Friday , November 24 2017
Home / شہر کی خبریں / حیدرآباد میں امکنہ کی فروخت میں 67 فیصد کا اضافہ

حیدرآباد میں امکنہ کی فروخت میں 67 فیصد کا اضافہ

تلنگانہ کے قیام ، شہر کو مشترکہ دارالحکومت کے موقف کے بعد مانگ میں اضافہ ، جے ایل ایل انڈیا کی رپورٹ
نئی دہلی ۔ 11 ۔ جنوری : ( پی ٹی آئی ) : نئی ریاست تلنگانہ کے قیام کے بعد اکٹوبر 2014 اور ستمبر 2015 کے دوران حیدرآباد میں مکانات کی فروخت میں 67 فیصد تک اضافہ ہوا جو 7000 یونٹس ریکارڈ کیا گیا ۔ پراپرٹی کنسلٹنٹ جے ایل ایل انڈیا کے مطابق 2014 کے چوتھے سہ ماہی اور 2015 کے تیسرے سہ ماہی کے دوران امکنہ سیلس 7000 یونٹس ریکارڈ کیا گیا جب کہ یہ اس سے پہلے کے سال میں 4200 یونٹس تھا ۔ رئیل اسٹیٹ مارکٹ میں مجموعی طور پر سست رفتاری کے باوجود شہر حیدرآباد میں امکنہ کے سیل میں اضافہ کے بارے میں پوچھے جانے پر جے ایل ایل انڈیا نیشنل ڈائرکٹر جی بی اشوتوش لیمائی نے کہا کہ نئی ریاست تلنگانہ کے قیام اور حیدرآباد کو دو ریاستوں کے مشترکہ دارالحکومت کا موقف حاصل ہونے کے بعد شہر میں امکنہ کی مانگ میں اضافہ ہوا اور اس طرح حیدرآباد میں مکانات کی فروخت میں اضافہ ہوا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ قیمت میں واجبی اضافہ کے ساتھ سیلس کا سلسلہ جاری رہے گا ۔ تلنگانہ کے قیام کے بعد ڈیولپرس سرگرم ہوگئے ہیں اور خریدار بھی مارکٹ میں واپس آرہے ہیں ۔ جے ایل ایل کی رپورٹ میں کہا گیا کہ لانچ کئے گئے یونٹس کی تعداد میں قابل لحاظ اضافہ ہوا ہے ۔ گذشتہ تین سہ ماہی میں لانچس میں گذشتہ سال سے 1.5 گنا اضافہ ہوا ہے ۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ اس کے علاوہ گذشتہ چھ ماہ کے دوران معاشی سرگرمیوں میں بہتری کے باعث مارکٹ میں بہتری آئی ہے ۔ کارپوریٹس بھی آگے آرہے ہیں کیوں کہ سیاسی ماحول ان کے لیے سازگار ہوا ہے ۔ حیدرآباد میں سال بہ سال قیمتوں میں بھی تقریبا 5 تا 10 فیصد کا اضافہ ہورہا ہے ۔ شہر میں اچھے معیار کی زندگی اور انفراسٹرکچر کی بہتر سہولتوں کی وجہ مکانات کی قیمتوں میں مزید اضافہ کا امکان ہے ۔ چونکہ حکومت سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کی کوشش کررہی ہے ۔ اس لیے ریسیڈنشیل رئیلٹی مارکٹ میں مزید معاشی سرگرمیوں کی توقع کی جاسکتی ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT