Wednesday , September 26 2018
Home / مضامین / حیدرآباد جو کل تھا

حیدرآباد جو کل تھا

حیدرآباد کے ذرائع حمل و نقل (شرکاء : تہور علی سید عطا اللہ عرف محمد میاں اور افتخار حسین فدا علی ) سید امتیاز الدین

حیدرآباد کے ذرائع حمل و نقل
(شرکاء : تہور علی سید عطا اللہ عرف محمد میاں اور افتخار حسین فدا علی )

سید امتیاز الدین
قدیم حیدرآباد ترقی کی دوڑ میں کبھی پیچھے نہیں رہا ۔ ہر دور میں اس زمانے کی ترقیات ریاست حیدرآباد میں ہندوستان کے دوسرے شہروں کے مقابلے میں پہلے پہنچ جاتی تھیں ۔ حیدرآباد کی اپنی ریلوے تھی ۔ ڈاک کا اپنا نظام تھا ۔ کرنسی تھی ۔ تعلیم کا اپنا نظم تھا ۔ صنعت و حرفت میں بھی یہ ریاست کسی سے کم نہیں تھی ۔ آج کی اس محفل میں ہم حیدرآباد کے ذرائع حمل و نقل کا جائزہ لیں گے ۔ ٹرانسپورٹ سسٹم کی ترقی کے لئے اچھی سڑکوں کی ضرورت ہوتی ہے ۔ قدیم حیدرآباد کے تمام اضلاع اچھی سڑکوں سے مربوط تھے ۔ ایک زمانہ تھا کہ حیدرآباد شہر میں ہاتھ کے رکشا ، تانگے ، سیکل رکشا ، شکرام ، جھٹکے اور بگھی کا رواج تھا ۔ بیسویں صدی کے آغاز کے بعد موٹریں اور موٹر سیکلیں چلنے لگیں ۔ آج کی محفل میں ہم قدیم حیدرآباد میں موٹر کار کی آمد اور موٹر ٹرانسپورٹ سسٹم کا جائزہ لیں گے ۔ ہم نے گفتگو کے لئے ٹرانسپورٹ سے وابستہ دو ایسے اصحاب کو دعوت دی ہے ، جن کا خاندان تقریباً سو سال سے روڈ ٹرانسپورٹ سے وابستہ ہے ۔
جناب تہور علی سید عطا اللہ جو کاروباری حلقوں میں محمد میاں کے نام سے مشہور ہیں ۔ ٹایر ٹیوب ، پٹرول اور بیاٹری کے قدیم بیوپاری ہیں ۔ آپ کی قدیم اور مشہور دکان مارل ٹایرس (Moral Tyres) کے نام سے معظم جاہی مارکٹ سے قریب حسینی بلڈنگ میں واقع ہے ۔ آپ کے خسر محمد مسیح الدین عرف بڑے میاں رشتے میں آپ کے ماموں بھی تھے ۔ یہ خاندان مقطع داروں کا خاندان تھا جس کا تعلق ابتداً بیدر اور گلبرگہ سے تھا ۔

افتخار حسین صاحب کا تعلق بوہرہ طبقے سے ہے ۔ آپ کے پردادا شیخ فخر الدین ، دادا ملاّ فدا علی اور والد ملاّ عبدالقادر تھے ۔ حیدرآباد میں سب سے قدیم کمپنی ملا فدا علی شیخ فخر الدین کے نام سے 1900 ء میںشروع ہوئی ۔ ابتداء میں اس خاندان کا چوڑیوں کا کاروبار برہان پور میں تھا ۔ یہ خاندان 1875 ء میں حیدرآباد آیا اور چوڑیوں کے کاروبار کی مدد سے یہاں اپنے قدم جمائے ۔ 1890 میں ان لوگوں نے کویلہ منگانا شروع کیا اور Wholesale & Retail بزنس سے ابتداء کی ۔ بعد میں پٹرول کی تجارت شروع کی اور دوگیلن کے ڈبوں میں پٹرول کے ڈبوں سے پٹرول کے بزنس کا آغاز کیا ۔
اس مختصر سے تعارف کے بعد اب ہم ان سے گفتگو شروع کرتے ہیں اور اُن سے حیدرآباد میں ذرائع حمل و نقل کے بارے میں بات کرتے ہیں ۔
امتیازالدین : محمد میاں صاحب ! آپ اپنی یادداشت سے قدیم حیدرآباد میں ذرائع حمل و نقل اور اس میدان میں اپنے کاروبار کے بارے میں کچھ بتایئے ۔

محمد میاں : ابتداء میں ہم بیٹریاں اور Distilled water بناتے تھے ۔ ابتداء میں موٹر نشین لوگ بہت کم تھے ۔ زیادہ تر امراء اور بالخصوص شاہ دکن حضور نظام اور ان کے دربار سے وابستہ لوگوں کے پاس موٹریں تھیں ۔ بعد میں ہم نے افضل گنج پر Honesty Automobiles کے نام سے دکان قائم کی ۔ میرے ماموں ، مسیح الدین صاحب کا ٹرانسپورٹ کا کاروبار بھی تھا ۔ ہماری لاریاں چلتی تھیں ۔ سیول سپلایز سے بھی ہمارا کانٹریکٹ تھا ۔ افضل گنج کا پٹرول پمپ بڑے میاں کا پٹرول پمپ کے نام سے مشہور تھا ۔ ہم کو ٹایروں کی ڈایرکٹ ڈیلرشپ بھی حاصل تھی ۔ ٹایروں کی راشننگ کے زمانے میں فدا علی صاحب سے بھی ٹایر لیتے تھے ۔ ہمارا کیروسین کا کاروبار بھی تھا ۔ پٹرول کی قلت کے زمانے میں کول گیس سے بھی گاڑیاں چلتی تھیں ۔ ان کی رفتار قدرے کم ہوتی تھی ۔ مسیح الدین صاحب نے 1918 ء میں کاروبار شروع کیا ۔ عیدی بازار میں نیم چند نامی ایک کایستھ صاحب سے بھی ہماری شراکت تھی ۔ اس زمانے میں حیدرآباد کی آبادی بمشکل دو لاکھ تھی ۔ موٹر نشین لوگ کم تھے ۔ آسٹن سب سے کم قیمت گاڑی تھی ۔ کوئی آسٹن میں بھی جاتا تو ٹرافک کانسٹیبل اس کے لئے پہلے راستہ دے دیتا تھا ۔ حضور نظام کے پاس موٹروں کی کمپنیاں خود اپنی موٹروں کے آفر بھیجتی تھیں ۔ ہرمزجی اور پسٹن جی کاروں کے بڑے بیوپاری تھے ۔
امتیاز الدین : افتخار حسین صاحب سے بھی میں خواہش کروں گا کہ وہ اپنے کاروبار کے بارے میں کچھ بتائیں ؟

افتخار حسین : آپ نے ہمارے ابتدائی کاروبار کے بارے میں شروع میں کہہ دیا ہے کہ ہم 1875 میں حیدرآباد آئے ۔ چوڑیوں اور کویلے کا کاروبار کے بعد ہم نے سدی عنبر بازار میں 1900 ء کے لگ بھگ پٹرول کا کاروبار شروع کیا اور دو گیلن کے ڈبوں میں پٹرول کی فروخت شروع کی ۔ ہمارے سب سے بڑے خریدار حضور نظام اور اُن کی فیملی تھی ۔ جنگ کے دنوں میں جب پٹرول کی قلت ہوگئی تھی اُن دنوں بھی نظام کہتے تھے Don’t worry, we have Fida Ali’s ۔ 1928 میں ہمارے پٹرول پمپ کی پہلی برانچ قائم ہوئی جو لکڑی کے پُل پر تھی اور آج بھی کام کررہی ہے ۔ اس پٹرول پمپ پر ہم ایک اسٹور بھی رکھتے تھے جہاں بسکٹ ، چاکلیٹ ، ٹایر ٹیوب اور دوائیں بھی ہوتی تھیں ۔ ہمارے کسٹمرس جو بنجارہ ہلز یا دور دور کے علاقوں سے آتے تھے اپنی ضرورت کی چیزیں بھی پٹرول کے ساتھ ساتھ خرید لیتے تھے ۔ دراصل ایسی Convenience Store اور جنرل مرچنٹ کا قیام میرے والد کا vision تھا ، جو آج ہر پٹرول پمپ پر رائج ہے ۔ میرے والد علی الصبح سیکل پر پٹرول پمپ آجاتے تھے ۔ وہ جھاڑو دے کر تلاوت کرتے تھے ۔ لوگ ان سے پوچھتے کہ ابھی سڑکوں پر آمد ورفت نہیں ہے ۔ آپ اتنی صبح کیوں آجاتے ہیں ۔ لیکن والد کا اپنا ڈسپلن تھا ۔ وہ یہ نہیں چاہتے تھے کہ کوئی خریدار آئے اور پمپ کو بند پا کرمایوس ہو ۔ ملازمین بھی جلد آتے تھے ۔ ہم بھی اسکول جانے سے پہلے پٹرول پمپ آجاتے تھے ۔ جھاڑو دیتے تھے ۔ پٹرول ڈالنے اور ہوا بھرنے کا کام بھی کرتے تھے ۔ ہمارے پاس ایک ملازم معروف علی تھا ، جو کبھی ہمارے ہاتھ سے جھاڑو لے لیتا ۔ والد کہتے ’اُسے ہر کام کرنے دو ، پہلے نوکر بنو پھر مالک بننا‘ ۔

امتیاز الدین : محمد میاں صاحب حیدرآباد میں ٹیکسی سرویس کی ابتداء کے بارے میں کچھ بتایئے ؟
محمد میاں : ہمارا ابتدائی تعلق لاری سرویس سے ہوا تھا ۔ کارپوریشن کی لاریاں چلتی تھیں، جن سے ہمارا کانٹریکٹ تھا ۔ دو معلمین بدر الدین صاحب اور حبیب صاحب کی ٹیکسیاں چلتی تھیں ۔ نظام اسٹیٹ میں مورم روڈ اور میٹل روڈ ہوا کرتی تھیں ، جو بہت اچھی حالت میں تھیں ۔ اُس زمانے میں زیادہ تر لاریاں فورڈ اور ڈاج تھیں ۔ ہماری کمپنی Honesty Automobiles گرانڈ ہوٹل افضل گنج کے پاس لایق علی صاحب کی بلڈنگ میں واقع تھی ، جو 1960 تک قائم رہی ۔ بڑے میاں کے پٹرول پمپ پر ڈیزل کی ڈیلیوری پمپ سے بھی شروع کی گئی ۔ اس کا ہیڈ آفس برماشیل تھا ۔ سپلائی مدراس سے ہوتی تھی ۔ 1953 میں ہم کو ڈنلپ ، فائر اسٹون اور گڈلک کی ایجنسی ملی ، لیکن اس سے 20 سال پہلے سے فدا علی میدان میں تھے ۔
افتخار حسین : ڈبوں میں پٹرول کی سپلائی رفتہ رفتہ ختم ہوگئی اور پٹرول پمپ شروع ہوگئے ۔ ٹایروں کے بزنس میں ہم کو اس وقت اہم مقام ملا جب ڈنلپ کمپنی نے ہمارے لئے سیکل کے فدا ٹائرس بنائے ۔ ہم نے گھڑیوں کا کاروبار بھی کیا ۔ جرمنی کی فیورلیوبا گھڑی کی کمپنی نے ہم کو سپلائی کی جانے والی گھڑیوں پر Specially made for Mulla Fida Ali لکھوایا تھا ۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران پٹرول بند ہوگیا تھا ۔ الکحل سے گاڑیاں چلتی تھیں نیچے سے آگ لگاتے تھے ۔ جب پٹرول ڈبوں میں بکتا تھا تو اُن کے لئے حوض بناتے تھے ۔

محمد میاں : الکحل کا انجن دو ڈھائی گھنٹے پہلے تیار کرنا پڑتا تھا ۔ ہینڈل مار کر کار کو گرم کرنا پڑتا تھا ۔ بسیں کروڈ آئیل سے چلتی تھیں ۔
افتخار حسین : کروڈ آئیل کی ایجنسی Powerin ہمارے پاس تھی ۔
محمد میاں : ابتدائی بسیں Albin اور اشوک لی لینڈ تھیں ۔ بسوں کو ریلوں سے مربوط کیا گیا تھا ۔ لوگ ظہیر آباد سے ٹرین پکڑتے تھے ۔ بمبئی لائن پر ایک ڈبہ گلبرگہ پر علحدہ کیا جاتا تھا ۔ ابتدائی دنوں میں باربرداری کے لئے بنڈیاں بھی استعمال ہوتی تھیں ۔
امتیاز الدین : اُس زمانے میں بزنس کا ڈسپلن کیسا تھا ۔
افتخار حسین : ہمارا گھر سدی عنبر بازار پر تھا ۔ 1963 میں میری شادی ہوئی ۔ والد نے کہا کہ کل صبح روز کی طرح 6 بجے تمہیں دکان کھولنا ہے ۔ اسی طرح فلاحی خدمات بھی انجام پاتی تھیں ۔ سدی عنبر بازار پر ہمارے گھر میں مستحق غریب بچے بھی رہتے تھے ، جن کے تعلیمی اخراجات اور کھانا پینا ہمارے ذمے تھا ۔ ان طالب علموں میں بعض ڈاکٹر اور انجینئر بنے ۔
محمد میاں : مسیح الدین صاحب (بڑے میاں) بھی ڈسپلن کے پابند تھے ۔ وہ اکثر گاڑی میں کپڑے لے کر نکلتے تھے اور غربا و مساکین میں تقسیم کردیتے تھے ۔ اُس زمانے میں خورشید حسین صاحب ایک لیڈر ہوا کرتے تھے ، جو مخلص آدمی تھے ۔ پٹرول کی قیمت ایک زمانے میں پانچ آنے گیلن بھی تھی لیکن سپلائی آنا بند ہوجاتی تو قیمت بڑھ جاتی اور کوپن سسٹم لاگو ہوجاتا ۔
افتخار حسین : اکثر لوگ راشننگ کے زمانے میں ہمارے پاس کوپن رکھاتے تھے ۔ اُن کو اطمینان تھا کہ کوپن محفوظ رہیں گے ۔ یہ کوپن ہم تجوری میں رکھتے تھے ۔ ایک بار چور تجوری لے گئے ۔ پولیس نے بعد میں تجوری برآمد کی اور سب کی امانتیں واپس ہوگئیں ۔

امتیاز الدین : آپ لوگوں کے بچے بھی کام میں ہاتھ بٹاتے ہیں ؟
افتخار حسین : اب ہم Car Rentals کے کاروبار سے بھی وابستہ ہیں ۔ نوری ٹراویلس اور ڈاٹ کیاب ہماری سرویس ہیں ۔ میرے دو لڑکے نبیل حسین اور متین حسین ہیں ۔ رضوان حیدر داماد ہیں ۔ car rental کی ابتداء ایک میٹاڈور سے کی تھی ۔ پہلے سے حفیظ شیخ امام اس کاروبار میں تھے ۔ اب 1500 سے لے کر 2000 گاڑیاں ہیں ۔ہمارے پاس کریڈٹ کارڈ ، بکنگ کال سنٹر اور gps سسٹم موجود ہے جس سے کار سے ربط قائم ہوتا ہے ۔
محمد میاں : 1974ء میں بڑے میاں صاحب کا انتقال ہوگیا ۔ 1994 سے میری دکان مارل ٹایرس قائم ہے ۔ بڑا لڑکا شہاب الدین حبیب میرا ہاتھ بٹاتا ہے ۔ دوسرا اور تیسرا بیٹا وارث الدین نوید اور وہاب الدین مجیب ٹایر مینوفیکچرنگ کے کاروبار میں ہیں ۔ چوتھا لڑکا زکریا امین الدین بھی ٹایر مینوفیکچرنگ میں مشغول ہے ۔

امتیاز الدین : حیدرآباد کی بس سرویس کیسی تھی؟
محمد میاں : حیدرآباد کی بس سرویس بھی عمدہ تھی ۔ RTD کا محکمہ ہمیشہ فعال رہا ۔ لو اسپیڈ ڈیزل اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کا استعمال ہوتا تھا ۔ اس زمانے میں چارمینار کے پاس ہلال موٹر ٹیکسی تھی ۔ کرائے کا حساب کتاب mileage یا فاصلے کے حساب سے ہوتا تھا ۔ تلک روڈ پر جہانگیر علی صاحب کی ٹیکسی سرویس تھی ۔ چادر گھاٹ ملک پیٹ کے پاس بھی ٹیکسی کے اڈے تھے ۔ ٹیکسیوں میں پردے لگے ہوتے تھے ۔ اس زمانے میں جو موٹریں استعمال ہوتی تھیں وہ زیادہ تر Pontiac ، اولڈس موبائیل ، ڈاج ، پلائی متھ ، بیوک ، فورڈ ، شیورلے ، سٹرون ، ڈی کے ڈبلیو ، ایڈلر ، مرسیڈس بنز ، آسٹن ، ہمبر ، ہلِمن ، اوپل ، کیڈی لاک اور رولس رایس تھیں ۔ موٹر سیکلوں میں نارٹن ، بی ایس اے ، میچلس ، جاوا ، جیمز ، سن بیم sunbeam ، رایل انفیلڈ کا استعمال تھا ۔ سیکلوں میں ریلے ، ہرکیولس ، فلپس مشہور تھیں ۔ چھبیل داس کی ڈیفنس آٹوموبایلس مشہور دکان تھی ۔
امتیاز الدین : پٹرول میں ملاوٹ اور ناپ میں خیانت کب سے شروع ہوئی۔
افتخار حسین : تھوڑی بہت تو ہر زمانے میں رہی ہے ۔ پٹرول میں ملاوٹ حیدرآباد میں بہت کم تھی ۔ ملٹری کا پٹرول سرخ رنگ کا ہوتا تھا ۔ ہوائی جہاز میں 100 Octane ہنڈرڈ آکٹین اور عام استعمال میں 87 Octane مروج تھا ۔ ملاوٹ اور بے ایمانی کا رجحان اس وقت ہوتا ہے جب پیسے کی ہوس بڑھ جاتی ہے ، لیکن ایماندار لوگ آج بھی ہیں ۔ پٹرول کے بزنس میں زیادہ نفع نہیں ہے ۔ فی لیٹر (per litre) کمیشن ملتا ہے ۔
محمد میاں : ٹایروں کے مینوفیکچرنگ میں بھی ترقی ہوئی ہے ۔ پہلے ٹایر کاٹن تھریڈ اور نائیلون تھریڈ کے ہوتے تھے ، آج کل نائیلون کے علاوہ ریڈیل ٹایر بھی بننے لگے ہیں ، جن میں steel کا استعمال ہوتا ہے ۔ Tubeless tyre کا رواج بھی شروع ہوگیا ہے ۔
امتیاز الدین : آپ دونوں کا بہت بہت شکریہ ۔ گفتگو بہت معلوماتی رہی ۔

TOPPOPULARRECENT