Saturday , July 21 2018
Home / شہر کی خبریں / حیدرآباد شہر میں خانگی اسکولس انتظامیہ کی من مانی

حیدرآباد شہر میں خانگی اسکولس انتظامیہ کی من مانی

سالانہ امتحانات کے اختتام پر نئے سال کی تیاری ، اسکولس کے شرائط سے اولیائے طلبہ بوجھ کا شکار
حیدرآباد 10 اپریل ( سیاست نیوز) اسکولس میں بچوں کے امتحانات کا اختتام ہونے جارہا ہے ۔ لیکن اس کے ساتھ ہی والدین امتحان کی تیاری میں جٹ گئے ہیں بچے اسکول کے نصاب کی تعلیم کا امتحان دیتے ہیں تو والدین کو اسکول انتظامیہ کے شرائط کی تکمیل کا امتحان دینا پڑھتا ہے ۔ شہر میں آئے دن کارپوریٹ خانگی اسکولس کی ہراسانی کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ تعلیمی اور معیاری تعلیم کی فراہمی کے نام پر اسکولس کی من مانی بڑھتی جارہی ہے ۔ اس من مانی پر روک لگانے کیلئے ایک تنظیم نے مسئلہ کو انسانی حقوق کمیشن سے رجوع کردیا ہے ۔ خانگی کارپوریٹ اسکولس کی جاری من مانی اور شرائط ہاسپٹل طرز کی ہوگئیں اور تعلیم کاروبار بن گیا ہے ۔ چونکہ اسکولس انتظامیہ کتابوں بیاگس اسٹیشنری اور یہاں تک کہ ڈریس بھی اسکولس ہی سے خریدنے کی شرط کو لازمی قرار دے دیا ہے ۔ جیسا کہ ہاسپٹل میں میڈیکل دوکان ہوتی ہے اور مریض کیلئے اسی میڈیکل سے خریدی گئی ادویات کو قبول کیا جاتا ہے ۔ ایک طرف زائد فیس اور دوسری طرف ان شرائط سے شہری پریشانی کا شکار ہیں اور ان شرائط کی تکمیل کیلئے قرض لینے پر مجبور ہو رہے ہیں ۔ معیاری تعلیم اور نامور اداروں کی چکر میں شہری بالخصوص شہر کا اوسط درجہ کا شہری پریشانی کا شکار بنتا جارہا ہے ۔ شہر میں ایک رپورٹ کے مطابق ایک ہزار سے زائد سے بڑے اسکولس ہیں جو کارپوریٹ طرز کا نظام چلاتے ہیں اور شہریوں کی اکثریت ان کی پیشکش اور رنگ رونق سے کافی متاثر ہوتی ہے ۔ تاہم ان کارپوریٹ اسکولس کی من مانی اور بے جا شرائط اور ان پر کوئی لگام لگانے والا نہیں ہے ۔ اولیائے طلباء اور ان سے وابستہ تنظیموں کی جانب سے بار بار اسکولس ایجوکیشن محکمہ کی توجہ دہانی کروائی گئی لیکن تاحال کوئی اقدام نہیں ہوا ۔ بتایا جاتا ہے کہ ان اسکولس کے موجودہ شرائط کافی پریشان کن ہیں ۔ اور ان شرائط و من مانیوں کیلئے سوشیل میڈیا پر مختلف قسم کے پوسٹ گشت کرنے لگے ہیں ۔ اب جبکہ آئندہ تعلیمی سال کے آغاز کے وقت ہی تہواروں کا وقت رہے گا اور عیدالفطر بھی اس دوران آئے گی ۔ ایسے وقت میں شہری پر زائد مالی بوجھ سے کافی پریشان ہیں ۔ کارپوریٹ و خانگی تعلیمی اداروں کی من مانی پر کوئی سرکاری لگام نہ ہونا ہی اس طرح کے پریشان کن نتائج کا سبب سمجھا جارہا ہے ۔ بچوں کے حقوق کیلئے سرگرم تنظیم بالالہ مکولہ سنگھم نے انسانی حقوق کمیشن سے رجوع ہوتے ہوئے اپنی درخواست داخل کردی ۔ اس تنظیم کے صدر مسٹر اجوت راؤ نے حکومت اور محکمہ اسکول ایجوکیشن کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزامات عائد کئے ہیں اور حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کے جی تا پی جی تک تعلیم کا وعدہ کرنے والی حکومت موجودہ تعلیمی نظام پر اپنی لگام کسنے میں ناکام ہوگئی ہے اور کارپوریٹ تعلیم کے نام پر جاری لوٹ کھسوٹ کو روکنے میں بے بسی کا شکار ہے ۔ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ حکومت ان اداروں کے خلاف اقدامات کرنے میں ناکام ہے ۔ انہوں نے محکمہ اسکول ایجوکیشن کے ذمہ داروں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ محکمہ کے عہدیداران مسائل اور حالات کی سنگین صورتحال کو دیکھا ان دیکھا کر رہے ہیں ۔ انہوں نے افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم جیسی چیز کو بھی تجارت بنادیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی انسانی حقوق کمیشن نے درخواست کو قبول کرتے ہوئے 17 جولائی تک مکمل رپورٹ پیش کرنے ڈائرکٹر ایجوکیشنل اور ریاستی حکومت کو ہدایت دی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT