Sunday , December 17 2017
Home / شہر کی خبریں / حیدرآباد شہر میں نشہ آور چیزوں کی رسائی

حیدرآباد شہر میں نشہ آور چیزوں کی رسائی

نوجوان نسل کو بچائے رکھنے والدین توجہ دیں ، کالجس و اسکولس کے طلبہ شکار
حیدرآباد۔5۔جنوری (سیاست نیوز)  نوجوان نسل کو تباہی سے بچانے کیلئے والدین کو سخت چوکسی اختیار کرنی ہوگی کیونکہ شہر حیدرآبادمیں ایسی نشہ آور چیزیں نوجوانو ںکی رسائی میں آچکی ہیں جو انہیں نشہ کی لعنت کا شکار بناتے ہوئے انہیں تباہ کرنے کیلئے کافی ہے۔ دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد میں کئی کالجس و ہائی اسکول کے طلبہ اس لعنت کا شکار ہو رہے ہیں جس کی ابتدائی علامات کا اظہار بہ آسانی نہیں ہوتا بلکہ والدین نوجوانوں کی تھکان اور نیند کو تعلیم کی تھکاوٹ تصور کر رہے ہیں جبکہ درحقیقت نوجوان ایسے نشہ کے عادی ہوتے جا رہے ہیں جس کی نہ کوئی بو آتی ہے اور نہ کوئی اثر نظر آتا ہے۔ شہر کے کئی مقامات سے اس بات کی شکایات موصول ہو رہی ہیں کہ کالج میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ ان سرگرمیوں میں ملوث ہوتے جا رہے ہیں۔ حیدرآباد میں ملک کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے افراد بستے ہیں لیکن حالیہ عرصہ میں نشہ آور ادویات کی فروخت میں دیکھے جا رہے اضافہ کے متعلق بتایا جار ہا ہے کہ ان سرگرمیوں میں بیرونی نوجوان ملوث ہیں جو نوجوانوں کو اس دلدل میں اتار رہے ہیں۔ شہر میں گانجہ اور کوکین کا نشہ کرنے والو ںکی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور ان نشہ کے عادی نوجوان یہ دعوی کررہے ہیں کہ انہیں اب شہر میں دونوں نشہ آور اشیاء بہ آسانی دستیاب ہو رہی ہیں ۔ شہر میں گانجہ کیلئے مخصوص علاقہ موجود تھا لیکن اب گانجہ کی فروخت کئی مقامات پر ہونے لگی ہے اور بعض جگہوں پر پولیس کے ادعا کے بموجب حقہ پارلر میں بھی گانجہ دستیاب ہوا ہے لیکن دونوں شہرو ںمیں فروخت کئے جا رہے سفید پاؤڈر کے متعلق پولیس بھی پریشان ہے۔کوئی اس بات سے واقف نہیں ہے کہ یہ سفید پاؤڈر جو نوجوانوں کی زندگیوں کو تباہ کرنے کا موجب ہے وہ شہر کیسے پہنچ رہا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ پاؤڈر فروخت کرنے والوں نے اس کے مختلف نام رکھے ہوئے ہیں اور یہ لوگ اپنے خریدار کالجس کے قریب تلاش کر رہے ہیں اور انہیں اس نشہ کا عادی بنانے لگے ہیں۔ کوکین کو جن مختلف ناموں سے فروخت کیا جاتا ہے ان میں سفید پاؤڈر‘ فلیکس‘ ڈسٹ‘ کینڈی‘ کے علاوہ دیگر ناموں سے جانا جاتا ہے۔دونوں شہر وں میں گانجہ کو اس کے انگریزی نام مریجوانہ کے نام سے فروخت کیا جا رہا ہے اور کئی مقامات پر گانجہ کے تیار سگریٹ فروخت کئے جا رہے ہیں۔ نوجوان نسل جو کہ مختلف وجوہات کی بناء پر ذہنی انتشار کی کیفیت کا شکار ہوتی جا رہی ہے وہ ان لعنتوں میں مبتلاء ہوتے ہوئے سکون تلاش کر رہی ہے ۔ دونوں شہر وں میں حالیہ عرصہ میں نشہ آور اشیاء اور گانجہ کی ضبطی نے غیر سرکاری تنظیموں اور محکمہ پولیس کو تشویش میں مبتلاء کردیا ہے کیونکہ نشہ کے عادی نوجوانوں کی تعداد میں ہونے والا اضافہ جرائم کی شرح میں اضافہ کا سبب بنتا ہے اور نشہ کے عادی بن جانے والے نوجوان معاشرے کیلئے انتہائی نقصاندہ ثابت ہونے لگتے ہیں کیونکہ جب انہیں اس نشہ کی لت پڑ جاتی ہے تو وہ اس نشہ کے حصول کیلئے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT