Saturday , June 23 2018
Home / مضامین / حیدرآباد جو کل تھا پروفیسر مرزا محمد تقی خان

حیدرآباد جو کل تھا پروفیسر مرزا محمد تقی خان

محبوب خان اصغر

محبوب خان اصغر
’’حیدرآباد جو کل تھا‘‘ کے موضوع پر بات چیت کرنے کے لئے ہم نے دکن کی ادبی ، سماجی اور ثقافتی زندگی سے جڑی ایسی شخصیات کا انتخاب کیا ہے ، جنہوں نے اپنی آنکھوں سے حیدرآباد کو اور یہاں کے نشیب و فراز کو دیکھا ہے ۔ ہماری کوشش یہی ہے کہ ان شخصیات کے حوالے سے کل کے حیدرآباد کو آج پیش کیا جائے جو کہ وقت کی اہم ترین ضرورت بھی ہے ، چنانچہ ہم نے ممتاز عثمانین ڈاکٹر مرزا محمد تقی خان کو اس ضمن میں زحمت دی، جسے انہوں نے رحمت جانا اور کہا کہ قدیم حیدرآباد سے متعلق باتیں کرنے کوجی ترستا ہے ۔ عمر کے اس حصے میں پہنچ گیا ہوں جہاں تنہائی کا شدید احساس ہوتا ہے ۔ شریک سفر کو پیوندِ خاک ہوئے تین برس ہوگئے ۔ نصف درجن دختران ہیں ، پانچ امریکہ میں رہتی ہیں اور ایک حیدرآباد ہی میں میری حویلی کے قریب میں مقیم ہے ۔ نواسے اور نواسیاں ہی سامان دلجوئی ہیں ۔ قرطاس و قلم سرہانے ہوتے ہیں ۔ ڈاکٹر سرمحمد اقبال پرکچھ کام کررہا ہوں ’’اقبال کا تصور خودی‘‘ ۔ اس عنوان سے ایک کتاب بہت جلد منظر عام پر آنے والی ہے جبکہ دو تصانیف ’’اقبال کا سائنسی منہاج ِ فکر‘‘ اور ’’انسان اور کائنات ، فکرِ اقبال کی روشنی میں‘‘ شائع ہوچکی ہیں ۔

ایم ایم تقی خان نے کہا کہ حیدرآباد دکن کی ایک مربوط اور ارتقاء پذیر تاریخ رہی ہے ۔ علوم و فنون کے اس روشن گہوارے میں ادبا ، شعراء ، محققین ، ماہرین تعلیم ، علماء ، فضلاء اورسائنسدانوں کے علاوہ دیگر اکابرین نے علم و دانش کے کچھ ایسے چراغ فروزاں کئے ، جن کی روشنی سے ایک دنیا منور ہوئی ۔
رودِ موسی کی ایک جانب عثمانیہ دواخانہ ، دوسری جانب سٹی کالج اور ہائی کورٹ کی عمارت ہے اور یہ دونوں عمارتیں اعلی حضرت کے کشادہ قلب ہونے کی مظہر ہیں ۔ اسمبلی ، جوبلی ہال ، باغ عامہ ، حسین ساگر ، عثمان ساگر ، عثمانیہ یونیورسٹی ، نظام کالج ، نظام انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسس (نمس) اعلی حضرت کے دور کی تعمیرات ہیں ۔ اس طرح یہ کہا جاسکتا ہے کہ سرزمین حیدرآباد پر جتنی تاریخی عمارتیں ہیں اور جن سے حیدرآباد کی آن بان شان اور کشش باقی ہے وہ سب اعلی حضرت کی دین ہیں اور میری زندگی کا پھیلاؤ اس زرین دور سے شروع ہو کر یہاں تک موجود ہے ۔ میں نے کئی نشیب و فراز دیکھے ہیں ۔ میرے والد کا جامعہ عثمانیہ کے اولین بیاچ سے تعلق تھا ۔ انہوں نے اردو سے بی اے اور ایم اے کی ڈگریاں حاصل کی تھیں ۔ نواب بہادر یار جنگ ان کے ہم جماعت تھے ۔

ہمارا خاندان حیدرآباد کا قدیم ترین خاندان ہے ۔ سالار جنگ اور پائیگاہ کے خاندانوں سے بھی قدیم ۔ ہمارے آباء و اجداد ایران کے رہنے والے تھے ۔ جداعلی محمد سمیع خان اور محمد معین خان آصف جاہ اول سے بھی پہلے حیدرآباد تشریف لائے تھے ۔ آصف جاہ اول سے تعلق کی بنیاد پر حیدرآباد میں مستقل رہائش اختیار کی ۔ آصف جاہ نے انہیں معین الملک حسام الدولہ اور ہفت ہزاری جیسے خطابات سے نوازا تھا ۔ ہمارے جداعلی نادر شاہ کی فوج میں کرنل تھے ۔ فوجی تجربہ کی بنیاد پر یہاں انہیں مشرقی حصوں کا کمانڈر انچیف بنایا گیا تھا ۔ ہمارے اسلاف کی یہاں بڑی خدمات رہیں ۔ اس زمانے میں مرہٹوں سے جنگ ہوا کرتی تھی ۔ میرے دادا ابراہیم علی خان شہید ہوگئے تھے ۔ تزک آصفیہ میں ہمارے خاندان سے متعلق سارے واقعات مذکور ہیں ۔ معین خان کی نسل میں میرا نواں نمبر ہے ۔ اب میری عمر 83 برس ہے اور مجھے ناز ہے کہ میرے خاندان کی تاریخ ڈھائی صدی پر محیط ہے ۔

حیدرآباد میں تعلیم کا معیار ہمیشہ ہی سے اونچا رہا ۔ مدارس بھی اعلی درجے کے ہوا کرتے تھے ۔ اعتبار چوک میں اسکول مفید الانام ہے ، جو بڑا ہی مشہور ہے ۔ بڑے بڑے لوگ اس میں پڑھا کرتے تھے ۔ میں اس اسکول کا طالب علم ہوں ۔ بیرسٹر اکبر علی خان کے سکریٹری رائے دلسکھ رام تھے ۔ حیدرآباد کے مہذب افراد میں ان کا شمار ہوتا تھا ۔ شہر کا مصروف ترین علاقہ دلسکھ نگر ان ہی کے نام سے موسوم ہے ۔ میرا تعلق ابتداء سے متمول گھرانے سے رہا ۔ دو گھوڑوں کی بگّھی میں بیٹھ کر اسکول جایا کرتا تھا ۔ بستہ اٹھانے کیلئے چوکیدار ہوا کرتے تھے ۔ میرے ساتھ کائستھ خاندان کے لڑکے بھی ہوتے تھے ۔ ہم دسترخوان بچھا کر ایک ساتھ کھانا کھاتے تھے ۔ میں نے فارسی کی تعلیم کائستھ استاد سے حاصل کی ۔ مغلیہ دور سے ہی کائستھ فارسی کے ماہر تھے ۔ محاسب کے درجوں پر بھی وہی ہوتے تھے ۔ بالا پرشاد فارسی کے استاد تھے ۔ عبدالقادر اردو پڑھاتے تھے ۔ صاحبزادوں کے خاندان سے تعلق رکھنے والے قادر پاشاہ تاریخ ، جغرافیہ پڑھاتے ۔ انداز بڑا ہی پیارا ہوتا تھا ۔ ناگاسوامی سائنس پڑھاتے تھے ۔ انہوں نے ہی مجھے کیمسٹری کی طرف مائل کیا ۔ مفید الانام میں پرائمری تا ہائی اسکول تعلیم کا نظم تھا ۔ میرے دیرینہ رفقاء میں جسٹس سردار علی خان کا نام سرفہرست ہے اگرچیکہ وہ اب نہیں رہے مگر واسودیو پلّے حیات ہیں ، جن کے ساتھ کل کے حیدرآباد پر اکثر گفتگو ہوا کرتی ہے ۔ قدیم حیدرآباد میں امراء کا لباس دستار ، سرپیچ ، ست لڑا ، زمرد ، دونوں بازوؤں پر بازو بند ، انگرکھا ، تلوار اور سلیم شاہی جس پر کارچوب کا کام ہوا کرتا تھا ۔ نواب میر عثمان علی خان 1911 میں تخت نشین ہوئے اور اقتدار کی ربع صدی مکمل ہونے پر 1936 میں سلور جوبلی تقریب عظیم الشان پیمانے پر منائی گئی ۔ تمام بچوں میں چاندی کے تاج تقسیم کئے گئے تھے جو مجھے بھی ملا تھا اور آج تک میرے پاس محفوظ ہے ۔

حیدرآباد کی تاریخ نظام کالج کے ذکر کے بغیر ادھوری رہ جائے گی ۔ اس کالج نے حیدرآباد کی شناخت میں نمایاں کردار ادا کیا ہے ۔ اس کالج کی خاص حیثیت اور اہمیت تھی ۔ امراء اور اچھے خاندان کے لوگ ہی داخلے کے اہل سمجھے جاتے تھے ۔ مجھے فخر ہے کہ میں نے نظام کالج میں نہ صرف تعلیم پائی بلکہ 1972 میں اس کالج کا پرنسپل بھی رہا ۔ دراصل نظام کالج نواب فخر الملک بہادر کے بھائی کا مکان تھا ، جس کا قدیم نام اسد باغ تھا ۔ اس سے متصل ایک اور بلڈنگ ہوا کرتی تھی جس میں پرائمری اور ہائی اسکول تھا جس کو مدرسہ عالیہ کہتے تھے ۔ یہاں پرائمری سے ایم اے تک تعلیم کا بہترین نظم تھا ۔ پرنسپل ایک ہی ہوتا تھا اور وہ اکثر انگریز ہوتا تھا ۔ اس زمانے میں آرٹس اور سائنس کے طلباء کی جملہ تعداد ایک سو بیس تھی ۔ سائنس اور آرٹس کی کلاس سالار جنگ ہال میں ہوا کرتی تھی ۔ پروفیسر کامیشور راؤ طبعیات اور فزکس پڑھاتے تھے ۔ ڈاکٹر افضل احمد جو کیمبرج سے واپس ہوئے تھے ریاضی کے استاد تھے ۔ انگریزی عبدالحق پڑھاتے تھے ۔ طلباء کا یونیفارم نیلی شیروانی تھی جس پر نظام کالج کی گنڈیاں ٹنکی ہونا ضروری تھا ۔ گِرے رنگ کی پتلون ،نیلا کوٹ جس پر نظام کالج کا مونوگرام کا ہونا بھی ناگزیر تھا ۔ یونیفارم کی جانچ کیلئے چپراسی محبوب علی مقرر تھا ۔ اساتذہ بیحد قابل تھے ۔ 1947 میں یعنی آزادی سے دو ایک ماہ قبل نظام کالج کی گولڈن جوبلی بڑے پیمانے پر منائی گئی تھی۔ جس کا افتتاح اعلی حضرت میر عثمان علی خان نے کیا تھا ۔ اعلی حضرت نے اپنی تقریر میں نظام کالج کا الحاق مدراس یونیورسٹی سے ختم کرکے جامعہ عثمانیہ سے کردینے کا مژدہ بھی سنایا تھا ۔ نظام کالج کے میرے اپنے کئی تلامذہ حیدرآبادی تہذیب کا نمونہ ہیں جو اس وقت ساری دنیا میں اپنے ملک کی اور بالخصوص حیدرآباد کی نمائندگی کررہے ہیں ۔ ستیا نارائن بھی میرے شاگرد رہے جو وائس چانسلر بن کر عثمانیہ یونیورسٹی سے حال ہی میں وظیفہ حسن خدمت پر سبکدوش ہوئے ہیں ۔

قدیم حیدرآباد میں پردے کی سخت پابندی کی جاتی تھی۔ کالج کے احاطے میں خواتین کے راستے علحدہ ہوتے تھے ۔ جماعتیں الگ ہوتی تھیں اور ہر جماعت میں چلمن لگا ہوتا تھا اور چلمن کے پیچھے ہی سے سوالات کئے جاتے تھے ۔ عثمانیہ یونیورسٹی میرے لئے اس لئے بھی قابل احترام ہے کہ میری شریک سفر بدر تقی خان اسی یونیورسٹی کی پراڈکٹ ہیں۔ ہم دونوں گولڈ میڈلسٹ ہیں ۔ ہم دونوں نے سائنس سے ڈاکٹریٹ کیا ہے اور ہم دونوں نے مل کر 160 پی ایچ ڈی پیدا کئے جو آج دنیا کے بڑے بڑے مقامات پر خوشحال زندگی بسر کررہے ہیں ۔

سرزمین دکن پر کیسی کیسی ہستیاں آباد رہیں ۔ آج ناپید ہیں مگر ان کی خوشبو دکن کی فضا میں آج بھی ہے ۔ پروفیسر وحید الدین سلیم ، خلیفہ عبدالحکیم ، جو اقبال کے بھانجے تھے۔ برسوں یہاں مقیم رہے ۔ یہاں کی ادبی محافل اور مشاعروں میں شرکت کرنا قابل افتخار سمجھا جاتا تھا ۔ مہاراجہ کشن پرشاد جو مدار المہام اور صدراعظم بھی رہے ، اردو کے خادم بھی تھے اور عاشق بھی ۔ ان کی دیوڑھی کے مشاعروں میں امراء اورنواب کے علاوہ تراب یار جنگ بھی آتے تھے ۔ فانی ، جوش ، امجد اور فصاحت جنگ جلیل کا شہرہ تھا ۔ مہاراجہ کشن پرشاد کے باغ میں بسنت پنچمی کی تقاریب ہوا کرتی تھیں ۔ پوشاکیں تقسیم کی جاتیں ۔ ہندو مسلم کی شمولیت سے یکجہتی کا ایک دلنشین منظر ابھرتا تھا ، جو قدیم حیدرآباد کا حقیقتاً طرۂ امتیاز تھا ۔

حیدرآباد ایک خود مکتفی اور خوش حال ریاست تھی ۔ اسکا اپنا ٹپہ تھا ، اپنا ہوائی جہاز ، دکن ایرویز تھا ۔ اپنا ریلوے نظام تھا جس پر NSR نظام اسٹیٹ ریلوے لکھا ہوتا تھا ۔ اس ریاست کا اپنا سکہ بھی تھا ۔ عثمانیہ کرنسی حال حال تک بھی رائج تھی ۔ حیدرآبادی جہاں بھی گئے اپنے ماحول کو ساتھ لیکر گئے۔ اپنی انفرادیت کو باقی رکھا ۔ اقبال اکیڈیمی شکاگو میں بھی ہے ۔ اردو یونین کے زیر اہتمام امریکہ میں اردو پڑھائی جاتی ہے ۔ منشی کے نان بذریعہ ہوائی جہاز امریکہ جاتے ہیں ۔ جہانگیر علی کا پوٹلی کا مسالہ امریکہ جاتا ہے ۔ نہاری بنتی ہے ۔ مشاعرے ہوتے ہیں ۔ ہندو ہوں کہ مسلمان قدیم حیدرآباد میں پاجامہ اور شیروانی پہنتے تھے ۔ خواتین ساڑیاں پہنتی تھیں ۔ شلوار سوٹ بعد کی پیداوار ہے ۔ مہندی ، سانچق وغیرہ ہندوؤں کے کلچر کا اثر ہے ، جو مسلمانوں میں در آیا ہے ۔ کل کے حیدرآباد میں لین دین ، گھوڑے جوڑے کو لعنت سمجھا جاتا تھا ۔ اس کے باوجود امراء مقروض ہوا کرتے تھے ۔ جھوٹی شان انکی گرہ میں تھی ۔ دھن راج گیر ، پرتاپ گیر ، منی لینڈر ہوا کرتے تھے ۔ مارواڑی اور سوامی لوگوں کے ہاں بڑے بڑے بینکرس ہوتے تھے ۔ ساری ریاست انکی قرض دار ہوا کرتی تھی ۔ سالار جنگ اول جب وزیراعظم بنے تو انہوں نے ان تمام خرابیوں کا سدباب کیا ۔ اعلی حضرت سادگی کی مثال تھے ۔ دولت و ثروت رکھنے کے باوجود معمولی سی شیروانی پاجامہ اور ٹوپی پہنا کرتے تھے۔
قدیم حیدرآباد کا لینڈ مارک نہاری تھی ۔ افضل گنج کے نکڑ پر ’’گڑھے کا چائے خانہ‘‘ نام کی ایک ہوٹل ہوا کرتی تھی جس کی نہاری مشہور تھی ۔ تین پیسے کی نہاری ۔ دو پیسے کا کلچہ ، پانچ روپئے میں شکم سیر ہوجاتا تھا ۔ یہاں کا چاکنا بھی مشہور تھا ۔ حیدرآباد کی کچی یخنی کی بریانی بھی مشہور تھی ۔ زردہ ، سفیدہ بھی مقبول تھے ۔ پتھر کا گوشت بڑا ہی لذیذ ہوتا تھا ۔

پٹنہ میں جس طرح خدا بخش لائبریری ہے، اسی طرح حیدرآباد میں آصفیہ دور کی آصفیہ لائبریری ہے ۔ سالار جنگ کی لائبریری جو اب سالار جنگ میوزیم منتقل ہوگئی ہے ، بہت سی نادر کتابیں اور مخطوطات وہاں دستیاب ہیں ۔ اردو گھر ، اردو ہال ، انجمن ترقی اردو ، ادارہ ادبیات اردو ، مولانا آزاد ریسرچ سنٹر یہ ایسے مراکز ہیں جہاں ہر موضوع پر کتابیں مل جاتی ہیں ۔ قدیم حیدرآباد میں لوگ اپنے فرصت کے اوقات لائبریری میں گزارتے تھے ۔ مطالعے کیلئے ایسی کتابوں کا انتخاب کیا جاتا تھا جن سے ذہن و دل کو روشنی ملتی تھی ۔ آج کی نسل کتابوں اور مطالعے سے دور ہے ۔
بحیثیت وزیرتعلیم مولانا ابوالکلام آزاد نے تعلیم کا جو ڈھانچہ وضع کیا تھا آج تک وہ کارگر ہے ۔ ہندوستان کو خود مکتفی بنانے میں مولانا آزاد کا جو رول رہا اس کا اعتراف آج سارا ہندوستان کرتا ہے ۔ آج پچاس کے قریب لیبارٹریز ہیں ، جو مولانا آزاد ہی کی مرہون منت ہیں ۔ اس طرح ہند کی تعمیر نو میں اگر کسی کا ہاتھ ہے تو اندرا گاندھی ، مولانا ابوالکلام آزاداور نہرو کا ہے ۔ اور مجھے فخر ہے کہ لگ بھگ چار سال پانچ نکاتی پروگرام کے تحت میں نے مسز اندرا گاندھی کے ساتھ کام کیا ہے ۔

حیدرآباد جو کل تھا کے موضوع پر ڈاکٹر ایم ایم تقی خان نے روشنی ڈالتے ہوئے حیدرآباد کے محرم سے متعلق کہا کہ حیدرآباد میں اہل بیت کے جو تبرکات آئے ، وہ قطب شاہی دور میں آئے ، جو آج بھی حیدرآباد کے عاشور خانوں میں محفوظ ہیں ۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو جس تختے پر غسل دیا گیا تھا وہ لکڑی کا ہے اس پر سونا چڑھا ہوا ہے وہ یاقوت پورہ عاشور خانے میں ہے ، جہاں سے بی بی کا علم نکالا جاتا ہے ۔ قطب شاہی دور میں تلگو میں بھی نوحے پڑھے جاتے تھے ۔ حسین کا پیغام امن کا پیغام ہے ۔ قربانی ، ایثار ، اخوت کا پیغام ہے ، جسے دنیا نے قبول کیا ہے ۔ مرکزی جلوس بی بی کا علم قطب شاہی زمانے سے نکالا جاتا ہے ۔ چناریڈی کے زمانے میں اس مرکزی جلوس کے گذرنے کیلئے متعینہ راستوں میں تبدیلی لانے کی کوشش کی گئی تھی ، جس پر ہندو برادری نے سخت برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ راستے بدل نہیں سکتے۔ ہم لوگ اس روز برت رکھتے ہیں ، جب تک علم گذر نہیں جاتا ، ہم برت نہیں توڑتے ۔ اس سے ہندوؤں کا محرم کے تئیں اعتقاد ظاہر ہوتا ہے۔ محرم قومی اتحاد کا ایک موثر ذریعہ ہے ۔ مظلوم سے ہمدردی ظالم کے خلاف آواز اٹھانا یہی درس محرم میں پوشیدہ ہے ۔

TOPPOPULARRECENT