Monday , June 25 2018
Home / مضامین / حیدرآباد جو کل تھا ڈاکٹر محمد عبدالمجید خاں

حیدرآباد جو کل تھا ڈاکٹر محمد عبدالمجید خاں

محبوب خان اصغر

محبوب خان اصغر
سرزمین دکن پر آج بھی ایسی بے شمار شخصیتیں موجود ہیں جنہیں دیکھ کر یہاں کے علمی شعور کا اندازہ ہوتا ہے۔ ظرافت نگار، ادیب ، شاعر، انجینئر اور ڈاکٹروں کی ایک طویل فہرست ہے جنہوں نے اپنی علمی استعداد کے بل پر دوسرے ممالک میں اپنے ملک کی کامیاب نمائندگی کی اور ملک کا نام روشن کیا۔ چنانچہ ڈاکٹر محمد عبدالمجید خاں ایک ایسی ہی شخصیت کا نام ہے جن کے کئی روشن اور منور پہلو ہیں:وہ صاحب کمال، صاحب جمال، صاحب ذوق، صاحب قلم و صاحب حیثیت ہیں۔ ان کی شخصیت کا بہت ہی اہم اور نمایاں پہلو یہ ہے کہ وہ ایک نامی گرامی سائیکیاٹرسٹ ہیں۔ باغ و بہار طبیعت، تازہ فکر، نامساعد حالات کو اپنے حق میں کرنے اور مثبت انداز فکر کے حامل ڈاکٹر مجید خاں ’’زینہ زینہ راکھ‘‘ کی اصطلاح کو غلط ثابت کرتے ہوئے ’’زینہ زینہ روشنی‘‘ کی عمدہ نظیر معلوم ہوتے ہیں۔ ’’حیدرآباد جو کل تھا‘‘ میں موضوع کے تحت ہم نے بساط بھر کوشش کی ہے کہ قارئین سیاستکو ان کی آنکھوں سے حیدرآباد کو دکھائیں جن میں گم گشتہ حیدرآباد پوری رعنائی کے ساتھ مقید ہے۔

گفتگو کے آغاز میں ڈاکٹر مجید خاں نے بتایا کہ وہ 79 برس کے ہیں۔ والد بزرگوار محمد عبدالحمید خاں اور والدہ محترمہ دونوں نے زندگی سے رہائی پالی ہے۔ والد محترم محکمہ ریلوے میں اعلیٰ عہدے پر فائز تھے۔ فرسٹ کلاس پاس مفت میں ہاتھ لگ جاتے تھے۔ سیاحت کا شوق تھا۔ ہمیشہ سفر کیلئے آمادہ رہتے۔ والد کا کہنا تھا کہ ان کے پیروں کی ہر اُنگلی میں چکر ہے جس کی وجہ سے یہ ایک جگہ بیٹھ نہیں سکتے تھے۔ ڈاکٹر صاحب کے بموجب وہ جملہ چھ بھائی اور تین بہنیں ہیں۔ڈاکٹر مجید خاں کے مطابق ان کی اہلیہ گائناکالوجسٹ اور ماہر امراض نسواں ہیں۔ کثیرالعیالی کے مسئلہ پر اٹھائے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے ڈاکٹر مجید خاں نے بتایا کہ آج منصوبہ بندی قدرتی طور پر ہورہی ہے۔ بچے پیدا کرنے کا مادہ ساری دنیا میں کمزور پڑرہا ہے۔ زمانے کے حالات سے آگہی کو ضروری قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بچوں کی نفسیات کو سمجھے بغیر ان کی پرورش اور نگہداشت نہیں کی جاسکتی۔

ڈاکٹر مجید خاں نے عالمی منظر نامے پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حالات خراب ہونے والے ہیں۔ عوام میں شعور بیدار کرنے اور انہیں جھنجھوڑنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ 1948ء میں اسرائیل کا وجود نہیں تھا۔ یہودی وزیراعظم نے ایک جہاز بھر کر لوگوں کو اسرائیل بھیجا اور اسرائیل آباد ہوگیا جو کہ سراسر فلسطین کے ساتھ فریب تھا۔ مسلم ممالک کی بے حسی پر اظہار تاسف کرتے ہوئے ڈاکٹر مجید خاں نے کہا کہ United Nation ناکام ہوگئی ہے اور امریکہ علانیہ طور پر ظاہر ہوگیا ہے۔ صدر امریکہ براک اوباما کے دور حکومت میں حالات اور بھی ابتر ہوگئے ہیں۔ اسرائیل کی معیشت تباہ ہوگئی ہے۔ لوگ اسرائیل کو ’’خیرباد‘‘ کہہ رہے ہیں۔ دیکھنا ہے کہ امریکہ، اسرائیل کو کب تک سنبھالتا ہے۔

ڈاکٹر مجید خاں نے اپنا تعلیمی پس منظر بیان کرتے ہوئے کہا کہ ان کی ابتدائی تعلیم نظام آباد میں ہوئی۔ سلطان بازار کے کسی اسکول سے نویں جماعت پاس کرنے کے بعد دارالعلوم چارمینار میں داخلہ لے لیا، جہاں دینی اور عصری تعلیم دی جاتی تھی۔ گیارہویں اور بارہویں جماعت عثمانیہ کالج سے پاس کیا ۔ 1952ء میں عثمانیہ میڈیکل کالج میں داخلہ مل گیا جہاں ڈاکٹر شاہ نواز، ڈاکٹر بنکٹ چندرا، ڈاکٹر بہادر خاں اور ڈاکٹر شنکر راؤ جیسے اساتذہ انہیں میسر آئے۔ اساتذہ میں اکثر کے ہاں انگلینڈ کی اعلیٰ ڈگریاں تھیں جو پورے انہماک سے اپنے اسٹوڈنٹس کو پڑھاتے تھے۔ اساتذہ کا اعلیٰ معیار ہوتا تھا۔ حیدرآباد میں ان دنوں عثمانیہ دواخانہ ہی تھا جس کا اتنا شہرہ تھا کہ لوگ دور دراز سے علاج معالجہ کیلئے چلے آتے تھے۔ منسٹرس، اعلیٰ درجے کے لوگ حتی کہ حضور نظام بھی ضرورت پڑنے پر عثمانیہ دواخانہ میں رجوع ہوتے تھے۔ پھوڑا، پھنسی اور دوسرے چھوٹے امراض کیلئے اس زمانے کے حکماء بھی مفید ثابت ہوتے تھے۔ جو گندھک کی دوا سے امراض پر قابو پاتے تھے گوکہ گندھک کے استعمال سے جلن اور تڑپ ہوتی تھی مگر افادہ بھی ہوتا تھا۔
ڈاکٹر مجید خاں نے اپنے استاد ڈاکٹر ابوالحسن صدیقی (فزیشن) کی شفقت آمیز تربیت کو اپنی کامیابی کی کلید بتایا، نیز انہوں نے کہنہ مشق فزیشن ڈاکٹر واگھرے اور ڈاکٹر حیدر خاں (ماہر امراض قلب) کی کرم فرمائیوں کا بھی ذکر کیا جو ان کے طبی سفر میں مددگار رہے۔

1956ء کے بعد میدان طب میں بالخصوص حیدرآباد میں آندھرا فارمیشن کے بعد بہت ساری خرابیوں کا ذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر خاں نے بتایا کہ مدراس کے ڈاکٹروں کا غلبہ ہوگیا۔ بڑے دواخانے، علاج معالجہ خانگی انتظامیہ کے زیرنگرانی رواں دواں ہیں۔ بلز بھی وہی بناتے ہیں۔ پیشہ طب ایک مقدس پیشہ ہے۔ شفافیت اس پیشہ سے عنقا ہوتی جارہی ہے۔ پہلے مریض کی صحت کو مقدم سمجھا جاتا تھا۔ تشخیص کیلئے معالج اپنا تجربہ جھونک دیتے تھے، آج کل Cause تک پہونچتے پہونچتے مریض ہر لمحہ مرتا ہے۔ معاشی بوجھ مرض کو بڑھاوا دیتا ہے۔ ڈائیگناسٹک سنٹر مہنگے ہیں، ہر جگہ خود ساختہ ضوابط ڈاکٹر کو اپنے دائرے میں رہنے پر مجبور کرتے ہیں۔ ڈاکٹر مجید خاں نے دوران گفتگو یہ نوید بھی سنائی کہ اگست 2014ء میں راجیہ سبھا میں ایک بل پیش ہوا ہے جو عنقریب لاگو ہونے والا ہے جس کے بعد پورے ہندوستان میں طئے کیا جائے گا کہ ڈاکٹر کی فیس کیا ہونی چاہئے۔ بڑے دواخانوں کے واجبی اخراجات کیا ہونے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ نئی حکومت کو دواخانوں کی گندی پالیسی کا علم ہے اور اس استحصال کو وہی دُور کرسکتی ہے۔

ڈاکٹر مجید خاں نے بتایا کہ ڈاکٹریٹ کرنے کے بعد ان کے اکثر رفقاء امریکہ چلے گئے لیکن ان کا تقرر اگست 1959ء میں نظام آباد جنرل ہاسپٹل میں ہوا۔ ماہانہ 296 روپئے ملتے تھے۔ نظام آباد جائے پیدائش بھی تھی اور ابتدائی تعلیم بھی وہیں حاصل کی تھی، مقامی لوگوں میں مسرت کی لہر دوڑ گئی کہ مقامی آدمی میڈیکل آفیسر بن کر آیا ہے، انہیں جو کوارٹر ملا تھا، وہ سیول سرجن کے کوارٹر سے متصل تھا۔ ملاقاتیوں کا تانتا لگا ہوتا تھا اور یہی بات سیول سرجن کو کھلتی تھی۔ ذہنی پستیاں آنکھوں میں آجاتی ہیں تو کسی کا بھی قد اونچا نہیں دیکھا جاسکتا۔ چنانچہ سیول سرجن کے اندر بھی حسد اور جلن کے جذبات پیدا ہوگئے۔ پھر یوں ہوا کہ ایک روز سیول سرجن کی کار کو Over Take کیا اور لمبا ہارن بھی بجا دیا۔ طبیعت میں شرارت تھی، نتیجتاً دوسرے ہی روز ٹرانسفر آرڈر آگئے۔ ہمعصر ڈاکٹر عبدالرزاق اور ڈاکٹر رائے راؤ تبادلے پر ناخوش تھے۔ پہلے سے کارگزار کو نظام آباد لایا گیا اور ڈاکٹر مجید خاں کو بچھکونڈہ بھیج دیا گیا جو نظام آباد کا بارڈر ہے اور جو ان دنوں خطرناک تھا۔ نہ سڑکیں تھیں، نہ گاڑیاں نہ دوسری بنیادی سہولتیں میسر تھیں، نیز یہ علاقہ قتل کیلئے شہرت رکھتا تھا۔ ڈاکٹر مجید خاں نے بتایا کہ بچھکونڈہ میں پوسٹ مارٹم پہاڑوں پر ہوتے تھے۔ سڑی گلی اور مسخ شدہ نعشوں سے تعفن اٹھتا تھا۔ اوزار دستیاب نہیں تھے۔ پانی کی عدم دستیابی سے مسائل اور بھی بڑھ جاتے تھے۔ کلہاڑی سے سر پھوڑا جاتا تھا اور رپورٹ تیار کی جاتی تھی۔
ڈاکٹر مجید خاں نے پانی کے جہاز سے حیدرآباد تا انگلینڈ سفر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ 10 تا 15 دن کا سفر ہوتا تھا۔ ڈاکٹر مجید خاں نے پاسپورٹ کے حصول میں پیش آنے والی دشواریوں کا ذکر کیا اور آج اس کے حصول اور سسٹم کو سراہا اور کہا کہ انڈین پاسپورٹ کی اہمیت اور وقار ہے۔ اپنے پیشے سے متعلق انہوں نے بتایا کہ اس زمانے میں صرف 4 ماہر نفسیات تھے اور اب صرف حیدرآباد میں 100 سے زیادہ سائیکیاٹرسٹ ہیں جن میں خواتین اور مرد ہیں۔ دکن میڈیکل کالج میں شعبہ نفسیات کام کررہا ہے۔ آج نفسیات کی شاخ بہت مقبول ہے۔ پہلے کہا جاتا تھا کہ شک و شبہات، وسوسے اور خیالات کا تعلق دماغ سے نہیں ہے۔ کرتوت، عملیات بلکہ سفلی عمل سمجھا جاتا تھا، لیکن تحقیق کے بعد پتہ چلاکہ اس کا تعلق دماغ سے ہے۔ 1966ء تک ایسے امراض کے علاج کیلئے صرف ایرہ گڈہ دواخانہ تھا جہاں شرمندگی کی وجہ سے لوگ جانے سے کتراتے تھے۔

دماغ کے ایکسرے سے پتہ چلتا تھا کہ دماغ میں خرابی پیدا ہورہی ہے جس کی وجہ سے دورے پڑتے ہیں۔ عام بیماری کی طرح دماغی بیماری بھی ہوتی ہے۔ Chlorpromazine نام کی دوا نے تہلکہ مچادیا۔ آج ناخواندگی کا تناسب گھٹ رہا ہے۔ تعلیم عام ہوتی جارہی ہے۔ شعور بیدار ہورہا ہے اور لوگ Psychiatrist سے رجوع ہونے میں جھجک یا عار محسوس نہیں کرتے۔ڈاکٹر مجید خاں 1967ء میں حیدرآباد آئے اور بحیثیت ماہر نفسیات عثمانیہ دواخانہ میں خدمات انجام دینے لگے۔ 1970ء میں حکومت نے سرکاری ڈاکٹروں کی خانگی پریکٹس پر پابندی لگا دی۔ انہوں نے استعفیٰ دے دیا۔ 1977ء میں خانگی دواخانوں کا آغاز ہوچکا تھا۔ ڈاکٹر خاں نے نفسیات لینے کی وجہ دریافت کئے جانے پر بتایا کہ بچھکونڈہ تبادلے نے ان کے اندر ایک ضد پیدا کردی تھی۔ ساتھ ہی یہ احساس بھی ان کے اندر جاگزیں ہوگیا کہ ایک شخص جس کے پاس اقتدار ہے، کسی کو کتنا نقصان پہونچا سکتا ہے۔ دوسرا واقعہ انہوں نے بتایا کہ بچھکونڈے میں ایک ماڑواڑی خاتون تھی جو صدر خاندان تھی۔ شوہر فوت ہوگیا تھا۔ رہن سہن کسی رانی کی طرح کا تھا۔ اچانک مایوسی میں آگئی۔ ایک دن بیٹا اسے لے آیا اور منت سماجت کرنے لگا کہ ماں کو ٹھیک کردیجئے۔ کھانا بند ہوچکا تھا۔ خاموش ہوگئی تھی۔ مسکرانا بند ہوگیا تھا۔ گھوڑ سواری کرنے والی خاتون کی حالت دیکھنے لائق تھی۔ حیدرآباد آکر Top Class ڈاکٹر سے رجوع ہوئے افاقہ نہ ہوسکا۔ اس زمانے میں لیور کی ٹانک استعمال کی جاتی تھی۔ فاقے کرتے ہوئے مرتے ہوئے اس کو دیکھا۔ بمبئی میں بھی مایوسی ہوئی۔ بالآخر وہ مرگئی۔ استاد محترم ڈاکٹر ابوالحسن صدیقی ڈاکٹر ایس آر راؤ نے بھی متوجہ کیا۔ یہ احساس بھی شدید ہوچلا تھا کہ بروقت علاج سے وہ خاتون بچ سکتی تھی۔ یہی دو واقعات نفسیات لینے کے محرک بنے۔

معاشرے میں مرشدوں کے رول سے متعلق ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ ان کا اہم رول رہا ہے۔ لوگ عزت سے ان کے پاس جاتے ہیں۔ قرآنی آیات اور دُعاؤں سے شفا پاتے ہیں۔ وہ معاون علاج ثابت ہوتے ہیں۔ Shezofenia کی وجوہات بتاتے ہوئے ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ عین شباب میں بچے ذہین ہوتے ہیں، مگر علیحدگی پسند ہونے لگتے ہیں۔ اپنے آپ میں مسکرانا، لوگوں سے دُور رہنا، رشتہ داروں سے دور اور تعلیم میں عدم دلچسپی اس مرض کی ابتدائی علامات ہیں۔ سائیکیاٹرسٹ سے رجوع ہونے پر کنٹرول ممکن ہے۔ Bypolar سے متعلق ڈاکٹر مجید خاں نے یوں وضاحت کی کہ اس میں تشدد غصہ، تیزی اور مایوسی بڑھنے لگتے ہیں۔ Over Confidence ، بغیر سوچے سمجھے کام کرنا، قرض لینا اور غیرضروری سامان خرید لینا بھی بائی پولار کی اہم ترین علامتیں ہیں۔ پھر پچھتاوے اور مایوسی کا شکار ہوکر خودکشی کی طرف مائل ہونا بھی اس مرض سے متعلق ہے۔ بے چینی، بے قراری، خوف، ڈر یہ سب شخصیت کی خرابیاں ہیں۔ برقع پوش خواتین میں شراب کی علت پر اظہار تاسف کرتے ہوئے ڈاکٹر مجید خاں نے کہا کہ ہر روز صبح میں چار پانچ Patient مسلمان ایسے ہوتے ہیں جو رات میں پی گئی شراب کے اثر کے ساتھ آتے ہیں۔ خواب آور دوائیوں کا بے جا استعمال دماغی امراض پیدا کرسکتا ہے۔ گھٹکے تمباکو اور دوسری نشیلی چیزوں کا استعمال اپنے اوپر لازم کرلیا گیا ہے جو ایک خطرناک رجحان ہے۔دماغی امراض کی ایک بڑی وجہ مسلسل ضبط کرنا بھی ہے۔ ناکام ازدواجی زندگی پر اٹھائے گئے سوال کا مفصل جواب دیتے ہوئے ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ اس کی اہم وجہ Incompability ہے۔ مزاجوں کا اختلاف، توہین کرنا، توہین کو برداشت نہ کرنا، عورتوں کو اس کا مستحقہ مقام نہ ملنا یہ وہ باتیں ہیں جس کی وجہ سے رویہ Dominative ہوجاتا ہے۔ برتری حاصل کرنا اطاعت پسند نہ ہونا یہ سب خرابیاں ازدواجی زندگی کی بنیاد کو کھوکھلا کرنے والی ہیں۔ Domestic Voilence یعنی گھریلو تشدد بھی، دماغی خلل پیدا کرتا ہے۔ اچھے رشتوں کی عدم فراہمی اور لڑکیوں کی بڑھتی ہوئی عمر سے گھر میں ایک کشیدگی کا ماحول چھایا رہتا ہے۔ یہ سلسلہ دراز ہوجائے تو نفسیاتی مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ Sex نفسیات کا بڑا موضوع ہے۔

ڈاکٹر مجید خاں نے اشتہارات اور تشہیر پر اپنے منفی جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بیماریوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے۔ بڑی بڑی ہستیوں کو بلواکر کہلوایا جاتا ہے۔ شرطیہ علاج کے جھوٹے دعوے پیش کئے جاتے ہیں۔ ان کو نظرانداز کرنے کی ضرورت ہے۔
شخصیت کی ایک اور بیماریBorderline Personality Disorder (BPD)کے بارے میں بتایا کہ اس میں پتہ ہی نہیں چلتا کہ کونسے لمحے میں کیا ہونے والا ہے۔ چاقوؤں سے حملے، ریپ کے کیسیس BPD کی وجہ سے ہوتے ہیں۔ حملہ ہو کہ خون یا ریپ کسی بھی جرم کے مرتکب ہونے سے مریضوں کو جو لذت انہیں حاصل ہوتی ہے، اس کو بیان کرنا مشکل ہے۔ چاہے انہیں سولی پر لٹکادیں۔ لذت کے حصول کیلئے وہ کچھ بھی کر گذرتے ہیں۔
قدیم حیدرآباد میں 1945ء تا 1960ء ترقی کے ذرائع بالکل نہیں تھے۔ کاشت کار پریشان تھے۔ قحط پڑتا تھا، لیکن کاشت کاروں سے لگان Land Tax بڑی بے دردی سے وصول کیا جاتا تھا۔ ڈپٹی کلکٹر، تحصیلدار، پولیس پٹیل، مالی پٹیلی جبراً لگان وصول کرتے تھے، نہ دینے پر پٹائی کرتے تھے۔ملٹری ایکشن کی تباہ کاریاں سب پر عیاں ہیں۔ اس سے قبل نہرو، پٹیل اور گورنر جنرل ماؤنٹ بیٹن نے نظام سے منت سماجت کی، الحاق کیلئے منایا۔ میسور کا الحاق ہوچکا تھا، جوناگڑھ کا الحاق ہوگیا تھا، نظام کو استصواب عامہ کیلئے راغب کیا گیا جس کیلئے نواب میر عثمان علی خاں نے حامی تو بھرلی،تاہم بیدر، عثمان آباد اور دوسرے سرحدی علاقوں پر ہوئے نقصانات کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔
نظام یا ان کے افرادِ خاندان متاثرہ علاقوں کی بازآبادکاری کیلئے نہیں گئے۔ سوائے دولت لٹانے اور عیش و عشرت کے انہیں دوسرا کوئی کام نہیں تھا۔ ملٹری ایکشن کے بعد پنڈت نہرو پہلی بار حیدرآباد آئے تو نظام نے کہا کہ میری حکومت چلی گئی۔ میں نے ایک تجربہ کیا ہے۔ اُردو یونیورسٹی قائم کی ہے۔ ذریعہ تعلیم اُردو ہے اس کو برقرار رکھا جائے۔ نہرو نے کہا۔ ’’میں اپنے رفقاء سے مشاورت کرکے جواب دوں گا‘‘، سردار ولبھ بھائی پٹیل سے ذکر کیا تو بولے، اُردو کو کیسے برقرار رکھا جاسکتا ہے۔ اُردو کو بدل کر انگریزی کے بجائے تلگو یا ہندی کرنا تھا۔ الحمدللہ کسی اور زبان میں اتنی جامع یونیورسٹی نہیں تھی۔ ڈاکٹر مجید خاں نے دوسرا پہلو یوں بیان کہ ملٹری ایکشن کے بعد حیدرآبادی دُنیا کے کونے کونے میں نظر آتے ہیں۔

’’حیدرآباد جو کل تھا‘‘ کے حوالے سے ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ مشترکہ خاندان تھے تو نوجوانوں میں بے راہ روی نہیں تھی۔ پڑوسی ہوتے تھے۔ مکانات ہوا کرتے تھے، تقاریب میں پڑوسی کی شرکت ضروری سمجھی جاتی تھی۔ والدین کا احترام اور ڈسپلین تھا، بزرگوں کی قدر تھی۔ رشتے باقی تھے۔ فلیٹس کی زندگی نے روایات کا قتل کردیا، رشتے پامال ہوئے، وقت کی ناقدری، بزرگوں کی ناقدری، ارتقاء کے نام پر تہذیب کی بربریت، اقدار کی زوال پذیری، ایسے کئی محرکات ہیں جو حیدرآباد کی شبیہ کو بگاڑ رہی ہیں۔ اسکول کی سطح پر اساتذہ کا رعب تھا، وہ ختم ہوگیا۔ یہ سب جمہوریت کی دین ہے۔ ہم آزاد ہوگئے لیکن ہمارا اخلاقی معیار گرگیا۔ کل بچے احتجاج کے معنی سے تک واقف نہ تھے، آج باغیانہ رویہ اختیار کئے ہوئے ہیں۔پیشہ وارانہ مصروفیات کے باوجود ادب سے اپنے تعلق کو ڈاکٹر مجید خاں نے ایک’’ مرض‘‘ قرار دیا اور کہا کہ لکھنے کی لت پڑ گئی ہے۔ افرادِ خاندان سیاست کے قاری ہیں۔ انہوں نے حیدرآباد دکن کی گنگا جمنی تہذیب کا خصوصاً ذکر کیا اور کہا کہ ان کا حلقہ احباب غیرمسلموں پر مشتمل تھا۔ ایک خاندان کی طرح رہا کرتے تھے۔ طب میں نئے امکانات پر روشنی ڈالتے ہوئے ڈاکٹر صاحب نے کہا۔ ترقی دروازہ کھٹکھٹا رہی ہے کہ ایک قطرہ۔ خون سے پتہ چل جائے گا کہ مستقبل میں کونسی بیماریاں لاحق ہونے والی ہیں۔ حتی کہ موت سے متعلق معلومات بھی مل جائیں گی۔

TOPPOPULARRECENT