Saturday , November 25 2017
Home / شہر کی خبریں / حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی پھر ایک بار شدید احتجاج سے دہل گئی

حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی پھر ایک بار شدید احتجاج سے دہل گئی

طلبہ اور جرنلسٹ کی گرفتاری پر مزیدکشیدگی ، روہت ویملا کی برسی پر انصاف کا مطالبہ
حیدرآباد ۔ /17 جنوری (سیاست نیوز) حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی آج ایک بار پھر طلبہ کے شدید احتجاج سے دہل گئی ۔ موقع تھا ریسرچ اسکالر روہت ویملا کی برسی کا ایک سال گزرنے کے باوجود بھی انصاف نہ ملنے پر برہم طلباء کی کثیر تعداد اپنے ساتھی روہت کی یاد میں جمع ہوئے تھے ۔ جیسا کہ گزشتہ روز اعلان کردیا گیا تھا کہ روہت ویملا کی پہلی برسی پر شہادت کا دن منایا جائے گا ۔ تاہم یونیورسٹی نے بھی پیشگی اطلاع پر کسی بھی قسم کی اجازت دینے سے انکار کردیا تھا ۔ تاہم طلبہ اپنے احتجاج اور قیادت کا دن منانے پر بضد تھے ۔ آج طلباء اور یونیورسٹی انتظامیہ کے سبب پولیس اور طلبہ میں شدید ٹکراؤ کی صورتحال سے کشیدگی پیدا ہوگئی ۔ پولیس نے اپنے معاندانہ رویہ کو جاری رکھتے ہوئے روہت ویملا کی والدہ رادھیکا کو بھی یونیورسٹی میں داخلہ سے روک دیا اور سینئر جرنلسٹ کنال شنکر کو بھی گرفتار کرلیا اور ان کے خلاف پولیس سے شکایت کردی ۔ طلبہ اور جرنلسٹ کی گرفتاری کے بعد حالات مزید کشیدگی کا رخ اختیار کرگئے ۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے پولیس کی بھاری جمعیت کو طلب کرلیا گیا ۔ طلبہ کی کثیر تعداد جو فرقہ پرستی ، نسلی امتیاز اور ذات پات کے خلاف نعرہ لگارہے تھے ۔ روہت کے افراد خاندان کے ساتھ انصاف اور روہت ایکٹ کی تشکیل کا مطالبہ کررہے تھے ۔ طلبہ کے اس بڑے احتجاج میں جو ہاسپٹل سے شروع ہوکر روہت یادگار تک پہونچا تھا ۔ جواہر لعل نہرو یونیورسٹی جے این یو کے پراسرار طور پر لاپتہ طالب علم نجیب کے بیانر تھامے ہوئے تھے ۔ احتجاج میں طلبہ کی جانب سے روہت اور نجیب کے بیانرس سے انتظامیہ حیرت میں پڑھ گیا اور یونیورسٹی میں کسی بھی قسم کے داخلوں پر روک لگادی تھی ۔ یونیورسٹی کے باہر سے قومی یکجہتی کے لئے فرقہ پرستی ، نسلی تشدد اور ذات پات کے فرق کے خلاف طلبہ کی کثیر تعداد پر مشتمل ایک ریالی آج صبح ہی ایچ سی یو پہونچی ۔ تاہم پولیس کی بھاری جمعیت نے طاقت کا استعمال کرتے ہوئے اسی ریالی کو یونیورسٹی میں داخل ہونے سے روک دیا ۔ اس احتجاج میں جو ایچ سی یو احاطہ میں تھا روہت کے افراد خاندان کے علاوہ نجیب کے افراد خاندان کے علاوہ گجرات کے ارنا میں گاؤ رکھشکوں کے تشدد کا شکار دلت نوجوانوں اور ان کے افراد خاندان کی شرکت کی بھی اطلاع پائی جاتی ہے ، تاہم اس کی توثیق نہیں ہوسکی ۔ طلبہ کا احتجاج طویل وقت تک جاری رہا جو روہت کے لئے انصاف کا مطالبہ کررہا تھا اور یادگار ریالی کی شکل میں منعقد کیا گیا ۔ احتجاج کا منصوبہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی برائے سی جی انصاف کی جانب سے منعقد کیا گیا تھا ۔

TOPPOPULARRECENT