Sunday , December 17 2017
Home / شہر کی خبریں / حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی طلبا و اساتذہ کو فوری رہا کرنے کا مطالبہ

حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی طلبا و اساتذہ کو فوری رہا کرنے کا مطالبہ

ایف آئی آر میں نام رہنے کے باوجود وائس چانسلر کو ذمہ داری دئے جانے کی مخالفت : روہت کی ماں رادھیکا کی پریس کانفرنس
حیدرآباد /25 مارچ ( سیاست نیوز ) روہت ویمولہ کی ماں رادھیکا ویمولہ نے آج ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی سے گرفتار شدہ طلبہ اور اساتذہ کی فی الفور غیر مشروت رہائی کا مطالبہ کیا۔ رادھیکا ویمولہ نے پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ ہوہت کی موت پر انصاف کا مطالبہ کرنے والے طلبہ کے ساتھ پولیس اور یونیورسٹی انتظامیہ کا جو رویہ ہے وہ انتہائی قابل مذمت ہے ۔ انہوں نے وائس چانسلر اپا راؤ کی برطرفی و گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ روہت کی خودکشی سے متعلق کی گئی شکایت میں وائس چانسلر کا بھی نام شامل ہے اور ایف آئی آر میں موجودگی کے باوجود  اپا راؤ کو دوبارہ جائزہ لینے کا موقع فراہم کیا جانا انصاف کے مغائر ہے ۔ رادھیکا ویمولہ نے دو ماہ گذرجانے کے باوجود روہت کی خودکشی کے معاملہ میں کسی کو گرفتار نہ کئے جانے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جو طلبہ روہت کیلئے انصاف طلب کر رہے ہیں انہیں گرفتار کرتے ہوئے یہ تاثر کرنے کی جاری ہے کہ پولیس مرکز کے اشاروں پر کام کر رہی ہے ۔ انہوں نے مرکزی وزیر فروغ انسانی وسائل مسز سمرتی ایرانی کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ مرکزی حکومت روہت کے معاملہ کو نظر انداز کرنے کی کوشش کر رہی ہے ۔ یونیورسٹی طلبہ نے آج بھی احتجاج جاری رکھتے ہوئے کہا کہ اگر ہم حکومت سے سوال کرتے ہیں تو ہمیں مخالف ملک قرار دینے کی کوشش جارہی ہے جو کہ غلط ہے ۔ یونیورسٹی کے تدریسی عملہ نے بھی حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی میں جاری حالات پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور تدریسی عملہ کی جانب سے بھی گرفتار شدہ تمام طلبہ اور اساتذہ کی فی الفور رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا گیاکہ 22 مارچ کو جو کچھ واقعات پیش آئے ہیں ان کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کروائی جانی چاہئے چونکہ پورے معاملات پر کئی شکوک و شبہات ہیں ۔ ان کی تحقیقات کے ذریعہ حقائق کو منظر عام پر لایا جاسکتا ہے ۔ رادھیکا ویمولہ نے دعوی کیا کہ پولیس نے طلبہ پر حملہ کرکے انہیں مشتعل کیا بے تحاشہ لاٹھی چارج کے ذریعہ کئی طلبہ کو زخمی کیا گیا جو اساتذہ طلبہ کی حمایت میں آگے بڑے تھے انہیں ملک کے خلاف غداری کے مقدمہ میں پھانسنے کا انتباہ دیا گیا ۔ انہوں نے تمام گرفتاریوں اور یونیورسٹی کی صورتحال پر صدمے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر طلبہ کی رہائی یقینی نہیں بنائی جاتی تو ایسی صورت میں وہ خود شدید احتجاج کا آغاز کریں گی ۔

TOPPOPULARRECENT