Tuesday , December 11 2018

حیدرآباد سٹی پولیس کو گورنر کے کنٹرول میں دینے کی درخواست

تلنگانہ کے ساتھ تنازعات میں شدت،اے پی کے چیف سکریٹری کی مرکزسے نمائندگی

تلنگانہ کے ساتھ تنازعات میں شدت،اے پی کے چیف سکریٹری کی مرکزسے نمائندگی
حیدرآباد 9 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) دو تلگودیشم ریاست تلنگانہ اور آندھرا پردیش کے درمیان تقسیم کے بعد سے مسلسل جاری اختلافات و تنازعات میں پھر ایک مرتبہ شدت پیدا ہوگئی جب حکومت آندھرا پردیش نے حیدرآباد سٹی پولیس پر الزام عائد کیا کہ آندھرا پردیش تنظیم جدید قانون سے متعلق امور و مسائل پر وہ (حیدرآباد سٹی پولیس جانبدارانہ رویہ اختیار کررہی ہے ۔ آندھراپردیش کی حکومت نے اس مسئلہ کو مرکزی حکومت سے رجوع کرتے ہوئے درخواست کی ہے کہ مذکورہ قانون پر موثر عمل آوری کو یقینی بنانے کیلئے حیدرآباد سٹی پولیس کو دونوں ریاستوں کے مشترکہ گورنر کے کنٹرول میں لایا جائے۔ واضح رہے کہ مسٹر ای ایس ایل نرسمہن ان دونوں ریاستوں کے مشترکہ گورنر ہیں اور حیدرآباد آ:ندہ 10 سال تک ان دونوں ریاستوں کا مشترکہ دارالحکومت رہے گا ۔ دونوں ریاستوں کے درمیان حالیہ عرصہ کے دوران کئی مسائل پر تلخیوں اور کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے بالخصوص ایسے ادارہ جات کے ضمن میں شدیداختلافات پیدا ہوگئے ہیں جو (ادارہ جات) تاحال کسی ایک ریاست کے تفویض نہیںکئے گئے ہیں اور وہ مشترکہ اداروں کے طور پر کام کررہے ہیں۔ حکومت آندرھرا پردیش کی طرف سے جاری ایک اعلامیہ کے مطابق ’’آندھرا پردیش کے چیف سکریٹری آئی وائی آر کرشنار او نے 7 نومبر کو مرکزی کابینہ معتمد اور معتمد داخلہ سے ملاقات کی۔ انہوں نے تنظیم جدید قانون کے تحت بعض مسائل کی یکسوئی میں حیدرآباد سٹی پولیس کے جانبدارانہ رویہ پر حکومت آندھرا پردیش کی طرف سے احتجاج درج کروایا‘‘۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ایسے مسائل کو اس قانون کیدفعات کے مطابق حل کیا جانا چاہئے ۔ چیف سکریٹری نے مرکزی معتمدین کو حالیہ عرصہ کے دوران پیش کر کے چند سلسلہ وار واقعات سے واقف کروایا جس سے حیدرآباد پولیس کے رول پر کئی سوالیہ نشان اٹھ رہے ہیں‘‘۔ حکومت نے مزیدکہا کہ ’’حکومت آندھرا پردیش نے قومی اکیڈیمی برائے تعمیرات (این اے سی) سیاحت و میزبانی انتظامات کے قومی ادارے (این آئی ٹی ایچ ایم) میں پیش آئے حالیہ واقعات کے علاوہ تعمیراتی مزدوروں کے بہبودی فنڈ سے رقومات کی منتقلی پر پیدا شدہ تنازعہ کا تذکرہ کیا‘‘۔
این اے سی کے انچارج ڈائرکٹر کی حیثیت سے مقرر کردہ حکومت کے پرنسپال سکریٹری سام بوب کو حیدرآباد سٹی پولیس نے ان (سام بوب) کے دفتر میں داخل ہونے سے روک دیا اس مسئلہ پر پولیس نے ایک گھنٹہ تک ان سے بحث کی جس کے بعد وہ مجبوراً وہاں سے واپس ہوگئے ۔ اس طرح سکریٹری برائے حکومت ہند کے رتبہ کی حامل سینئر آ:ی اے ایس عہدیدار چندنا کھن کو جو وزارت سیاحت کے تحت چلائے جانیو الے ادارہ این آئی ٹی ایچ ایم کی صدر نشین ہیں، دفتر میں داخل ہونے سے پولیس نے روک دیا ۔ تاہم شریمتی چندنا کھن بطور احتجاج اپنے دفتر کی راہداری میں عہدیداروں کا اجلاس طلب کیا ۔ تعمیراتی مزدوروں کی بہبودی کے فنڈ سے رقومات نکالنے پر آندھرا پردیش کے لیبر کمشنرکے خلاف پولیس میںشکایت درج کیگئی اور ایک آئی اے ایس افسر کے ساتھ پولیس نے نازیبا رویہ اختیار کیا ۔ اس مسئلہ پر تلنگانہ کے چیف سکریٹری نے تمام بینکوں کے اعلی عہدیداروں کا اجلاس طلب کیا جس میں حیدرآباد سٹی پولیس کمشنر نے بھی شرکت کی ۔ حکومت آندھرا پردیش کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ان تمام واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے (مرکزی) کابینی سکریٹری اور (مرکزی) معتمد داخلہ سے درخواست کیگئی ہے کہ ضروری قواعد وضع کریت ہوئے اے پی تنظیم جدید قانون کی دفعہ 8 کو موثر انداز میں نافذ العمل کیا جائے تا کہ حیدرآباد پولیس کو گورنر کی غیر جانبدار اتھاریٹی کے تحت شامل کیا جاسکے‘‘۔

TOPPOPULARRECENT