Wednesday , June 20 2018
Home / شہر کی خبریں / حیدرآباد میں امن و قانون کی صورتحال پر گورنر کو خصوصی اختیارات

حیدرآباد میں امن و قانون کی صورتحال پر گورنر کو خصوصی اختیارات

آندھراپردیش تنظیم جدید قانون پر عمل آوری ، ریاستی حکومت کو مرکز کا مکتوب گورنر کے مشوروں پر عمل کی ہدایت

آندھراپردیش تنظیم جدید قانون پر عمل آوری ، ریاستی حکومت کو مرکز کا مکتوب گورنر کے مشوروں پر عمل کی ہدایت

حیدرآباد /8 اگست ( سیاست ڈاٹ کام ) دونوں ریاستوں تلنگانہ اور آندھراپردیش کے آئندہ 10 سال تک مشترکہ دارالحکومت رہنے والے عظیم تر حیدرآباد میں امن و قانون کی صورتحال پر کنٹرول اور اس شہر میں آباد دونوں ریاستوں کے عوام کے جان و مال کی حفاظت و سلامتی سے متعلق گورنر ای ایس ایل نرسمہن کو حاصل اختیارات میں کمی کیلئے حکومت تلنگانہ کی کوششوں کو آج زبردست دھکہ لگا جب مرکزی وزارت امور داخلہ نے حکومت تلنگانہ کی جانب سے حال ہی میں کی گئی ایک نمائندگی کو قبول کرنے سے انکار کردیا اور ریاستی حکومت کو آندھراپردیش تنظیم جدید قانون 2014 میں اس ضمن میں صراحت کردہ تمام دفعات اور قوائد کی پابندی کرنے کی ہدایت کی ۔ جنرل سکریٹری حکومت ہند ایس سریش کمار کی جانب سے حکومت تلنگانہ کے ریاستی چیف سکریٹری ڈاکٹر راجیو شرما کے نام مکتوب میں ، جس کی نقل گورنر کے اے سی ایس اور پرنسپال سکریٹری این رمیش کمار کو بھی بھیجی گئی ہے ۔ واضح طور پر کہا گیا ہے کہ ہندوستانی دستوری دفعات کو ملحوظ رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا گیا ہے اور تنظیم جدید قانون کی دفعہ 5 میں کہا گیا ہے کہ دونوں ریاستیں حیدرآباد ( جی ایچ ایم سی ) کو آئندہ 10 سال تک اپنے مشترکہ دارالحکومت کے طور پر استعمال کریں اور اس قانون کی دفعہ 8 میں مشترکہ دارالحکومت میں امن و قانون ، عوام کی حفاظت و سلامتی اہم تنصیبات کے تحفظ کے علاوہ مشترکہ دارالحکومت میں تمام سرکاری عمارتوں کے انتظام و الاٹمنٹ سے متعلق تمام مسائل سے نمٹنے کیلئے گورنر کو خصوصی ذمہ داری دی گئی ہے ۔ جن میں مشترکہ دارالحکومت میں رہنے والے تمام افراد کے جان و مال کا تحفظ و سلامتی بھی شامل ہے ۔ گورنر اپنی فرائض کے انجام دہی کیلئے ریاست تلنگانہ کی مجلس وزاء سے مشاورت کے بعد اپنے انفرادی فیصلہ کے بنیاد پر کارروائی کرسکتے ہیں ۔ گورنر کا اختیار تمیزی قطعی ہوگا اور جن کے اقدامات کے جواز پر کوئی سوال نہیں کیا جاسکتا ۔ مرکزی حکومت کی طرف سے گورنر کیلئے دو مشیروں کا تقرر کیا گیا ہے جو ( مشیران ) گورنر کی اعانت کریں گے ۔ گورنر کو تلنگانہ کی مجلس وزراء یا دیگر ارباب مجاز کی طرف سے کئے جانے والے کسی بھی فیصلے کے بارے میں معلومات یا ریکارڈ طلب کرنے کا اختیار بھی حاصل رہے گا ۔ حیدرآباد اور سائبرآباد کمشنران پولیس کے علاوہ سپرنٹنڈنٹ پولیس کو چاہئے کہ وہ مشترکہ دارالحکومت میں بالخصوص کسی سنگین جرم پیش آنے کی صورت میں گورنر کو امن و قانون کی صورتحال کے بارے میں وقفہ وقفہ سے معلومات فراہم کریں ۔ جس پر گورنر کو یہ اختیار ہوگا کہ وہ قانون کے مطابق احکام جاری کرے ۔ حیدرآباد و سائبرآباد کمشنران پولیس ایس پی رنگاریڈی کے علاوہ تلنگانہ کہ ریاستی معتمد داخلہ کو چاہئے کہ وہ گورنر کو متذکرہ بالا تمام مسائل پر معلومات فراہم کریں اور اگر گورنر ان مسائل پر اپنے نظریات کا اظہار کرے تو انہیں متعلقہ ارباب مجاز تک پہونچانا چاہئے بہرصورت گورنر کے مشورے پر عمل کرنا چاہئے ۔

TOPPOPULARRECENT