زبان کا چلن تھا ، مرہٹواڑہ میں مرہٹی اور کرناٹک میں کنڑی رائج تھی ۔ اس کے باوجود مذکورہ تمام علاقوں کی مشترکہ زبان اردو تھی ۔ 1956 ء میں ملک میں لسانی بنیاد پر ریاستوں کی تقسیم عمل میں آئی تو مرہٹواڑہ کو مہاراشٹرا میں ضم کردیا گیا اور کنڑا کو ریاست کرناٹک کہا جانے لگا ۔ تلنگانہ کو آندھرا سے ملا کر آندھرا پردیش کا نام دیا گیا جس  کا پایہ تخت حیدرآباد دکن رہا ۔ اس طرح ریاست حیدرآباد تین حصوں میں بٹ گئی ۔ اس کے باوجود یہاں کی گنگا جمنی تہذیب مثالی رہی اور اس سے صرف نظر ناممکن ہے‘‘ ۔ یہ رائے ہمارے ثقہ بزرگ محترم سید ہدایت اللہ المعروف عبدالفتاح صاحب کی ہے جن کے ساتھ ’’حیدرآباد جو کل تھا‘‘ کے موضوع پر ہمیں شرف ہمکلامی حاصل ہوا اور یقین جانئے ہمارے لئے یہ لمحات نہایت ہی فرحت آگین رہے ۔ ہم نے سلسلہ گفتگو جاری رکھتے ہوئے جلیل القدر مہمان سے ریاست حیدرآباد کی خوبیوں کے اظہار کی خواہش کی تو انہوں نے کہا کہ بہ اعتبار رقبہ یہ ریاست یوروپی ممالک کے مقابلے میں بھی وسیع تھی ۔ جامعہ عثمانیہ اور اس سے ملحقہ تعلیمی ادارے ، نظم و نسق ، قانون ، زراعت ، صنعت و حرفت اور طبابت غرضکہ ہر شعبہ میں ارتقائی منازل طے کرتی ہوئی خود مکتفی ریاست بن گئی ۔ اس ریاست کا ٹکسال تھا جہاں سکے اور نوٹ بنائے جاتے تھے ۔ اور جہاں ٹکسالی زبان یعنی اردو میں اس کی اہمیت اور سلاطین سے متعلق کچھ نہ کچھ درج ہوتا تھا ۔ یہاں ڈاک اور اس کی ترسیل کے عمدہ ذرائع موجود تھے ۔ لاسلکی (وائرلیس) کی سہولتیں بھی اس زمانے میں تھیں ۔ ریاست حیدرآباد میں امور مذہبی کی شاندار کارکردگی کو فراموش نہیں کیا جاسکتا ۔ اس محکمہ نے مذہبی تعصبات کو پنپنے ہی نہیں دیا ۔ منادر  ، مساجد ، گرجا گھر اور گردوارے اسی محکمے کے زیر انتظام ہوا کرتے تھے ۔ حکمران امن پسند تھے ، ان میں رعونت نہ تھی بلکہ وہ رعایا پرور تھے ۔ تمام طبقات کے لوگ بہم شیر و شکر کی طرے رہا کرتے تھے ۔ شیروانی ہنود میں بھی اتنی ہی عام تھی جتنی کہ مسلمانوں میں ، لباس کی عمومیت کی و جہ سے ہندو مسلم کے فرق کو محسوس کرنا دشوار تھا ۔ انہوں نے جامعہ عثمانیہ میں گذرے ہوئے ایام کی یادوں کو تازہ کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے حلقہ احباب میں ہندو بھی تھے جن سے بھائیوں جیسے مراسم و روابط تھے ۔ مذہبی تہواروں کے موقع پر ایک دوسرے کو گھروں پر مدعو کیا جاتا اور لوازمات سے تواضع کی جاتی تھی ۔ افراد خاندان مہمانوں سے بڑے ہی تپاک سے ملا کرتے تھے۔

1921 ء میں تولد ہونے والے سید ہدایت اللہ چورانوے برس کے ہیں ۔ آبا و اجداد اورنگ آباد اور برہان پور سے تعلق رکھتے ہیں  ۔یہاں کے نندورو اور نظرآباد کو تاریخی حیثیت حاصل ہے ۔ درویش صفت بزرگوں کی خانقاہیں ہیں جہاں زائرین کا ہر دم تانتا لگا رہتا ہے ۔ مغلیہ دور کے شہنشاہ ان مقامات سے گزرتے اور قیام بھی کرتے تھے ۔ اسلاف کی جاگیریں چھوڑ کر سرزمین حیدرآباد کو اپنا مسکن بنانے والے سید محمد عبدالواسع پیرزادہ (مرحوم) ان کے والد بزرگوار ہیں ۔ سادات گھرانے سے تعلق رکھنے والے تمام افراد خاندان  ستودہ صفات کے حامل ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی زندگی کا ایک بڑا حصہ ترپ بازار میں گزرا ۔ اس علاقے میں اس زمانے کی ذہین اور فطین شخصیتیں مقیم تھیں ، جن میں قابل ذکر ڈاکٹر وحید اختر ، حافظ یونس سلیم ، عابد حسین ، نسیمہ تراب الحسن ، ڈاکٹر حمید اللہ ، شہاب الدین (ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر ضلع میدک) شاہد حسین زبیری ، رضیہ اکبر قابل ذکر ہیں ۔ ماضی میں ترپ بازار کو ہندوستانی گلی بھی کہا جاتا تھا ۔ وہاں نورنگ سنیما ہال بھی ہوا کرتا تھا ۔ اس علاقہ میں زیادہ تر نوائطی لوگ رہا کرتے تھے ۔ آنجہانی این ٹی راما راؤ سابق ریاستی وزیراعلی نے ان ہی لوگوں سے اراضی خرید کر رام کرشنا تھیٹر بنائی تھی ۔ اسی طرح لال ٹیکری (Red Hills) کا علاقہ بھی اس لئے اہمیت کا حامل ہے کہ وہاں کے عام لوگوں کے درمیان چند خاص لوگ رہتے تھے جنھوں نے اپنے اوصاف کا ڈنکا نہیں بجایا بلکہ ان کے وصف ذاتی کا ڈنکا خود بخود ہی بجتا تھا مثلاً غلام دستگیر رشید ، ڈاکٹر ابوالحسن صدیقی ، فخر الحسن ، ڈاکٹر حیدر خان ، ڈاکٹر شاہ نواز وغیرہ ۔
سید ہدایت اللہ صاحب نے بتایا کہ مولانا رفیع الدین عربی کے استاد تھے جو گھر پر ان کی ہمشیرہ کو پڑھایا کرتے تھے ۔ ان ہی سے یسیرناالقرآن سیکھا ۔ بعد میں انہیں اشرف المدارس یاقوت پورہ میں داخل کروایا گیا ۔ اسد اللہ ، عبدالغفور ، ڈاکٹر حسن الدین ، ڈاکٹر شرف الدین اور عبدالعلی صاحب ان کے سینئر تھے ۔ وہیں پر ویویک وردھنی ہائی اسکول کے قیام سے قبل کھلا میدان تھا جہاں وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ کھیل کود کیا کرتے تھے ۔ انہوں نے بتایا کہ وہاں ایک باؤلی تھی اور وہ پورا میدان سید جنگ کا باغ تھا ۔

اپنے عہد طالبعلمی کی یادوں کو کریدتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ چادر گھاٹ ہائی اسکول کے تمام اساتذہ لائق و فائق تھے ۔ درس و تدریس کے انداز میں مقصدیت ہی کے باعث انہیں اپنے شاگردوں میں مقبولیت حاصل تھی وہ قومی لسانی اور مذہبی تعصبات و تنگ نظری سے بالکلیہ مبرا تھے ۔ اخلاقی قدروں اور یکجہتی کے پیام کو عام کرنا ہی ان کی اولین کوشش ہوتی تھی ۔ ستائش کا چسکہ اور صلہ کی چاٹ کے بغیر ان کے پیش نظر ضرور طلبا کا مستقبل رہتا تھا۔ انہوں نے چادر گھاٹ ہائی اسکول کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اس زمانے کے دوسرے مدرسوں میں استاد الاساتذہ ہوا کرتے تھے ۔ صرف یہی ایک اسکول تھا جہاں پرنسپال (Principal) کی جائیداد تھی جس پر مارماڈیوک پکھتال براجمان تھے ۔ اپنے استاد محترم ڈاکٹر پکتھال سے متعلق انہوں نے بتایا کہ وہ عیسائی تھے اور برطانیہ سے ان کا تعلق تھا ۔ بڑا ہی عالی دماغ پایا تھا ۔ مذہب اسلام کے تئیں ان کی معلومات بڑی عمیق تھیں ۔ متعلم قرآن تھے ۔ شعائر اسلام سے متاثر اس قدر تھے کہ بالآخر مشرف بہ اسلام ہوگئے ۔ قرآن حکیم کا انگریزی زبان میں ترجمہ کیا ۔ سیاسی اور مذہبی رہنما پکتھال ناول نگار  ،صحافی اور صدر مدرس بھی تھے ۔ حلقہ بگوشی کے بعد انہوں نے اپنا نام محمد پکتھال رکھا ۔ 1933ء میں اعلی حضرت نواب میر عثمان علی خان آصف سابع کے بھائی نواب صلابت جاہ کے ناظم کی حیثیت سے کارگذار رہے ۔ رسالہ ’’اسلامک کلچر‘‘ کے مدیر تھے اس کے بعد HCL حیدرآباد سیول سرویس ہاؤس کے نگران اعلی کے عہدے پر آپ کا تقرر عمل میں آیا تھا ۔ انہوں نے بتایا کہ 19 مئی 1935 ء کو وہ انتقال کرگئے ۔ لندن کے بروک ووڈ قبرستان میں ان کی تدفین ہوئی ۔ انہوں نے تفاخر کے ساتھ کہا کہ وہ محمد پکتھال کے شاگرد رشید رہے ۔
سید ہدایت اللہ نے تکلم کرتے ہوئے اس امر پر بھی اظہار خیال کیا کہ ڈاکٹر غلام دستگیر رشید کے بھی وہ شاگرد رہے ۔ وہ جامعہ عثمانیہ میں صدر شعبہ فارسی تھے ۔ لبرل قسم کے انسان تھے ۔ اہل خانہ کے ساتھ سنیما دیکھ لیا کرتے تھے جس سے اس زمانے کی فلموں کے دلچسپ موضوعات اور ستھرائی کا اندازہ ہوتا ہے ۔ انہوں نے صراحت کرتے ہوئے بتایا کہ غلام دستگیر رشید کا شمار ماہرین اقبالیات میں ہوتا ہے ۔ بہادر یار جنگ اپنی کوٹھی میں درس اقبال دیا کرتے تھے جہاں دستگیر صاحب لازماً شریک ہوا کرتے تھے ۔ انہیں ڈاکٹر سر محمد اقبال سے شرف ملاقات حاصل تھا  ۔انہوں نے دل میں چھپی خواہش کا اظہار کیا تھا کہ وہ ان کی فارسی شاعری کا اردو ترجمہ کرنا چاہتے ہیں جواباً اقبال نے کہا تھا کہ مشکل ہے ۔ انہوں نے برملا اس بات کا بھی اظہار کیا کہ غلام دستگیر کی تقاریر میں جوش اور ولولے کی تلاش بے سود تھی ۔ ان کے لہجے میں بردباری اور استقلال ہوا کرتا تھا ۔ نبی اکرمﷺ کی سیرت پاک پر اور تعمیر ملت کے جلسوں میں ان کی تقاریر ہمارے لئے سرمایہ افتخار ہیں ۔
سید ہدایت اللہ نے نظام الدین مغربی سے اپنے تعلقات کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ وہ سنگاریڈی کے کسی اسکول میں مدرس تھے ان کے خسر متمول اور نظام کے قریب تھے  ۔ اردو آرٹس کالج میں 1962 تا 1988 ء یعنی چھبیس سال تاریخ کے لکچرار رہے ۔ پی ایچ ڈی کی تکمیل کے لئے ترکی (استنبول) گئے اور بعض وجوہ کی بناء اندرون سال لوٹ آئے ۔ انہوں نے کہا کہ مغربی صاحب بہترین مقرر تھے ۔ سیرت النبیؐ پر ان کی تصانیف نگاہ قدر سے دیکھی جاتی ہیں ۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ علیگڑھ یونیورسٹی میں ہاشم علی اختر وائس چانسلر تھے اور مغربی صاحب کو ملازمت کی ضرورت ھی ۔ مذکورہ یونیورسٹی میں پروفیسر کی جائیداد خالی تھی۔ نظامی صاحب انٹرویو دینے کیلئے گئے اور اپنی مذہبی تصانیف ہاشم علی اختر کی خدمت میں پیش کیں ۔ انہوں نے مغربی صاحب کو بحیثیت پروفیسر آف اسلامک اسٹڈیز منتخب کرلیا۔ اس واقعہ سے یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ ماضی میں اہلیت کی بنیاد پر تقرر ہوتا تھا ۔ رشوت اور سفارش کی لعنتیں تو حال کی پیداوار ہیں ۔ قلب پر حملے کے باعث مغربی صاحب کا انتقال ہوگیا ۔

مولانا سید ابوالاعلی مودودی سے اپنی ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ دوران سفر اللہ رب العزت نے ان سے مصافحہ اور معانقہ کی سبیل نکالی اور کچھ دیر ان سے ہمکلامی کا موقع دیا ۔ مودودی صاحب جماعت اسلامی کے بانی تھے ۔ کچھ دن صحافت بھی اختیار کی ۔ 1938ء میں پاکستان منتقل ہوگئے ان سے ملاقات کا نقش ہنوز باقی ہے ۔
ملازمت سے متعلق سوال کیا تو بتایا کہ 1945ء میں اکاؤنٹننٹ جنرل آفس (اے جی) میں بحیثیت محاسب رجوع بہ کار ہوئے اور 1981 میں وہیں سے وظیفہ حسن خدمت پر سبکدوش ہوئے ۔ ملازمت کے دوران انہوں نے وہاں ادبی سرگرمیوں کی داغ بیل ڈالی ۔ 1975 میں بزم اردو کا قیام عمل میں لایا ۔ احباب کے اصرار پر اس کی صدارت قبول کی ۔ سالانہ مشاعرہ کروائے جس میں اردو اور دیگر زبانوں کے جاننے والے شرکت کرتے تھے ۔ مسٹر دتا ، وینکٹ رائیلو ، بالارام ، جواہر پرساد مشرا اور ظہیر الدین ان کے ساتھی رہے ۔

پولیس ایکشن کے بعد مسلمانوں کے مسائل اور ماوا و ملجا سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مسلمان قنوطیت اور یاسیت کا شکار ہوگئے تھے ۔ ان کے جذبات و احساسات کی ترجمانی و آئینہ داری کیلئے اخبار کی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے عابد علی خان اور محبوب حسین جگر نے اس سمت پیش رفت کی ۔ اور عملاً صحافتی زندگی کا آغاز کرتے ہوئے اخبار ’’سیاست‘‘ کی اپنے خون جگر سے آبیاری کی جو آج بھی مسلمانوں کا بے باک ترجمان بن کر ہمارے سامنے ہے ۔ خلیل اللہ حسینی نے ’’بزم احباب‘‘ کی بنیاد ڈالی اور اس کی وساطت سے عوام میں حوصلہ اور طاقت کو بحال کیا ۔ بعد میں اس بزم کوتعمیر ملت کا نام دیا گیا ۔
قدیم حیدرآباد کے وبائی امراض سے متعلق انہوں نے بتایا کہ یہاں ہر سال طاعون یا پلیگ ہوا کرتا تھا ۔ عوام میں اس مرض کا خوف طاری ہوجاتا ۔ اور ہر طرف ’’چوہا گرا چوہا گرا‘‘ کی آوازیں سنی جاتی تھیں ۔ درحقیقت چوہے بلوں سے نکل پڑتے تھے ۔ اور عاقبت نااندیش لوگ یہ قیاس کرتے تھے کہ آسمان سے گرا ہے ۔ مگر اس وباء سے لوگ پریشان ضرور رہا کرتے تھے ۔ ایڈیکمٹ اور بہادر پورہ وغیرہ میں مفت میڈیکل کیمپ لگا کرتے تھے جہاں متاثرین کی کثیر تعددا مستفید ہوا کرتی تھی ۔بعد میں ویکسین اور دوسری عصری دواؤں سے وبائی امراض پر قابو پالیا گیا بلکہ اس معاملے میں حیدرآباد دکن خود مکتفی ہوگیا ۔ ہیضہ ، چیچک  ،طاعون ، دق ، جذام اور ملیریا جیسے امراض کے سدباب اور تدارک کیلئے دکن کے اطباء کے کردار کو بھلایا نہیں جاسکتا ۔ اطباء کے گروہ نے 1935 ء میں مدارس میں طلباء و طالبات کے طبی معائنہ کا نظم کیا تھا جو زمانے دراز تک بھی جاری تھا جس کے مفید نتائج برآمد ہوئے ۔ خاص طور پر دق کی روک تھام اور بروقت تشخیص کیلئے تربیت یافتہ عملہ متاثرین کی خدمات پر مامور رہتا  اسی زمانے میں پینے کیلئے شفاف پانی کا بہترین بندوبست کرکے ہیضہ پر قابو پایا گیا  ۔

ہدایت اللہ نے یاد رفتگان کا ذکر کرتے ہوئے جامعہ عثمانیہ کی علمی شخصیت ڈاکٹر حمید اللہ سے متعلق تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے وقت کے جید عالم دین اور ہمالیائی فکر کے مالک تھے ۔ انہوں نے جامعہ عثمانیہ کی خدمات کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ اس کی گود سے مفکر ، مدبر اور دانشور نکلے ۔ ڈاکٹر حمید اللہ جامعہ عثمانیہ کے فارغ التحصیل ہیں ۔ بعد میں جامعہ میں 1935 تا 1948 بطور لکچرار اور اسسٹنٹ پروفیسر خدمات انجام دیں ۔ اس عرصہ میں وہ جامعہ کے مختلف شعبوں کے استاذ رہے ۔ انہوں نے بتایا کہ 1946 میں اعلی حضرت نواب میر عثمان علی خان نے حمید اللہ کو اقوام متحدہ (امریکہ) میں ریاست حیدرآباد کے سفیر کے طور پر روانہ کیا جہاں انہوں نے حیدرآباد کو آزاد مملکت رکھنے کا معروضہ پیش کیا تھا ۔ 1948 ء میں ریاست حیدرآباد کے تحفظ اور عالمی برادری میں اس کی نمائندگی کی غرض سے ’’حیدرآباد لبریشن سوسائٹی‘‘ کی داغ بیل ڈالی ۔ انہوں نے کہا کہ حمید اللہ سقوط حیدرآباد کو بہت بڑا قومی سانحہ کہا کرتے تھے ۔ انہوں نے یہ انکشاف بھی کیا کہ علم قانون میں ایم اے اور ایل ایل بی کی سند جامعہ عثمانیہ سے حاصل کی ۔ متعدد زبانیں جانتے تھے ۔ سات زبانوں میں تحریر و تحقیق کا کام کیا ۔ 17 ستمبر 2002 کو امریکی ریاست فلوریڈا کے شہر میں انہوں نے آخری سانس لی ۔ انہوں نے بتایا کہ 1945 تا 1950 کے دوران حیدرآباد دکن کی ذی علم ، ذی خرد ، ذی رتبہ اور ذی استعداد شخصیتوں نے لندن ، پیرس اور پاکستان کا رخ کیا جو کہ دکن کا ایک عظیم خسارہ ہے ۔ انہوں نے عوام کی فلاح و بہبود کیلئے صاحب حیثیت  لوگوں کو آگے بڑھنے کا مشورہ دیتے ہوئے ادارہ ’’سیاست‘‘ کی خدمات کی سراہنا کی اور ملت فنڈ کو وقت کی اہم ضرورت بتایا ۔

TOPPOPULARRECENT