Tuesday , January 23 2018
Home / مضامین / حیدرآباد جو کل تھا محمد عبدالقادر

حیدرآباد جو کل تھا محمد عبدالقادر

محبوب خان اصغر

محبوب خان اصغر
’’حیدرآباد کن کے کئی باشندے آب و دانے کی تلاش میں دوسرے ممالک کا رخ کرچکے ہیں ۔ اس رویہ میں تیزی اس وقت آئی جب ملک آزاد ہوا ، اور آزادی کے ساتھ قومی ، ملکی اور سیاسی مسائل کچھ زیادہ ہی تشویشناک ، ہنگامی اور فکر انگیز ہوگئے ۔ فرقہ پرستی سراٹھانے لگی اور معاشی ، اقتصادی اور صنعتی استحکام کے بجائے ان میں ایک طرح کا تنزل اور انتشار آیا ۔ ان حالات میں نوجوان غول در غول انگلستان جانے لگے جہاں تعلیم کے ساتھ ان کی معیشت بھی سدھرنے لگی اور بعد میں امریکہ نے نوواردوں کو خوش آمدید کہا اور اس زمانے میں سعودی عرب نے بھی غیر ملکیوں کیلئے بالخصوص حیدرآبادیوں کیلئے اپنے دروازے کھول دئے ۔ چنانچہ اس زمانے میں ، میں نے بھی امریکہ کا رخ کیا اور آمد ورفت کا یہ سلسلہ ایک دہائی تک جاری رہا ۔ بعد میں میں نے مستقلاً امریکہ کو اپنا مسکن بنالیا ۔ میں بظاہر اپنے وطن اور شہر سے دور ہوں مگر ذہن و دل میں قدیم دکن بسا ہواہے ۔ یہاں کی تہذیب ، یہاں کا تمدن ، یہاں کا طرز معاشرت ، یہاں کا اعلی ثقافتی ورثہ ، یہاں کی علمی ، ادبی خصوصیات کو میں نے اپنے سینے سے لگائے رکھا ہے‘‘ ۔ جی ہاں یہ احساسات محمد عبدالقادر کے ہیں جو ’’حیدرآباد جو کل تھا‘‘ کے موضوع پر ہمارے سوالات کے جوابات دے رہے تھے ۔ چوہتر سالہ عبدالقادر کا تعلق دکن کے قدیم شہر ملک پیٹ سے ہے جس کی بابت انہوںنے یوں لب کشائی کی کہ عنبرپیٹ ، اُپل اور دلسکھ نگر ملک پیٹ ہی میں شامل تھے ۔ بعد میں انہیں علحدہ کرکے یہ نام دئے گئے ۔ اطراف و اکناف میں آسمان گڑھ ، موسی رام باغ ، ایل بی نگر ، آٹو نگر اور ناگول ان دنوں بہت گنجان علاقے بن گئے ہیں ۔ ملک پیٹ کی ایک تاریخی حیثیت ہے ۔ یہاں کی سرزمین پر کئی نامور شعراء اور ادیبوں نے سکونت اختیار کی ۔ ریس کورس کی وجہ سے مذکورہ شہر کو بہت مقبولیت حاصل ہوئی ۔ کیونکہ براہ ملک پیٹ ہی ریس کورس جانا پڑتا ہے ۔ شہر کے روساء اور معززین کے علاوہ بیرونی سیاح ریس کورس جاتے تھے جہاں گھوڑوں کی دوڑ دیکھنے کیلئے اژدھام ہوتا تھا ۔ قرب و جوار میں دوکانیں سجتی تھیں اور یہ رونق وہاں ہمیشہ ہوا کرتی تھی ۔

محمد عبدالقادر کے والد بزرگوار عبدالعزیز مرحوم عدلیہ کے مصنف مجسٹریٹ تھے جس کے سبب ان کا قیام مستقلاً ایک جگہ نہیں رہا ۔ ان کے والد جہاں جاتے وہ ان کے ہمراہ ہوجاتے ۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی تعلیم باقاعدہ طور پر کسی ایک مدرسہ میں نہ ہوسکی ۔ بیدر ، رائچور اور اورنگ آباد کے مختلف مدرسوں میں دسویں جماعت تک تعلیم حاصل کی ۔ انہوں نے بتایا کہ اس زمانے میں پرنسپل کے بجائے ہیڈ ماسٹر ہوا کرتے تھے جو آٹھویں تا دسویں جماعتوں کو پڑھاتے بھی تھے ۔ دوسرے اساتذہ کے برخلاف ہیڈ ماسٹر کا رعب اور دبدبہ ہوا کرتا تھا ۔ اس زمانے میں ہیڈ ماسٹر ایم اے آگزن ہوا کرتے تھے ۔ تیسری جماعت ہی سے انہیں عربی اور فارسی سکھائی گئی ۔ اور چوتھی جماعت سے انگریزی شروع ہوئی مگر ابتداء ہی سے قواعد پر زیادہ توجہ دلائی جاتی تھی ۔ دست کاری ، کاغذی اور لکڑی کے کھلونے اور فنون لطیفہ کیلئے باضابطہ ایک گھنٹہ مختص تھا ۔ بچوں کو جسمانی طور پر چست و چالاک رکھنے کیلئے اساتذہ حتی الامکان کوشش کرتے تھے ۔ کبڈی اور دوڑ طلباء کو چاق و چوبند رکھنے کیلئے ضروری سمجھے جاتے تھے ۔ آج کل فنون لطیفہ اور صحت پر کوئی خاص توجہ نہیں دی جارہی ہے ۔ انہوں نے سلسلہ گفتگو کو آگے بڑھاتے ہوئے بتایا کہ ان کا تعلیمی سلسلہ قریہ اور گاؤں سے ہوتا ہوا حیدرآباد پہنچا ۔ گیارہویں اور بارہویں جماعت سائنس کالج سیف آباد سے پاس کرنے کے بعد دکن کی مشہور جامعہ عثمانیہ میں داخلہ لیا ۔ اور بی ایس سی کی ڈگری حاصل کی ۔ جامعہ عثمانیہ میں گذارے ہوئے تین سال کو اپنا قیمتی سرمایہ کہتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مملکت آصفیہ کے آخری تاجدار حضور نظام میر عثمان علی خان آصف سابع کا اعلی ترین کارنامہ عثمانیہ یونیورسٹی کا قیام ہے جہاں سے علم نامانوس زبانوں سے نکل کر نہ صرف یہ کہ اردو میں منتقل ہوا بلکہ عام اور آسان ہوا ۔ معزز مہمان نے بتایا کہ کئی بار اعلی حضرت کے دیدار سے وہ مشرف ہوئے۔ ان میں ایک درویشانہ شان تھی ۔ سر پر ترکی ٹوپی ۔ گلے میں معمولی سامفلر ، سیدھے سادھی شیروانی ، اور نہایت سادہ جوتا ان کی میانہ روی کی عمدہ مثال پیش کرتا تھا ۔ مگر کچھ عاقبت نااندیشوں نے اس عاقبت اندیش اور بادشاہ کو بخیل بھی کہا مگر اس عالی ظرف انسان نے چندے کی استدعا کرنے والوں کو ان کی توقع سے زیادہ مال دیا ۔ ملک کی ایسی سینکڑوں اسلامی درسگاہیں ہیں جن کو اعلی حضرت نے فیضان پہنچایا ، کیونکہ ان کی دانست میں یہی درسگاہیں مستقبل میں فیض عام کا باعث بن سکتی تھیں ۔ یہی نہیں بلکہ اعلی حضرت نے ہندوؤں کی درسگاہوں کیلئے بالخصوص اچھوتوں کے مفاد کی خاطر اپنے نجی خزانے بھی لٹائے ۔ مسجد نبوی میں سب سے پہلے روشنی کا انتظام کرنے والی اعلی حضرت ہی ہیں ۔ آج رفاہی کاموں کیلئے سرمایہ کی منظوری میں لیت ولعل سے کام لیا جاتا ہے جس سے فلاحی کاموں کی انجام دہی سے عدم دلچسپی کا اظہار ہوتاہے اور یہی فرق کل اور آج میں ہے ۔ حیدرآباد جو کل تھا کسی بھی اعتبار سے آج نہیں ہے ۔ اب جبکہ اس عنوان سے کل کے حیدرآباد کا روشن رخ سامنے آرہا ہے تو بہت ممکن ہے کہ نئی نسل اپنی گمشدہ تہذیب کی بازیابی کیلئے جدو جہد کرے ۔ انہوں نے اپنے ماضی کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ احمد علی ، فاروق صاحب ، اودیش پانڈے اسکول میں ان کے اساتذہ رہے جبکہ کالج کے دوران شرف الدین صاحب اور راماراؤ صاحب وغیرہ نے انہیں پڑھایا تھا ۔
انہوں نے اس بات کا انکشاف بھی کیا کہ اساتذہ کو حکومت کی جانب سے اعلی تعلیم کیلئے دوسرے ممالک روانہ کیا جاتا تھا ۔ جہاں سے وہ نکھرے ستھرے لوٹ کر ریاستی مدرسوں میں بہتر خدمات انجام دیا کرتے تھے اور اپنی نگرانی میں اپنے تلامذہ کو نئی جہتوں سے روشناس کرواتے تھے جس کی وجہ سے طلباء میں مجتہدانہ جذبات پیدا ہوتے تھے اور انہیں کامیابیوں سے ہمکنار ہونے کی طاقت ملتی تھی ۔

12 سپٹمبر 1948 کو پیش آنے والے واقعات کا بھی انہوں نے ذکر کیا اور اظہار تاسف کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کی فوجوں نے ملٹری ایکشن کے بہانے ریاست حیدرآباد پر چڑھائی کی اور 18 سپٹمبر کو اسلامی ریاست کا خاتمہ ہوگیا جس کا رقبہ دور دور تک پھیلا ہوا تھا اور جس کی آبادی دو کروڑ سے بھی زیادہ تھی جس کا اپنا سکہ تھا ، اپنی فوج تھی ، اپنی ریل تھی ، جہاں انکم ٹیکس کا بار گراں نہ تھا ، اور جہاں کے نظم و نسق کی مثالیں دی جاتی تھیں اورہندو مسلم رعایا اعلی حضرت نواب میر عثمان علی خان کو دعاؤں سے نوازا کرتی تھی ۔ پولیس ایکشن سے قبل ریاست حیدرآباد میں فسادات کا تصور بھی نہیں تھا ۔ رواداری تھی ، سب شیر و شکر کی طرح رہا کرتے تھے ۔ عوام ، عوام تھے اور خواص حکومت کے بنائے ہوئے اصولوں کے تحت عوام سے رابطہ رکھتے تھے ۔
آندھرا تحریک سے متعلق انہوں نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ اس وقت بھی اپنے حقوق کے حصول کیلئے احتجاج ہوا کرتا تھا مگر پرامن ۔ حکومت کی پالیسیوں سے ناخوش عوام حکومت کو اپنی حق تلفیوں کا احساس دلانے کیلئے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوجاتے تھے ۔ انہوں نے اس ضمن میں اپنے وقت کے پرامن احتجاج کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ جواہر لال نہرو آئے ہوئے تھے ، حسین ساگر سے متصل سڑک کی دونوں جانب کھڑے ہو کر عوام ’’حیدرآباد کو تقسیم مت کرو‘‘ کے نعرے لگارہے تھے ۔ لاء اینڈ آرڈر قوی تھا اس کے باوجود ہمارے احتجاج کرنے پر پولیس کو شکوہ تھا نہ ہی پنڈت نہرو کو وہ مسکراکر گذر گئے ۔ محمد عبدالقادر جو دیار غیر میں ربع صدی سے مقیم ہیں ، اپنے ہی دیار میں قدم رنجہ فرما کر بیحد مسرور نظر آرہے تھے اپنے روز و شب سے متعلق انہوں نے بتایا کہ امریکہ ہی سے انہوں نے ایم بی اے کی ڈگری حاصل کی اور وہیں پر ادویات کی معروف کمپنی میں مارکٹنگ کنسلٹنٹ ہیں ۔ انہوں نے امریکہ کے حوالے سے بتایا کہ وہاں تعلیم کا حصول سستا بھی ہے اور آسان بھی ۔ نصاب کے مسائل پر بہت ہی سنجیدہ اور فکر انگیز گفتگو کی جاتی ہے اور اسے عملی شکل دینے کیلئے ٹھوس اقدامات بھی کئے جاتے ہیں ۔
رشتوں کی اہمیت (فیملی ویلوز) پر اٹھائے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ قدیم حیدرآباد میں رشتوں کا تقدس اور حرمت اہمیت کی چیز تھی ۔ محبت ، شفقت اور صداقت جیسے جذبات کے ساتھ رشتے باقی رہتے تھے ۔ لوگ زندہ ہوتے اور رشتے بھی باقی رہتے تھے آج لوگ زندہ ہیں مگر رشتے مر گئے ہیں ۔ ہر طرف رشتوں کے وجود کی نفی ہے ۔ نہ باہمی رابطے ہیں نہ قربتیں نہ آپسی ہمدردیاں ، ہر طرف اقدار کی پامالی کے گہرے نقش ہیں ۔ اس بدلتے تہذیبی اور سماجی عوامل کی زد سے دامن بچانا از حد ضروری ہے ۔

قدیم حیدرآباد کی شادیوں سے متعلق انہوں نے تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ شادی سے قبل مہندی اور سانچق کا رواج اسی زمانے کا ہے مگر اس میں آج جو شدت پسندی آگئی ہے اس کا تدارک ضروری ہے تاکہ وقت کا زیاں نہ ہو اور غیر ضروری اخراجات سے بھی بچا جاسکے ۔ بروز شادی دلہن والوں کی جانب سے طعام کا نظم ہی نہیں ہوتا تھا ۔ چائے یا آئسکریم سے مہمانوں کی خاطر تواضع کی جاتی تھی ۔ استطاعت رکھنے والے چوتھی کی رقم ادا کرتے تھے مگر اس میں کسی کی طرف سے جبر نہیں ہوتا تھا۔ ولیمہ کا کھانا چوکیوں پر کھلایا جاتا تھا ۔ چاہے امیر ہو یا غریب ۔ لقمی ، دم کے کباب اور بریانی سے مہمانوں کی ضیافت کرتے تھے ۔ چوکی آٹھ لوگوں کے لئے ہوتی تھی ۔ آٹھ لقمے رکھے جاتے تھے ۔ دستر خوان کے آداب اور پڑوس میں بیٹھے ہوئے فرد کا خاص خیال رکھا جاتا تھا ۔ روساء اور امراء کی تقاریب میں دو اقسام کی بریانی بنائی جاتی تھی ۔ ایک پیلی اور ایک سفید ۔ سفید بریانی پر انڈے ابال کر رکھے جاتے تھے ۔ بگھارے بیگن تو اتنا مشہور ہے کہ اس کے ذکر کے بغیر دکن کی تاریخ ہی ادھوری ہے ۔ دہی کی چٹنی بھی دسترخوان کی زینت بڑھاتی تھی ۔ میٹھوں میں بادام کی جالی ہی کو فوقیت دی جاتی تھی ۔ آج اسٹاٹر (starter) کے نام پر ٹیبل بھردی جاتی ہے ۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ لوگوں کوکھانے کا ہَوکا ہوگیا ہے یا اسراف کا شوق ۔ پہلے کاچی گوڑہ اور نامپلی سرائے میں ٹھہرے ہوئے مسافرین کیلئے کھانا پہونچایا جاتا تھا ۔ خوشی کے موقعوں پر یتیم خانے یاد رکھے جاتے تھے ۔ آج دکن کی یہ تہذیب اور وہ معاشرہ صرف یاد بن کر رہ گئے ہیں ۔ تواتر سے شادیاں ہوں تو ہر شادی کیلئے نئے کپڑے سلوائے جاتے ہیں ۔ محدود آمدنی کے حامل لوگ یہ کیسے کرسکتے ہیں ۔ کچی بریانی یا یخنی والی بریانی ، ایک میٹھا آج یہی مناسب ہے ۔ اور اس عمل سے گمشدہ تہذیب کی بازیافت ہوسکتی ہے ۔ آج لقمی بنانے والے ،کلچے بنانے والے کہاں ہیں ۔ یہ صنعت تو ختم ہوگئی ہے ۔ لوہے کی صنعتیں ختم ہوگئی ہیں ، گھوڑوں کی نال ٹھونکنے والے بھی اب ندارد ہیں ۔ ہینڈلوم انڈسٹری کیلئے بھی ہماری ریاست اور ہمارا ملک بہت مشہور تھا ۔ انگریزوں نے تو ململ بنانے والوں کے ہاتھ کاٹے تھے ۔ ہم نے خود ہی ہینڈ لوم انڈسٹری کا گلا گھونٹ دیا ۔ حیدرآباد کے قدیم مکانات کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ بہت ہی کشادہ ہوا کرتے تھے ۔ چار کمرے اور صحن اندر بھی ہوتا تھا اور باہر بھی ۔ بچے گلی کوچوں اور سڑکوں پر نہیں اپنے ہی گھروں میں کھیلا کرتے تھے ۔

دادی ، نانی اور مائیں کہانیوں اور واقعات کے وسیلے سے بچوں کو بنیادی تعلیم دیا کرتی تھیں ۔ محمد عبدالقادر نے جہاں قدیم حیدرآباد کے مروجہ روایات کا ذکر کیا وہیں انہوں نے بتایا کہ خواتین پکوان کے لئے لکڑی کا استعمال ہی کرتی تھیں ۔ سفالی برتن میں تیار شدہ سالن کا لطف کچھ اور ہوتا تھا ۔ جابجا لکڑی کی ٹال نظر آتی تھی جو ان دنوں قریب الختم ہیں ۔ بعد میں مٹی کا تیل آیا ۔ مسافرین اور خاندان کے مختلف افراد لمبے سفر کیلئے نکلتے تو مٹی کا تیل اور اسٹو اپنے ساتھ رکھتے تھے ۔ گیس ، پریشر کوکر اور گرائنڈر کے اس دور میں پکوان میں وہ ذائقہ نہیں جو لکڑی کے چولہے اور سفالی برتن میں تیار کئے جانے والے کھانوں میں ہوا کرتا تھا ۔ کل کے حیدرآباد کی ایک سچی تصویر کھینچتے ہوئے قادر صاحب نے بتایا کہ لباس کا تعلق معاشرتی روایتوں سے ہوتا ہے ۔ ریاست حیدرآباد میں اس وقت شیروانی اور بڑے پائنچوں والا پاجامہ ہی زیب تن کیا جاتا تھا ۔ کیا ہندو اور کیا مسلمان سب اس کا استعمال کرتے تھے ۔ چوڑی دار پاجامہ بعد میں آیا ۔
خواتین سر ڈھکے ہوتی تھیں اس میں مذہب اور فرقے کا کوئی امتیاز نہیں تھا ۔ برقعہ مسلمانوں کیلئے مخصوص تھا ۔ سن رسیدہ خواتین بطور پردہ چادر کا استعمال کرتی تھیں ۔ ماڑواڑی طبقہ کی خواتین اگرچیکہ ساڑیاں پہنتی تھیں مگر نقاب سے اپنا چہرہ ضرور چھپائے رکھتی تھیں ۔ تقاریب میں سوائے دولہے اور ان کے قریبی رشتہ داروں کے سارے لوگ شیروانی ہی پہنا کرتے تھے ۔ پھر پتلون شرٹ اور سوٹ عام ہوتے چلے گئے ۔ دوسری ریاستوں کی آبادیاں ریاست حیدرآباد میں منتقل ہونے لگیں اور وہ اپنا کلچر لے آئے ۔اس لئے یہاں مختلف تہذیبوں کا سنگم نظر آتا ہے ۔ نیز انہوں نے بتایا کہ یہاں شعبہ تعلیم میں جو امتیازی کامیابی حاصل کرتے انہیں گوکھلے اسکالرشپ دی جاتی تھی ۔ انٹر یا گریجویشن کے بعد اعلی تعلیم کے حصول کیلئے مشروط طور پر انہیں دوسرے ممالک روانہ کیا جاتا تھا کہ جہاں ان کی جڑیں ہیں اس سرزمین کو فیض پہنچائیں گے ، چنانچہ ڈاکٹر کرلوسکر ، ڈاکٹر بنکٹ چندرا ، ڈاکٹر بہادر خان وغیرہ نے ایجوکیشن ٹرسٹ کے ذریعہ نہیں بلکہ گورنمنٹ اسکالرشپ کے ذریعہ اپنے مقاصد کو حاصل کیا ۔ مذکورہ اطباء نے جو خدمات انجام دیں انہیں حیدرآباد کی تاریخ میں یاد رکھا جائے گا ۔

ہمارے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے حیدرآباد کے ایک اور روشن پہلو کو ظاہر کرتے ہوئے بتایا کہ گھروں میں ملازمہ کا تقرر کرنے سے قبل اس کا خاندانی پس منظر دیکھا جاتا تھا اور ملازمہ خود بھی خاندانی طور پر خدمت کرنا جانتی تھی اور وہ اس قدر قابل اعتماد ہوتی تھیں کہ مکین نہ بھی ہوں تو اہم اور غیر اہم بلکہ تمام گھر کا تحفظ دل و جان سے کیا کرتی تھیں ۔ گھر کے افراد اسے ملازمہ نے سمجھ کر اپنے ہی گھر کا ایک رکن تصور کرتے ہوئے اسکی عزت کرتے تھے ۔ اس کے بچوں کو سرکاری مدرسوں میں پڑھاتے تھے اور ان کی شادیوں میں اعانت کرتے تھے ۔
شہر حیدرآباد کی سڑکیں بیس میل تک سیمنٹ کی بنی ہوئی تھیں اور تصور یہ تھا کہ مستقبل میں شہر بیس میل تک پہنچ جائے گا مگر چالیس تا پچاس کیلومیٹر تک شہر پھیلتا جارہا ہے ۔ 1970تا 1975 جوبلی ہلز اور بنجارہ ہلز کے صرف نام سنے جاتے تھے ۔ آج یہ شہر عصری سہولتوں سے لیس ہیں ۔ ذرائع ابلاغ کی صنعتوںکیلئے گچی باؤلی نے اس شہر کی دنیا بھر میں شناخت بنائی ہے ۔ اس کے باوجود حیدرآباد کی محبت اس بات کی متقاضی ہے کہ ہم اس کی تمام تر خوبیوں اور محاسن کو زندہ و تابندہ رکھیں ۔ ان تمام صفات کو بھی زندہ رکھیں جو نیک نامی کا ذریعہ تھیں ۔ بے شک آج یہاں اجاگر ہونے کے بے شمار مواقع ہیں ۔ خود کو بھی اجاگر کریں اور یہاں کی گم گشتہ تہذیب کو بھی ڈھونڈ نکالیں کہ یہی ہمارا بیش بہا بیش قیمت ورثہ ہے ۔

TOPPOPULARRECENT