Thursday , December 13 2018

حیدرآباد شہر کو فضائی اور آبی آلودگی کا سنگین خطرہ لاحق

حسین ساگر تالاب آلودگی کا شکار ، بدبو و تعفن شہریوں کے لیے خطرناک
حیدرآباد۔8جنوری(سیاست نیوز) شہر کی آبادی کو فضائی اور آبی آلودگی کا سنگین خطرہ لاحق ہونے لگا ہے اس کے باوجود شہر کے بیچ موجود حسین ساگر تالاب کی صفائی پر کوئی توجہ نہ دئیے جانے کے سبب تالاب میں بدبو و تعفن کے علاوہ تالاب میں آلودگی تیزی سے بڑھتی جارہی ہے ۔ حسین ساگر جھیل کی خوبصورتی پر حکومت کی جانب سے کروڑہاروپئے خرچ کرنے کے دعوے کئے جارہے ہیں لیکن حسین ساگر کی سیاحت شہریوں کے لئے کس حد صحتمند ہے اس کا اندازہ پانی میں تیزی سے بڑھ رہی آلودگی اور تعفن سے لگایا جاسکتا ہے۔حکومت تلنگانہ نے حسین ساگر جھیل کو خوبصورت بنانے اور شہر کے اطراف موجود صنعتی کارخانوں کے فضلہ کو حسین ساگر میں پہنچنے سے روکنے کیلئے متعدد اقدامات کا اعلان کیا ہے لیکن حسین ساگر سے ہوٹل میریٹ (سابقہ وائسرائے) سے گذرتے ہوئے موسی ندی سے ملنے والے نالے کا مشاہدہ کیا جائے تو پتہ چلے گا کہ حسین ساگر جھیل آلودگی کے اعتبار سے کس حد تک تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے اور یہ آلودگی شہری علاقوں سے گذرتے ہوئے موسی ندی تک پہنچ رہی ہے۔ ماہرین کا کہناہے کہ شہری علاقوںسے گذرنے والے اس آلودہ پانی سے نہ صرف آبی آلودگی پیدا ہوتی ہے بلکہ اس کی انتہائی خطرناک بات یہ ہے کہ اس آلودہ پانی کے سبب فضائی آلودگی میں بھی تیزی سے اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔ حسین ساگر جھیل سے خارج ہونے والے کثیف آلودہ پانی سے جھاگ نکلنے لگا ہے جو صنعتی کارخانوں کے فضلہ سے جمع ہوتا ہے ۔ آبی وسائل و تالابوں کے تحفظ کیلئے کام کرنے والی تنظیم SOUL کا کہناہے کہ حکومت تلنگانہ کو اس سلسلہ میں متعدد مرتبہ توجہ دلائی گئی ہے لیکن اس مسئلہ کو حل کرنے کے کوئی اقدامات نہیں کئے گئے۔ محترمہ لبنی ثروت نے بتایاکہ حکومت نے فروری 2015 میں 68کروڑ کا تخمینہ لگاتے ہوئے کوکٹ پلی نالہ کے ذریعہ جو آلودہ پانی حسین ساگر پہنچتا ہے اسے علحدہ چیانل سے خارج کرنے کے لئے کام انجام دیئے لیکن اس کے باوجود بھی حسین ساگر سے آلودگی کا خاتمہ نہیں ہوسکا۔ شہر حیدرآباد کے مرکزی سیاحتی مقامات میں شمار کئے جانے والے اس مقام پر پھیلنے والی اس آلودگی کے متعلق ماہرین کا کہنا ہے کہ حسین ساگر سے 4نالے ملتے ہیں اور ان 4 نالوں میں کوکٹ پلی نالہ ‘ بنجارہ نالہ‘ ملکا پور نالہ وغیرہ شامل ہیں ۔ حسین ساگر سے خارج ہونے والا آلودہ پانی میریٹ ہوٹل سے 4.5کیلو میٹر کی مسافت طئے کرتے ہوئے عنبر پیٹ میں موسی ندی سے مل جاتا ہے اور موسی ندی کو آلودہ کرنے میں اس نالہ کا بھی کلیدی کردار ہے۔ گذشتہ برس کے دوران شہر میں پولیو کے خدشات اور جراثیم کے سلسلہ میں اطلاعات منظر عام پر آئی تھیں جس کا منبع عنبر پیٹ کو قرار دیا گیا تھا اور عنبر پیٹ میں موسی ندی میں ملنے والے اسی نالہ میں جراثیم پائے جانے کی نشاندہی کی گئی تھی اس کے علاوہ عنبر پیٹ علاقہ میں ڈینگو اور سوائن فلو سے متاثرہونے والوں کی تعداد میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ماہرین کا کہناہے کہ حسین ساگر سے خارج ہونے والا آلودہ پانی نہ صرف نالوںاور ندی کو آلودہ کرنے کا موجب ہی نہیں ہے بلکہ جس راستہ سے گذر کر ندی تک پہنچ رہا ہے ان راستوں پر فضائی آلودگی اور زیر زمین پانی کو آلودہ کرنے کا بھی موجب بن سکتا ہے اسی لئے حکومت کو فوری اقدامات کرتے ہوئے حسین ساگر جھیل کے تحفظ اور شہری علاقوں سے گذرنے والے اس صنعتی فضلہ کی برخواستگی کیلئے اقدامات کرنے چاہئے ۔ حسین ساگر سے صبح کی اولین ساعتو ںمیں گذرنے والوں کا کہنا ہے انہیں حسین ساگر سے اٹھنے والے تعفن اور موسی ندی سے اٹھنے والے تعفن میں کوئی زیادہ فرق سمجھ نہیں آرہاہے اور بہت جلد حسین ساگر کی آلودگی میں بھی موسی ندی کی طرح اضافہ کا خدشہ ہے لیکن 5.7مربع کیلومیٹر اس وسیع و عریض جھیل میں بھی کثیف جھاگ جمع ہونے لگ سکتا ہے کیونکہ حسین ساگر تک پہنچنے والا 90 فیصد پانی آلودہ ہے اور مسلسل اخراج کا سلسلہ جاری ہونے کے سبب مکمل آلودہ نہیں ہورہا ہے اگر کچھ یوم کیلئے سطح آب میں کمی آتی ہے تو ایسی صورت میں جھیل کی مکمل سطح پر کثیف جھاگ کے بادل جمع ہوسکتے ہیں جو ناچارم تالاب کے علاوہ پیرزادی گوڑہ تالاب میں اکثر آلودگی کے سبب جمع ہوتے ہیںاور بسا اوقات ان اہم سڑکوں پر ٹریفک کی آمد و رفت بھی ان آلودہ جھاگ کے بادلوں سے مفلوج ہو جاتی ہے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT