Saturday , December 16 2017
Home / شہر کی خبریں / حیدرآباد میں بارش سے تباہی ، نمائندوں کی ناقص کارکردگی آشکار

حیدرآباد میں بارش سے تباہی ، نمائندوں کی ناقص کارکردگی آشکار

نئے شہر میں پانی جمع ہونے پر فوری کارروائی ،پرانا شہر نظرانداز، بلدیہ کی پہلو تہی پر حکومت سے شکایت

حیدرآباد۔8اکٹوبر(سیا ست نیوز) پرانے شہر میں بارش کی کتنی ہی تباہی کیوں نہ ہو کوئی اس مسئلہ کو پیش نہ کرے کیونکہ اس سے ہمارے علاقہ کے نمائندوں کی کارکردگی کا پتہ چلتا ہے۔ اس طرح کی ہدایات تو نہیں دی جا سکتی ہیں لیکن اس کے باوجود مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے پرانے شہر میں ہونے والی بارش پر ظاہر کیا جانے والا ردعمل یہ ثابت کرتا ہے کہ بلدی عہدیداروں کو پرانے شہر میں بارش کا پانی جمع ہونے یا پانی گھروں میں داخل ہوجانے سے کوئی فرق نہیں پڑتا بلکہ انہیں صرف نئے شہر کے علاقو ںمیں پانی کے جمع ہوجانے یا مکانات میں داخل ہوجانے سے ہی پریشانی لاحق ہوتی ہے کیونکہ انہیں اس بات کا خوف ہوتا ہے کہ اگر نئے شہر کے علاقوں میں اس طرح کی ہنگامی صورتحال کے دوران حرکت میں نہیں آتے ہیں تو ایسی صورت میں انہیں مقامی عوامی نمائندوں کی برہمی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے اور بلدی عہدیداروں کی سست کارکردگی کی شکایت حکومت تک پہنچ سکتی ہے ۔ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد ہی نہیں بلکہ ریاستی و مرکزی حکومت کے مختلف محکمہ جات کی جانب سے پرانے شہر کے متعلق سوتیلا سلوک اختیار کئے جانے کی متعدد شکایات منظر عام پر آچکی ہیں اور پرانے شہر کے مسائل کو حل کرنے کے سلسلہ میں عہدیداروں کی جانب سے کئے گئے کئی وعدہ فراموش کئے جاچکے ہیں لیکن اس کے باوجود بھی عوام کو یہ کہہ کر گمراہ کیا جا رہا ہے کہ پرانے شہر کی حالت نئے شہر سے کافی بہتر ہے جبکہ پرانے شہر کی حقیقی صورتحال نہ صرف قائدین بلکہ خود عہدیدار عوام اور میڈیا کی نظروں میں آنے نہیں دیتے بلکہ انہیں پرانے شہرکے بجائے نئے شہر کی ابتر صورتحال میں الجھائے رکھنے کی کوشش کی جا تی ہے۔ گذشتہ شب اور آج دن میں ہوئی بارش سے یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ خود عہدیدار بھی نہیں چاہتے کہ پرانے شہر میں بارش کی تباہ کاریاں عوام اور میڈیا تک پہنچیں ۔ 7اکٹوبر بروز ہفتہ شام 5بجے سے پرانے شہر کے مختلف علاقو ںمیں ہونے والی بارش کے متعلق مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے شام 7بجے تک بھی ذرائع ابلاغ کے اداروں کو مطلع نہیں کیا گیا اور نہ ہی پرانے شہر کے آسمانوں پر امڈ آئے بادلوں کی صورتحال سے واقف کروایا گیا لیکن جب پرانے شہر کی مصروف ترین سڑکوں پر پانی جمع ہونے کی اطلاعات دیگر ذرائع سے گشت کرنے لگی تو ایسی صورت میں بلدی عہدیدار متحرک ہوئے اور 7بجے تک ہونے والی بارش کی تفصیلات بتائی جانے لگی۔ اسی طرح اتوار کی دوپہر ہونے والی شدید بارش کے متعلق بھی مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے کوئی انتباہی پیغام یا صورتحال کے متعلق واقف نہیں کروایا گیا ۔ اس کے برعکس اگر نئے شہر کے آسمانوں میں بادل امڈ آتے ہیں تو ایسی صورت میں جی ایچ ایم سی کی جانب سے بارش کی پیش قیاسی کی جانے لگتی ہے اور بارش کی صورت میں جہاں کہیں بلدیہ کے ایمرجنسی عملہ کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں اور پانی کے اخراج کا کام جاری ہوتا ہے اس کے متعلق واقف کروایا جاتا رہتا ہے لیکن پرانے شہر کیلئے ایسا کوئی نظام موجود نہیں ہے اور پرانے شہر کے عوام کو موسم اور ایک دوسرے کی مدد آپ کرنے کے لئے چھوڑ دیا جاتا ہے اور اس مسئلہ پر کسی گوشہ سے کوئی آواز نہیں اٹھائی جاتی بلکہ بارش کے فوری بعد یہ کہا جاتا ہے کہ آئندہ بارش سے قبل نالوں کو بہتر بنانے کے علاوہ ان کی توسیع و صفائی کی جائے گی لیکن یہ اعلان دوبارہ اسی وقت یاد آتا ہے جب دوبارہ بارش ہونے لگتی ہے اور نالے ابل پڑتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT