حیدرآباد میں بیشتر اراضیات پر غیر مجاز قبضے

تقریبا 44 ہزار درخواست گذاروں کو پٹے جات ملنا ممکن نہیں

تقریبا 44 ہزار درخواست گذاروں کو پٹے جات ملنا ممکن نہیں
حیدرآباد ۔ 16 ۔ فروری : ( ایجنسیز ) : حیدرآباد میں زمین کو باقاعدہ بنانے کے لیے سطح غربت سے نیچے ( BPL ) زندگی گزارنے والے جن افراد نے درخواستیں داخل کی ہیں ان میں تقریبا دو تہائی کو آئندہ ماہ تک پٹہ ملنے کا امکان نہیں ہے ۔ ضلع انتظامیہ کو 125 مربع گز سے کم زمین پر ناجائز قبضے کو ختم کرتے ہوئے اسے باقاعدہ بنانے کے لیے 68 ہزار درخواستیں موصول ہوئی ہیں ۔ حکومت نے اس ضمن میں جی او 58 جاری کیا تھا جس کے ذریعہ غیر مجاز قبضوں کو باقاعدہ بنانے کا موقع فراہم کیا جارہا ہے ۔ جب ان درخواستوں کی جانچ کی گئی تو تقریبا 44 ہزار درخواستیں قابل اعتراض پائی گئیں ۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ ان درخواستوں کو مسترد کردیا جائے گا ۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ قبضے ہندو اوقاف ، وقف ، سکندرآباد کنٹونمنٹ ، ڈیفنس اور ایرپورٹ اراضیات پر کئے گئے ہیں ۔ چنانچہ ان قبضوں کو کسی صورت باقاعدہ نہیں بنایا جاسکتا ہے ۔ اگر ان اراضیات کی ملکیت ریاستی حکومت کے پاس ہو تو تب بھی اسے متعلقہ محکمہ جات سے رجوع ہو کر ریونیو ڈپارٹمنٹ اور دیگر محکموں سے تال میل کے ذریعہ انہیں باقاعدہ بنانے کا موقع نہیں ہے ۔ انتظامیہ کو تقریبا 24 ہزار ایسی درخواستیں موصول ہوئی ہیں جن پر کوئی اعتراض نہیں ہے اور ان میں تقریبا 6 ہزار کی تنقیح کا کام مکمل ہوچکا ہے ۔ ان تمام کو مارچ میں پٹہ دئیے جانے کا امکان ہے ۔۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT