Friday , September 21 2018
Home / مضامین / حیدرآباد جو کل تھا عزیز آرٹسٹ

حیدرآباد جو کل تھا عزیز آرٹسٹ

پروفیسر بیگ احساس

پروفیسر بیگ احساس
عزیز آرٹسٹ، پینٹنگ کی دنیا کا ایک ایسا نام جو بین الاقوامی شہرت کا حامل ہے۔ سرزمین دکن کا ایک سپوت جو اپنے فن کے وسیلے سے ساری دنیا میں پہچانا جاتا ہے۔ بے شمار ریاستوں کے راج بھون، پانچ ستارہ ہوٹلیں، میوزیمس، سرکاری عمارتیں، باوقار کلبس، ریسارٹس، باذوق قدر دانوں کے بنگلوں کی دیواریں عزیز آرٹسٹ کی پینٹنگس سے سجی ہیں۔ راشٹرپتی بھون، راج بھون حیدرآباد، راج بھون مدراس، ایرفورس اکیڈیمی، آرٹیلری سینٹر ، گولکنڈہ، دلی کی فائیو اسٹار ہوٹلس خصوصاً موریا شیرٹن، تاج بنجارہ، تاج دکن حیدرآباد، ویسٹنڈ ہوٹل بنگلور، کنڑی کلب، ٹریژر آئی لینڈ، رائیڈنگ کلب وغیرہ میں عزیز کی پینٹنگس دیکھی جاسکتی ہیں۔ عزیز کا ایک منفرد اسٹائل ہے،جو صرف ان سے مخصوص ہے۔ ان کی پینٹنگ ہزاروں میں الگ پہچانی جاسکتی ہے۔ عزیز کسی خاص اسکول آف آرٹس سے متاثر نہیں ہیں۔ انہوں نے اپنا انداز خود بنایا۔ وہی اس کے موجد ہیں اور انہیں پر وہ ختم بھی ہوتا ہے۔ بے شمار آرٹسٹسوں نے ان کی نقالی کی ہے لیکن کامیاب نہ ہوسکے۔ وہ تھری ڈائمینشن ٹکنیک کا استعمال کرتے ہیں جو ان کے شائقین میں بے حد مقبول ہے۔ گھوڑے اور قلعے ان کا خاص موضوع ہیں۔ قلعہ گولکنڈہ کے چپے چپے کی ہر زاویے سے انہوں نے ایک ہزار کے قریب پینٹنگس بنائیں جنہیں حیدرآبادی تحفتاً دوسروں کو پیش کرتے ہیں۔ عزیز صحیح معنی میں فری لانسر ہیں۔ شہروں شہروں ملکوں ملکوں گھوم کر انہوں نے تجربہ بھی حاصل کیا اور پینٹنگس بھی بنائیں۔ وہ اپنے خاص اسٹائیل کے ساتھ ہی محدود نہیں رہے۔ انہوں نے بے شمار تجربے بھی کئے۔ Abstract، پورٹریٹس، لینڈ اسکیپس، واٹر کلر اور اسکیچس بھی بنائے۔ عزیز آرٹسٹ کا اسٹیڈیو بنجارہ ہلز میں ہے لیکن کئی ریسارٹس اور فائیو اسٹار ہوٹل کے مالکین نے بھی ان کے لئے اسٹوڈیوبنا رکھے ہیں اور اصرار کرتے ہیں کہ وہ وہاں آ کر کام کریں۔ عزیز آرٹسٹ میں ایک عجیب سی فنکارانہ بے نیازی ہے۔ شہرت اور دولت کی انہوں نے کبھی پروا نہیں کی۔ انتہائی منکسرالمزاج اور کم گو انسان ہیں اور دوستوں کے لئے جان دیتے ہیں۔ عزیز کا اردو اور انگریزی ادب کا مطالعہ بھی بے حد وسیع ہے۔ ادیبوں و شاعروں سے ان کے گہرے تعلقات ہیں۔ سلیمان اریب، عزیز قیسی، باقرمہدی، مجتبیٰ حسین، ندا فاضلی، انور رشید، قدیر زماں سے لے کر مظہرالزماں اور راقم الحروف تک ان کے بے شمار ادیبوں و شاعروں سے تعلقات رہے اور قائم ہیں۔ عزیز کی اردو سے محبت کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ وہ ہر پینٹنگ پر اپنے دستخط انگریزی اور اردو دونوں میں کرتے ہیں۔

عزیز آرٹسٹ سے جب سوال کیا گیا کہ انہیں پینٹنگ کا شوق کیسے پیدا ہوا تو انہوں نے حیدرآباد کی پرانی روایت کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ ان دنوں کشیدہ کاری کا رواج تھا۔ ان کی والدہ بہت اچھی کشیدہ کاری کرتی تھیں۔ ان میں رنگوں کے انتخاب کی بے پناہ صلاحیت تھی۔ بڑی نفاست سے بیل بوٹے بناتی تھیں۔ اس کے علاوہ وہ برو کے قلم سے خطاطی بھی کرتی تھیں۔ اس زمانے میں ہر شخص کو برو کے قلم سے لکھنے کی مشق کرائی جاتی تھی۔ والدہ کا کام دیکھ کر ان میں پینٹنگ کا شوق پیدا ہوا۔ عزیز آرٹسٹ نے جن کا اصل نام محمد عزیزالدین ہے ابتدائی تعلیم دارالعلوم ہائی اسکول میں حاصل کی۔ وہاں جناب گوپال بھٹ نہ صرف ڈرائنگ ماسٹر بلکہ اچھے کلاسیکل ڈانسر بھی تھے۔ اسکول کے زمانے میں انہوں نے ڈرائنگ کے لور اور ہائیر امتحانات بھی پاس کئے۔ اسکول کے بعد ان کے والد صاحب چاہتے تھے کہ وہ انجینئرنگ کریں لیکن ان کے مارکس کم تھے۔ انہوں نے فائن آرٹس کالج سے آرکٹکچر کورس کرنے کیلئے داخلہ لیا۔ دو تین مہینے رہے لیکن جی نہیں لگا تو پھر پینٹنگ کے شعبے میں آ گئے۔ سعید بن محمد نقش اور ودیا بھوشن ان کے اساتذہ میں سے تھے۔ سعید بن محمد پورٹریٹ کے اور ودیا بھوشن واٹر کلر کے ماہر تھے۔ عزیز آرٹسٹ اپنے ان اساتذہ سے متاثر رہے۔ عزیز آرٹسٹ سے جب حیدرآباد میں پینٹنگ کی روایت کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے ٹھہر ٹھہر کر اپنی یادداشت پر زور دیتے ہوئے بتایا کہ سید احمد صاحب کا فائن آرٹس کالج سے تعلق تھا اور وہ اس کے بانی بھی تھے۔ میر عثمان علی خاں، آصف سابع نے انہیں ایک پروجیکٹ کے تحت ایلورا، اجنتا بھیجا۔ وہاں جرمنی کے آرٹسٹ بھی آئے ہوئے تھے۔ یہ لوگ دو تین مہینے رہے اور وہاں کی چیزوں کو Preserve کیا۔ آج بھی باغ عامہ میوزیم میں یہ چیزیں محفوظ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عبدالقیوم خاں باقی ؔ پورٹریٹ کے بہت اچھے آرٹسٹ تھے۔ وہ سعید بن محمد کے استاد تھے۔ قیوم صاحب کے علاوہ ہمارے زمانہ میں دیوسکر کالج کے پرنسپل تھے۔ وہ بھی اچھے پورٹریٹ بناتے تھے۔

راجہ روی ورما بہت بڑے آرٹسٹ تھے۔ انہوں نے محبوب علی پاشاہ کا پورٹریٹ بنایا تھا۔ عزیز آرٹسٹ نے بتایا کہ دکنی آرٹ کا اٹھارویں صدی میں آغاز ہوا۔ علی عادل شاہ نے دکنی اسکول کی بنیاد رکھی۔ اس کے علاوہ بنگالی اسکول بھی بہت مشہور ہوا۔ رابندر ناتھ ٹیگور، نندلال بوس، ستیش گیری راؤ اس کے ماہرین میں سے ہیں۔ عبدالرحمن چغتائی، نندلال بوس کے شاگرد تھے۔ اکثر لوگوں کو ان کے آرٹ پر مغل آرٹ کا دھوکہ ہوتا ہے، لیکن وہ بنگالی اور چینی منی ایچر کا امتزاج ہوا کرتا تھا۔ عبدالرحمن چغتائی کی حیدرآباد میں بہت قدر افزائی ہوئی۔ وہ دو سال حیدرآباد میں رہے اور انہوں نے سالارجنگ سوم کے لئے پینٹنگس بنائیں۔ سالارجنگ میوزیم میں اس کا ایک سیکشن موجود ہے۔ عبدالرحمن چغتائی نے دیوان غالب پر کام کیا جو مرقع چغتائی کی صورت میں منظرعام پر آیا۔ میر عثمان علی خاں، آصف سابع نے ان کو اس کام کے لئے پانچ لاکھ روپئے دیئے تھے۔ اقبال پر بھی کام ہورہا تھا لیکن پولیس ایکشن ہوگیا اور سب کچھ بکھر کر رہ گیا۔

عزیز آرٹسٹ نے اپنے سینئرز کے بارے میں بتایا کہ سعید بن محمد نقش، ودیا بھوشن، مدھوسدھن، جگدیش متل وغیرہ ان میں شامل ہیں۔ مدھوسدھن کمرشیل آرٹسٹ تھے لیکن انہوں نے بہت اچھا کام بھی کیا۔ ایم ایف حسین شہرت کی بلندیوں پر پہنچنے سے قبل 1960 کی ابتدائی دہائی میں حیدرآباد آئے۔ بدری وشال پتی آرٹ کے بہت بڑے قدرداں تھے۔ ان کی ادارت میں ایک رسالہ ’’کلپنا‘‘ شائع ہوتا تھا۔ انہوں نے ایم ایف حسین کو اپنے گھر پر رکھا اور رامائن و مہابھارت کی ایک Chain Series بنوائی۔ بدری وشال پتی نے اسے خرید لیا۔ بعد میں حسین صاحب کی عالم خوندمیری صاحب سے رشتہ داری بھی ہوئی۔ عالم صاحب ادب کے ساتھ آرٹ کے بھی بہت اچھے Critic تھے۔ انہوں نے بتایا کہ حیدرآباد میں ادب اور آرٹ میں گہرا تعلق رہا۔ حالانکہ ادب الگ ذریعہ اظہار ہے اور آرٹ ایک الگ فن ہے۔ اس میں شک نہیں کہ رسائل کے ٹائٹل پر آرٹسٹوں سے اسکیچس بنائے گئے۔ ماہنامہ ’’شمع‘‘ نے کہانیوں اور شاعری پر بھی اسکیچس بنوائے لیکن وہ اسکیچس کے زمرے میں آتے ہیں پینٹنگ کے نہیں۔ حیدرآباد میں ادیبوں، شاعروں اور آرٹسٹوں میں گہرے تعلقات رہے۔ سعید بن محمد صاحب اور مخدوم صاحب بہت اچھے دوست تھے۔ سعید بن محمد صاحب نے مخدوم صاحب کا بہت اچھا پورٹریٹ بنایا تھا۔ سعید صاحب کے مراسم سلیمان اریب سے بھی تھے۔ اریب صاحب نے ’’صبا ‘‘میں ان کی پینٹنگس کے متعلق ایک مضمون بھی شائع کیا تھا۔ سعید صاحب شاعری سے بے حد متاثر بلکہ مرعوب تھے۔ اپنا تخلص نقشؔ رکھ لیا اور شاعری بھی کی۔ سعید صاحب کا آخری دنوں کا بڑا کام معظم جاہی مارکٹ کی عمارتوں پر بنائے ہوئے میورل تھے۔ ہم نے ابتداء میں ذکر کیا کہ عزیز آرٹسٹ کے بھی ادیبوں، شاعروں سے اچھے تعلقات رہے۔ برسبیل تذکرہ بتادیں کہ انہوں نے سلیمان اریب، صفیہ اریب، عزیز قیسی، مغنی تبسم، آمنہ ابوالحسن، ناز صدیقی، مجتبیٰ حسین اور بیگ احساس کے پورٹریٹ بنائے۔ ابھی حال ہی میں عابد علی خان اور محبوب حسین جگر کا بڑا پورٹریٹ بنایا ہے۔

انہوں نے اپنے سینئرز میں عبدالرحیم صاحب کو یاد کیا جو لینڈ اسکیپ اور پورٹریٹ کے بہت اچھے آرٹسٹ تھے لیکن رحیم صاحب کبھی فری لانسر نہیں رہے۔ وہ بہت سادگی پسند آدمی تھے۔ بہت سے آرٹسٹ فری لانس نہیں رہ سکے۔ انہوں نے کہا کہ ایک اور عزیز آرٹسٹ تھے جنہوں نے لکشماگوڑ کے ساتھ کافی کام کیا۔ ہندوستان کے باہر بھی گئے۔
ہمعصروں میں انہوں نے لکشماگوڑ، سوریا پرکاش، وائی کنٹم کے نام لئے۔ لکشما گوڑ نے تلنگانہ اور دکن کے لینڈ اسکیپ پینٹ کئے۔ سوریا پرکاش تجریدی آرٹ کے ماہر ہیں اور وائی کنٹم پورٹریٹ کے۔ عزیز نے بتایا کہ انہوں نے تھری ڈائمنشن کی تکنیک خود ہی دریافت کی۔ یہ ان کی اپنی ایجاد ہے جسے بہت مقبولیت حاصل ہوئی۔ گھوڑوں سے دلچسپی کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ ان کے والد صاحب کے یہاں گھوڑے ہوا کرتے تھے۔ وہ بچپن سے گھڑ سواری کرتے ہیں۔ انہوں نے گھوڑوں کو بہت قریب سے دیکھا۔ اس لئے جب گھوڑوں کی پینٹنگ بناتے ہیں تو لوگ پسند کرتے ہیں۔ انہوں نے جو گھوڑے بنائے ان میں تاج دکن کی پینٹنگ چیلنجنگ ثابت ہوئی کیونکہ سائز کے لحاظ سے وہ بہت بڑی پینٹنگ تھی۔ تناسب برقرار رکھنا ایک طرح کا چیلنج تھا۔ عزیز نے بتایا کہ حیدرآباد کی ایک روایت یہ بھی تھی کہ فلم پبلسٹی کے لئے بڑے بڑے ہورڈنگس بنائے جاتے تھے۔ گوکہ یہ کمرشیل آرٹ تھا لیکن بعض آرٹسٹوں نے اس میں بھی اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔ سعادت صاحب بہت اچھے آرٹسٹ تھے۔

عزیز آرٹسٹ نے پینٹنگ اور فوٹو گرافی کا فرق واضح کرتے ہوئے بڑی خوبصورت بات کہی۔ فوٹوگرافی لمحے کو گرفت میں لینے کا فن ہے جبکہ پینٹنگ میں خیال کو Develop کرنا پڑتا ہے۔ پینٹنگ میں تخلیقیت کی بہت اہمیت ہوتی ہے۔ عزیز آرٹسٹ نے لارڈ بدھا اور نٹراج وغیرہ کی بھی بے شمار عمدہ پینٹنگس بنائیں۔ ہم نے جب پینٹنگس میں مذہبی رجحان کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا کہ مذہبی رجحان کا عمدہ اظہار خطاطی کے ذریعہ کیا جاسکتا ہے۔ خطاطی ایک ایسا فن ہے جیسے موسیقی! جس طرح موسیقی میں سروں سے واقف ہونا بے حد ضروری ہوتا ہے اسی طرح خطاطی کے بنیادی اصولوں سے واقفیت بھی ضروری ہے۔ خطاطی بہت بڑا فن ہے جسے خوش نویسوں نے اپنا خون جگر دے کر نقطہ عروج پر پہنچایا۔ بے پناہ تجربے بھی کئے گئے۔ کسی بھی کام کے لئے خلوص بے حد ضروری ہوتا ہے۔ صادقین نے خطاطی میں کامیاب تجربے کئے۔

عزیز آرٹسٹ نے بتایا کہ وہ اپنے مخصوص انداز سے باہر آنا چاہتے ہیں۔ اس کے لئے وہ مختلف تجربے کررہے ہیں۔ کوئی چیز کسی کے ساتھ مخصوص ہوجاتی ہے تو لوگ اس سے وہی چاہتے ہیں۔ عزیز آرٹسٹ کے سات لڑکے ہیں اور سب کے سب فری لانسر ہیں۔ وہ مختلف فنون میں مہارت رکھتے ہیں۔ دو بیٹے عقیل اور خلیل بھی پینٹنگس بناتے ہیں لیکن انہوں نے اپنے والد سے مختلف انداز اپنایا۔ برگد کے سائے میں دوسرے پودوں کا پنپنا مشکل ہوتا ہے لیکن دونوں بیٹوں نے یہ کر دکھایا۔ عزیز آرٹسٹ نے کہا کہ اب نئے فنکاروں نے ریاض کرنا چھوڑ دیا ہے۔ یہ برانڈ کا زمانہ ہے۔ جس طرح قیمتی کاروں اور برانڈیڈ اشیاء کی مانگ ہے، اسی طرح نامور آرٹسٹوں کی پینٹنگس رکھنا Status Symbol ہے۔ کام پرکھنے والے اب نہیں رہے۔ صرف نام دیکھا جاتا ہے۔ پہلے دو یا تین مشہور آرٹسٹ تھے۔ اب بے شمار آرٹسٹ ہیں۔ ہر ہفتے مختلف آرٹ گیلریز میں نمائش ہوتی ہے۔ جو لوگ تخلیقی کام کرتے ہیں وہ آج بھی قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔ موجودہ دور میں فوٹوشاپ کی وجہ سے کیا پینٹنگ پر کوئی اثر پڑا؟ اس کے جواب میں عزیز آرٹسٹ نے کہا Xerox نکال کر فوٹوشاپ میں جاکر مکسنگ کی جارہی ہے لیکن جذبے کی شمولیت کے بغیر کوئی بھی فن پارہ تاثر نہیں چھوڑتا۔ ہیومن ٹچ بے حد ضروری ہوتا ہے۔ Re-Production کسی تخلیق کا نعم البدل نہیں ہوسکتا۔
ہم نے اس درویش صفت فنکار کی طرف دیکھا جس کے ہزاروں قدر دان ہیں لیکن جس کا اپنا کوئی ذاتی مکان نہیں، لمبی سی خوبصورت کار نہیں ہے۔ وہ لمحہ ٔموجود میں جینے پر ایقان رکھتا ہے اور کل کے بارے میں سوچنا نہیں چاہتا۔

TOPPOPULARRECENT