Sunday , February 25 2018
Home / شہر کی خبریں / حیدرآباد میٹرو ریل سے عوام کی عدم دلچسپی ، ملازمین کی تخفیف

حیدرآباد میٹرو ریل سے عوام کی عدم دلچسپی ، ملازمین کی تخفیف

حیدرآباد ۔ 14 ۔ فروری : ( سیاست نیوز ) : حیدرآباد میٹرو ریل کا آغاز ہوئے ڈھائی ماہ کا عرصہ ہورہا ہے اور آغاز کے ساتھ ہی لاکھوں عوام نے میٹرو ریل کے ذریعہ سفر کرنا شروع کردیا تھا مگر اب حالات بالکل مختلف ہیں میٹرو اسٹیشنس اور ریلوں میں مسافرین کی تعداد بے حد کم ہوگئی ہے ۔ جس کا اثر میٹرو ملازمین پر بھی ہورہا ہے اور بھاری تعداد میں میٹرو ملازمین کی برخاستگی عمل میں آرہی ہے ۔ آخر ڈھائی ماہ کے عرصہ میں ان حالات کی وجہ کیا ہے ؟ اس سوال کا واضح جواب یہ ہے کہ میٹرو ریل کے چارجس کافی مہنگے ہیں ، ایل اینڈ ٹی میٹرو و دیگر ذرائع آمدنی کے ساتھ ساتھ ریلوے چارجس کے ذریعہ بھی بھاری آمدنی حاصل کرنے کے چکر میں ہے اور میٹرو میں اشتہاری تجارت کا آغاز بھی ہوچکا ہے ۔ میٹرو مالس افتتاح کے لیے تیار ہیں۔ میٹرو رئیل اسٹیٹ سے بھی آمدنی ہونے والی ہے اس کے باوجود میٹرو ریل ٹکٹ چارجس کافی مہنگے ہیں ۔ حیدرآباد میٹرو پراجکٹ کو نہ صرف ملکی سطح پر بلکہ عالمی سطح پر سب سے بڑا سرکاری و عوامی شراکت داری پراجکٹ ہونے کا اعزاز حاصل ہے ۔ اس پراجکٹ کا آغاز ملکی سطح پر پہلی مرتبہ عوامی ٹرانسپورٹ ترقی کے نام سے کیا گیا ۔ یعنی متعینہ لائن میں تعمیر کردہ ریلوے کاریڈار اور اس راستہ پر رئیل اسٹیٹ کے ذریعہ آمدنی حاصل کرنے کمپنی کو سینکڑوں کروڑوں کی زمینات مفت میں فراہم کی گئی ہیں اور یہ زمینات کہیں شہر کے مضافاتی علاقوں میں نہیں بلکہ قلب شہر یعنی پنجہ گٹہ ، لال منزل ، ہائی ٹیک سٹی ، میاں پور ، رائے درگ ، ملک پیٹ اور موسیٰ رام باغ میں فراہم کی گئی ہیں ۔ حکومت نے اس کمپنی کو جملہ 290 ایکڑ اراضی 30 برس تک کے لیے فراہم کی ہے اس کے علاوہ میٹرو اسٹیشنس ، میٹرو پلرس کے ذریعہ ہونے والی تشہیری آمدنی بھی کمپنی کو ہی ملتی ہے ۔ اس پراجکٹ کو ڈیزائن کرتے وقت اس بات کا فیصلہ کیا گیا تھا کہ رئیل اسٹیٹ کے ذریعہ 50 فیصد ، اشتہارات کے ذریعہ 5 فیصد ریلوے ٹکٹس کے ذریعہ 45 فیصد آمدنی حاصل کی جائے گی ۔ رئیل اسٹیٹ اور اشتہارات کے ذریعہ بھاری آمدنی ہوسکتی ہے ۔ مگر دہلی کے مقابلہ حیدرآباد میں قیمتیں بہت زیادہ ہیں ۔ بنگلور ، چینائی ، ممبئی ، کوچی اور جے پور الغرض کسی بھی میٹرو پراجکٹ کی قیمت کے مقابلہ حیدرآباد میٹرو کی قیمتیں ہی سب سے بڑھ کر ہیں ، یہی وجہ ہے کہ تین ماہ کے اندر ہی عوام میٹرو ریل سے سفر کرنے سے گریز کررہے ہیں ۔ علاوہ ازیں تین ماہ کا عرصہ ہورہا ہے ۔ اس کے باوجود ماہانہ ، روزانہ ، سہ ماہی ، چھ ماہی ، پاسیس ہی جاری نہیں کئے گئے ہیں ۔ حالانکہ حکومت نے کمپنی کو رئیل اسٹیٹ کے لیے 290 ایکڑ یعنی 18.5 لاکھ فیٹ زمینات تجارتی اغراض کے تحت فراہم کی ہے اور ان زمینات پر تاحال چار مالس تعمیر کئے گئے ہیں ۔ علاوہ ازیں میٹرو میں جملہ 64 اسٹیشنس ، 2500 پلرس ہیں ان کے ذریعہ اشتہاری آمدنی بھی ہورہی ہے اس کے باوجود کافی مہنگے ٹکٹس مقرر کئے جانے پر عوام سخت ناراضگی کا اظہار کررہے ہیں۔۔

TOPPOPULARRECENT