Sunday , January 21 2018
Home / شہر کی خبریں / حیدرآباد میٹرو ریل پراجکٹ کے نام غریب خاندانوں کے مکانات منہدم

حیدرآباد میٹرو ریل پراجکٹ کے نام غریب خاندانوں کے مکانات منہدم

حیدرآباد ۔ 18 مارچ (سیاست نیوز) حیدرآباد میٹرو ریل کے اعظم پراجکٹ کی تعمیر میں غریب خاندانوں کو بے گھر کردیا گیا ہے۔ معاوضہ کے نام پر انصاف کرنے میں ناکام حیدرآباد میٹرو ریل کے عہدیداروں نے چادرگھاٹ، دھوبی گھاٹ سے متصل تقریباً 31 غریب خاندانوں کے گھر اجاڑ رہے ہیں۔ چادرگھاٹ سٹی ماڈل اسکول کے پیچھے واقع اس غریب بستی کے افراد اپنے مکانا

حیدرآباد ۔ 18 مارچ (سیاست نیوز) حیدرآباد میٹرو ریل کے اعظم پراجکٹ کی تعمیر میں غریب خاندانوں کو بے گھر کردیا گیا ہے۔ معاوضہ کے نام پر انصاف کرنے میں ناکام حیدرآباد میٹرو ریل کے عہدیداروں نے چادرگھاٹ، دھوبی گھاٹ سے متصل تقریباً 31 غریب خاندانوں کے گھر اجاڑ رہے ہیں۔ چادرگھاٹ سٹی ماڈل اسکول کے پیچھے واقع اس غریب بستی کے افراد اپنے مکانات اجڑ جانے کے بعد بے یار و مددگار رات سڑکوں پر گذارنے پر مجبور ہیں اور ان افراد میں ایسے خاندان بھی موجود ہیں، جو 20 تا 25 سال سے اس مقام پر ہیں۔ ان کے بچے بڑے بھی اسی بستی میں ہوئے اور ان کی شادیاں بھی یہیں انجام پائی۔ ایک خوفناک سائے کی طرح میٹرو ریل پراجکٹ نے ان کی زندگیاں تباہ و برباد کرڈالیں۔ تاہم پریشان حال کوئی نہیں ہے۔ شہر کو عالمی معیار کا اور خوبصورت ترین شہر بنانے کی دوڑ میں حکومت کے اقدامات غریبی کو ہٹانے کے بجائے غریب کو ہٹانے کے مترادف ثابت ہورہے ہیں جبکہ اس ترقی یافتہ شہر کی تاریخ نے ہر بے گھر کو سہارا دیا لیکن

اب گھر کا سہارا بھی چھین لیا جارہا ہے۔ چادرگھاٹ، دھوبی گھاٹ میں زندگی بسر کرنے والے خاندانوں کی دردبھری داستانیں پائی جاتی ہیں جن میں ایک خاندان نازیہ بیگم کا بھی ہے جو اپنے تین بچوں کے علاوہ اپنی بہن کے 5 یتیم بچوں کی کفالت بھی کرتی ہیں۔ ان کے مکان کو توڑ دیا گیا۔ نازیہ بیگم کے شوہر محمد رزاق پیشہ سے آٹو ڈرائیور ہیں۔ یہ خاندان اب سڑک پر ہے۔ ایک طرف اپنے سازوسامان کی نگرانی تو ایک طرف اپنے اور بہن کے بچوں کی نگرانی و گذر بسر مشکل ہوگیا۔ میٹرو ریل پراجکٹ نے اس خاندان کی زندگی بسر کرنا محال کردیا ہے۔ یہ خاندان تقریباً 15 سال سے اس بستی میں رہتا ہے۔ بہن کی موت کے بعد بہنوئی کے اچانک لاپتہ اور فراری اختیار کرنے کے بعد اس بہن نے ان بے سہارا اور یتیم بچوں کو سہارا دیا اور 5 سال سے ان کی پرورش کررہی ہیں جو اب کھلے آسمان کے نیچے زندگی بسر کررہے ہیں۔ خواجہ نامی ایک شخص جو چارمینار اور اطراف کے تجارتی علاقوں میں کچرہ چننے کا کام کرتا تھا، راتوں رات اس کے مکان کو توڑ دیا گیا جبکہ مکان سے سازوسامان زندگی بسر کرنے کی ضروری اشیاء کو بھی نکالنے نہیں دیا گیا۔ ان کی زندگی کا سرمایہ جو تھوڑا بہت سامان تھا، ملبہ میں تباہ ہوگیا اور میٹرو ریل کی کارروائی میں آدھار اور راشن کارڈ بھی تباہ ہوچکا ہے۔ گدوال ضلع محبوب نگر کے متوطن خواجہ بچپن ہی سے اس علاقہ میں رہتے ہیں جن کے 4 بچے ہیں۔ اس شخص کا کہنا ہیکہ انہیں بات کرنے کا بھی موقع فراہم نہیں کیا گیا اور نہ ہی انہیں اپنے مکان کو دل بھر دیکھنے کی اجازت دی۔ بس ایک دم سے مشنریز کو طلب کرلیا گیا

اور انہدامی کارروائی شروع کردی گئی۔ شبانہ بیگم نامی ایک خاتون نے بتایا کہ وہ بچپن ہی سے اس بستی میں رہتی ہیں اور ان کی شادی بھی اسی مقام پر ہوئی۔ انہوں نے خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ ان کے مکانات کو اس طرح تباہ کردیا جائے گا اور ان کی زندگی جو ندی کے کنارے شہری زندگی سے بالکل الگ تھی اور مزید زندگی کے دھارے سے انہیں کاٹ دیا جائے گا۔ اب مکانات اس طرح تباہ کرائے گئے ہیں کہ ان کے بچے اسکولس بھی نہیں جاسکتے۔ ایک اور خاتون کا کہنا ہیکہ میٹرو ریل اور بلدیہ کے عہدیداروں نے ان کی تصاویر حاصل کیں اور اس بات کا بے بنیاد دعویٰ کررہے ہیں کہ انہیں 50 ہزار روپئے بطور معاوضہ ادا کیا گیا لیکن انہیں 50 روپئے بھی معاوضہ نہیں دیا گیا اور نہ ہی معاوضہ کی بات کی جارہی ہے جبکہ ان کی بستی میں تباہی مچائے ہوئے گیارہ دن کا عرصہ گذر چکا ہے۔ اس بستی کے افراد کی پریشانیوں کی اطلاع پاکر سابق کارپوریٹر اعظم پورہ ڈیویژن و قائد مجلس بچاؤ تحریک مسٹر امجداللہ خان نے مقام کا دورہ کیا اور بے یار و مددگار ان خاندانوں کی عارضی بازآباد کاری کیلئے ایم بی ٹی کی طرف سے مالی امداد فراہم کی اور ریاستی حکومت سے مطالبہ کیا کہ ان بے گھر خاندانوں کو فوری طور پر سرکاری اراضیات میں آباد کیا جائے بلکہ انہیں سرکاری اسکیمات کے ذریعہ بازآباد کروایا جائے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ترقی اور ترقیاتی پراجکٹس پر عمل آوری ہونی چاہئے لیکن انسانی نعشوں اور غریبوں کی تباہی پر ترقیاتی پراجکٹ ناقابل قبول ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایم بی ٹی ترقیاتی پراجکٹوں کی مخالف نہیں بلکہ غریبوں کی بربادی پر خاموش تماشائی نہیں رہے گی۔ انہوں نے میٹرو ریل اور بلدیہ پر بدعنوایوں کا الزام لگایا اور کہا کہ بلدیہ و میٹرو ریل عہدیدار مجرمانہ غفلت کرتے ہوئے معاوضہ کے نام پر غریبوں کو نظرانداز کررہے ہیں۔ مسٹر امجداللہ خاں خالد نے معاوضہ میں ہیراپھیری کا الزام لگاتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری ویجلنس کے ذریعہ تحقیقات کروائے۔ بتایا جاتا ہیکہ اس اراضی کے پٹہ داروں کو معاوضہ دے دیا گیا جبکہ قبضہ داروں کو کوئی معاوضہ نہیں دیا گیا۔ 15 تا 20 سال سے مقیم ان غریب خاندانوں کو قانون کے لحاظ سے 60 فیصد اور پٹہ داروں کو 40 فیصد معاوضہ دیا جانا چاہئے جبکہ ان کے حق میں کوئی بھی اقدامات نہیں کئے گئے۔

TOPPOPULARRECENT