Sunday , December 17 2017
Home / مضامین / حیدرآباد جو کل تھا ڈی لکشمن راؤ

حیدرآباد جو کل تھا ڈی لکشمن راؤ

محبوب خان اصغر
’’ریاست حیدرآباد میں کبھی بھی ابنائے زمانہ کی کمی نہیں رہی۔ درحقیقت ان ہی کے دم سے ریاست کا بھرم قائم رہا۔ انہوں نے یہاں کی سیکولر روایات ، مذہبی رواداری ، ہم آہنگی اور آپسی بھائی چارگی حتیٰ کہ اپنے صالح اور شفاف کردار و عمل سے ایک ایسے معاشرے کو تشکیل دیا جو صحیح معنوں میں ترقی پذیر اور تہذیب یافتہ معاشرہ کہلاتا تھا۔ ادھر چند برسوں سے ملک میں منفی تحریکوں کے سر اٹھانے سے ماحول منغض ہو چلا ہے اور جس کے اثرات سے ملک کی ریاستوں کا متاثر ہونا فطری بات ہے ۔ بالخصوص ریاست حیدرآباد میں انواع و اقسام کے لوگوں کا تال میل منفی سیاست کے حامل حکمرانوں کو نہیں بھاتا، نتیجتاً فسطائیت (Fascism) کو تقویت مل گئی ہے اور برسہا برس سے قائم گنگا جمنی تہذیب اور سیکولر روایات پر خطروں کے بادل منڈلا رہے ہیں‘‘۔ ان خیالات کا اظہار ڈی لکشمن راؤ نے کیا جو ہم سے ’’حیدرآباد جو کل تھا‘‘ کے موضوع پر بات کررہے تھے ۔
مادہ پرستی کے دور میں انسانی قدروں کے قدرداں ڈی لکشمن راؤ 2 مئی 1932 ء کو تلنگانہ کے سب سے بڑے ضلع کریم نگر میں پیدا ہوئے ۔ والد آنجہانی ڈی گوپال راؤ ان کا آئیڈیل تھے ۔ سایہ پدری سے محروم ہونے کے بعد ہمت اور حوصلے کے ساتھ مذکورہ ضلع ہی میں تعلیم کے ابتدائی مراحل طئے کئے پھر بعد کو نرمل کے سرکاری مدرسہ میں بھی داخلہ لیا۔ متذکرہ دونوں جگہوں سے متعلق انہوں نے بتایا کہ وہاں کسی بھی تقسم کا بھید بھاؤ نہیں تھا ۔ ہندو ہو کہ مسلم یا کوئی اور فرقے کے  لوگ آپس میں شیر و شکر کی طرح رہتے تھے۔ مثبت اور صحت مند سوچ کے حامل لوگوں میں سماجی اور سیاسی بصیرت کے ساتھ وسعت قلبی ہی دیکھی گئی ۔ اکثر ہندو اردو بولتے تھے اور اکثر مسلمانوں نے تلگو زبان کو اظہار کا ذریعہ بنایا تھا ۔ اس زمانہ میں زبانوں پر فرقہ وارانہ عصبیت کا لیبل نہیں لگا تھا ۔ زبانوں پر قدغن لگانے کی باتیں ادھر چند برسوں سے کی جارہی ہیں۔ انہوں نے اس ضمن میں دو ٹوک انداز میں کہا کہ اردو اور تلگو کے تو سل سے روزی روٹی کمانے وا لوں کے گھروں میں یہ زبانیں بالکلیہ اجنبی اور نامانوس بنی ہوئی ہیں ، یہ زبان کا بڑا نقصان تو ہے ہی ، ساتھ ہی زبانوں سے جڑی کمیونٹی کیلئے تو نقصان عظیم ہے۔
لکشمن راؤ کے بموجب انہوں نے پتھر گٹی میں واقع نانک رام بھگوان داس کالج میں انٹرمیڈیٹ میں داخلہ لیا تھا ، وہ عمر کی اس منزل میں تھے جب شعور جوان ہوتا ہے ۔ اس دور میں ان کی آنکھوں نے جو منظر دیکھے تھے وہ اتنے دلچسپ تھے کہ آج تک بھی بھلائے نہ جاسکے ۔ انہوں نے یاد رفتگان کے حوالے سے کہا کہ لوگ چاہیں کسی بھی کمیونٹی کے ہوں مروت ، اخلاص اورمحبت کی دولت سے مالا مال تھے۔

انہوں نے تاریخ کے حوالے سے اس بات کا اظہار کیا کہ قطب شاہی عہد حکومت میں حیدراباد اور سکندرآباد کے علاقے ضرور تھے مگر قدیم اور جدید کی اصطلاح نہیں تھی ۔ علاقوں کے نام تھے۔ مگر ایک علاقے کو دوسرے علاقے پر فوقیت نہیں دی گئی ۔ سب کی اہمیت یکساں تھی ۔ کم ترقی یافتہ علاقوں کی ترقی کیلئے نظام حکومت بہت سنجیدہ رہا کرتی اور فنڈز کی اجرائی کے احکامات صادر کرتی تھی ۔ انہوںنے بتایا کہ نیا شہر اور پرانا شہر کہتے ہوئے کم از کم انہوں نے نہیں سنا تھا ۔ یہ اصطلاح حالیہ عرصہ کی ایجاد ہے اور سیاسی اغراض کے لئے ایک خلیج پیدا کی گئی ہے ۔ انہوں نے موضوع کے حوالے سے بتایا کہ پرانے شہر میں برسہا برس سے ایک ہی سیاسی جماعت کا قبضہ ہے اور اس جماعت کا مفاد اسی میں مضمر ہے کہ لوگ باگ پرانے رہیں۔ پچھڑے ہوئے رہیں اور دقیانوسی رہیں۔ تاکہ وہ اپنی Polarisation Politics کے ذریعہ لوگوں میں تفریقی جذبات بھڑکا کر تاحیات اقتدار سے چمٹے رہیں اور ہارنے والے اسی میں مطمئن ہیں کہ پرانے شہر کے لوگ نئی روشنی میں آنا نہیں چاہتے۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ مرکز میں حکمراں جماعت نے اقتدار کی کرسی تک پہونچنے میں (Polarisation Politics) کا بڑی بے حیائی و بے شرمی سے استعمال کیا ہے ۔ لکشمن راؤ کے مطابق اس سیاسی بدحالی کی اصل وجہ پورے ملک میں کمیونسٹ تحریک کا کمزور پڑنا ہے۔ یہی سبب ہے کہ علاقہ پرستی ، فرقہ پرستی ، توہم پرستی اور شخصیت پرستی جیسے منفی رجحانات مستحکم ہوگئے ہیں جو ملک کی سالمیت و جمہوریت کیلئے خطرہ ہیں ۔ ان مایوس کن حالات میں ترقی پسندی اور ملک کی بقاء چاہنے والوں کیلئے ناگزیر ہوجاتا ہے کہ وہ متحدہ طور پر ان انتہا پسند قوتوں کا مقابلہ کرنے کیلئے کمربستہ ہوجائیں۔ ورنہ تہذیبی و ثقافتی روایات اور تاریخی ورثے کی بقاء اور اس کا تحفظ اور بھی مشکل ترین ہوجائے گا ۔ اسلاف کا خون جگر جو سرزمین حیدرآباد میں شامل ہے ، وہ ہماری غفلت اور تساہل پسندی کے سبب رائیگاں ہوجائے گا۔

کمیونسٹ تحریک سے متعلق مزید وضاحت چاہنے پر انہوں نے بتایا کہ 1945 ء میں یہ تحریک اس وقت شروع ہوئی تھی جب ریاست حیدرآباد خود مکتفی تھی ۔ اس وقت کانگریس کی یہ کوشش تھی کہ حیدرآباد اسٹیٹ کو آزادی حاصل ہوجائے ۔ اس کے برخلاف رضاکار چاہتے تھے کہ اعلیٰ حضرت کی حکومت بحال رہے ۔ 1945 ء میں تحریک شروع ہوئی اور 1947 ء تک اس تحریک کو خاصی مضبوطی اور قوت حاصل ہوچکی تھی۔ انہوںنے بتایا کہ حکومت کانگریس اور کمیونسٹ تحریک کی شدید مخالفت کرتی تھی کیونکہ حکومت کی دانست میں متذکرہ تحریکوں سے وابستہ لوگ دہشت پھیلاتے تھے ۔ ڈرانا ، دھمکانا اور مکانوں کو خاکستر کردینا ان کا وطیرہ تھا ۔ حکومت اس شبہ کے پیش نظر کانگریسیوں کو گرفتار کرنا شروع کردیا تھا ۔ کمیونسٹ پارٹی حکومت کے عزائم کو جانتی تھی ۔ وہ اپنے کام خفیہ طور پر کرنے لگے تھے ، جس کے سبب وہ حکومت  کی زد سے بچ جاتے تھے ۔ پکڑے جانے کی صورت میں پہلے مقدمہ درج ہوتا تھا اور بعد میں انہیں جیل میں مقید کردیا جاتا تھا لیکن بعد میں مقدمات کا اندراج کئے بغیر ہی انہیں حراست میں لینے کے لئے جی او پاس کیا گیا ۔ قانون احتیاط نظر بندی (Law of Preventive Detention) کے نام سے موسوم جی او بڑی سختی سے لاگو کیا گیا ۔ انہوں نے کمیونسٹ اور رضاکاروںکو ایک دوسرے کا کٹر دشمن قرار دیتے ہوئے کہا کہ ظلم اور بربریت کی ایک وجہ یہ بھی تھی ۔ برسبیل تذکرہ انہوں نے بتایا کہ حکومت کی پشت پناہی کی وجہ سے رضاکاروں کے حوصلے بلند تھے ۔ سرعام اپنا رنگ دکھانے میں انہیں لطف آتا تھا ، اس کے برخلاف کمیونسٹ پوشیدہ طور پر اپنے حاشیہ برداروں اور اپنے مداحوں کے گھروں میں یا سنسان اور ویران جنگلوں اور غاروں میں پناہ لیتے تھے ۔ مخالفین کے وہ کٹر دشمن تھے اور کمیونزم کی مخالفت کرنے والوں کو بخشنا انہوں نے سیکھا ہی نہیں تھا ۔ اپنی تحریک کے دوران کمیونسٹوں نے بالخصوص نوجوانوں کو اپنی طرف راغب کیا ۔ اس طرح کہا جاسکتا ہے کہ اس دور میں کانگریس اور کمیونسٹوں نے دھوم مچا رکھی تھی ۔ انہوں نے بتایا کہ عمری بینک کو لوٹا گیا تھا ۔ شدت پسند کانگریس مہاراشٹرا ، پونا ، شولاپور اور ناگپور منتقل ہوگئے تھے اور وہاں سے اپنی تحریک چلاتے تھے ۔ کمیونسٹ بڑے جاگیرداروں اور شرپسندوں اور نظام حکومت کے خلاف تھے ۔ ہندوستان آزاد ہوا تو پولیس ایکشن کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ کمیونسٹ کے زور کو توڑا جائے اور اس کام میں نظام حکومت ناکام رہی تھی ۔ جواد رضوی ، صبغت اللہ ، معین الدین وغیرہ منگول سے ایم ایل اے کوارٹر میں منتقل ہوگئے تھے ۔ اگرچیکہ وہ ایم ایل اے نہیں تھے مگر مقیم ضرور رہے ۔

انہوں نے بتایا کہ ترقی پسند مصنفین اور کمیونسٹ پارٹی میں ایک طرح کا ارتباط اور دونوں کے نظریات بھی ایک تھے ۔ انہوں نے یہ انکشاف بھی کیا کہ اسی دور میں انجمن عوامی مصنفین کے نام سے بھی ایک انجمن قائم ہوئی تھی جس میں ایم ایم ہاشم ، (پامسٹ) عسکر یار جنگ اور سلیمان اریب وغیرہ شامل تھے ۔ عسکر یار جنگ کی حویلی نما بلڈنگ قابل دید تھی ۔ بعد میں انہوں نے کانگریس میں شمولیت اختیار کرلی ۔ وہ ملے پلی میں مقیم تھے ۔ اسی عہد میں یوتھ ونگ کا رجحان CPI کی طرف ہوگیا تھا ۔ حیدرآباد اسٹوڈنٹ یونین میں تمام کمیونسٹ تھے ۔ جامعات کے طلبہ کی فیس میں اضافہ یا کوئی اور پریشانی کن اقدامات کالج یا یونیورسٹی کی جانب سے کئے جاتے تو احتجاج کرنے والوں میں زیادہ تر نوجوان ہوا کرتے تھے جن کا تعلق CPI سے ہوتا تھا ۔ ایسا ہی ایک زبردست احتجاجی جلسہ گور والا کمیشن کے خلاف ہوا تھا ۔ سلطان بازار میں رانی باغ تھا جہاں تمام احتجاجی جمع ہوتے تھے ۔ اردو شریف ، دارالعلوم ، سٹی کالج وغیرہ کے طلبہ اکھٹے ہوتے تھے ۔ آزادی کے بعد دستور سازی ہوئی اور انتخابات ہوئے تو سی پی آئی سے کئی مسلمانوں نے اپنے اپنا تعلق جوڑلیا تھا ۔ لکشمن راؤ کے بموجب مخدوم نوجوانوں کے آئیڈیل تھے ۔ راج بہادر گوڑ اور مخدوم روپوشی اختیار کرتے مگر بھیس بدل کر عوامی زندگی میں نمودار بھی ہوا کرتے تھے ۔ مخدوم تو کبھی دھوتی تو کبھی کسی اور لباس میں یہاں وہاں نظر آتے تھے ۔ عثمانیہ دواخانہ سے راج بہادر گوڑ کا غائب ہوجانا تو بہت ہی مشہور ہے ۔ امجد باغی ، جہاندار افسر ، کوکب صاحب کمیونسٹ پارٹی کے بہت ہی فعال اور متحرک لوگوں میں شمار کئے جاتے تھے ۔

لکشمن راؤ صاحب نے بتایا کہ 1957 ء میں حیدرآباد میں آل انڈیا کانگریس کمیٹی کا اجلاس ہوا تھا ۔ وہ نہرو کو دیکھنے کیلئے اجلاس میں شریک رہے ۔ ڈائس تک پہونچ کر انہوں نے نہرو کو بہت قریب سے دیکھا تھا اور ان کی تقریر سے متاثر ہوئے تھے ۔ ان کی تقریر جمہوریت اور انسانی قدروں پر اعتقادات کو قوت دینی والی تھی اور اشتراکیت کے جذبات کو ابھارنے والی تھی ۔ نہرو بے پناہ قوت ارادی کے مالک تھے ۔ ان کے ساتھ کوئی سیکوریٹی نہیں تھی ۔ حالات  پر امن تھے اور ہر طرف شانتی تھی۔ انہوں نے قدیم ریاست حیدرآباد کے پرامن ماحول کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ چند برسوں سے ملک میں پرتشدد تحریکات نے سر اٹھایا ہے ۔ 1970 ء میں نکسلائیٹ تحریک پیدا ہوئی ۔ پہلے وہ مغربی بنگال میں جنم لینے کے بعد آندھراپردیش کے سریکا کولم میں زور پکڑنے لگی ۔ تحریک ناکام ہوتے ہی شمالی تلنگانہ منتقل ہوگئی ۔ جہاں سے کافی استحکام ملا۔اس تحر یک میں بھی بے شمار لوگوں نے حصہ لیا تھا ۔ سکریٹری گنپتی کا تعلق ضلع کریم نگر سے تھا۔ نصف صدی قبل اس تحریک نے کافی لوگوں کو ہلاک کیا تھا ۔ کچھ تحریک سے وابستہ لوگ بھی مارے گئے تھے ۔ (Reaction to action) جیسی کیفیت تھی ۔
ملک میں شعبہ طب کی ترقی سے متعلق بتایا کہ حیدرآباد میں صرف ایک سرکاری دواخانہ عثمانیہ تھا اور یونانی دواخانہ مکہ مسجد کے روبرو تھا ۔ اس کے سوا طبی سہولت نہیں تھی۔ اس دور کے مشہور ڈاکٹر و سرجن بنکٹ چندرا اور بہادر خان تھے۔ بنکٹ چندرا اعلیٰ حضرت کے پرسنل فزیشن بھی رہے۔ 1954 ء میں گاندھی دواخانہ قائم ہوا لیکن آج زمانے کی رفتار نے دواخانوں کا جال بچھادیا ہے اور کئی خانگی دواخانے معرض وجود آچکے ہیں۔ سینکڑوں کی تعداد میں فزیشن اور سرجن بھی ابھر کر سامنے آئے ہیں۔ بیرون ممالک سے بیمار علاج کیلئے ریاست تلنگانہ کا رخ کر رہے ہیں جوکہ ایک قابل فخر بات ہے۔
لکشمن راؤ نے حب الوطنی کے نغموں اور نعروںکو آج وقت کی ضرور بتاتے ہوئے کہا کہ تشدد اور بغاوت کے راستے سے کنارہ کش کرتے ہوئے ایک دوسرے کے ساجھے دار بننا ضروری ہے ۔ یہی عمل ریاست میں دوبارہ برگ و بار لاسکتا ہے اور شرافت و نجابت کا جو تصور ہمارے اسلاف کے ہاں تھا اس کا تحفظ کیا جاسکتا ہے۔ لکشمن راؤ ایک عرصہ تک بلدیہ حیدرآباد کے کمشنر بھی رہے۔ وہ اردو کے صحافی بھی رہ چکے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT