Tuesday , August 21 2018
Home / شہر کی خبریں / حیدرآباد میں جائیدادوں کی قیمتوں میں بھاری گراوٹ

حیدرآباد میں جائیدادوں کی قیمتوں میں بھاری گراوٹ

خلیج میں تبدیل شدہ حالات سے بھی منفی رجحان، بیرونی سرمایہ کاری پر توجہ
حیدرآباد۔ 14نومبر(سیاست نیوز) ملک کے رئیل اسٹیٹ شعبہ میں آرہی گراوٹ کا شہر حیدرآباد پر تیزی سے اثر ہونے لگا ہے اور جائیدادوں کی قیمتوں میں بھاری گراوٹ ریکارڈ کی جانے لگی ہے کیونکہ جو جائیدادیں فروخت کیلئے تیار ہیںان کے خریدار نہ ہونے کے سبب وہ اپنی اہمیت و وقعت کھوتی جا رہی ہیں ۔ شہر حیدرآباد کے رئیل اسٹیٹ شعبہ میں گذشتہ ماہ 35فیصد کی گراوٹ ریکارڈ کئے جانے کے علاوہ بھاری سرمایہ کاری کرنے والوں کی بیرون ملک توجہ میں اضافہ کی رپورٹس کے بعد صورتحال مزید ابتر ہوتی جا رہی ہے اور صرف ضرورت مند ہی جائیداد خریدنے لگے ہیں لیکن جن لوگوں نے شہر میں اراضیات و جائیدادوں کی قیمت کے اچھال کے دور میں بغرض سرمایہ کاری جائیدادیں خریدی تھیں وہ اب مشکل دور سے گذر رہے ہیں اور مستقبل قریب میں رئیل اسٹیٹ شعبہ میں کوئی بہتری کے آثار نہ ہونے کے سبب بھی حالات سنگین نوعیت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ شہر حیدرآباد کے اطراف کے علاقوں کے علاوہ شہری حدود میں جائیدادوں کی قیمتوں میں ریکارڈ کی جارہی جائیدادوں کی قیمت کے متعلق ماہرین کا کہنا ہے کہ بغرض سرمایہ کاری جائیداد خریدنے والوں نے بیرونی ممالک میں سرمایہ کاری کی راہیں تلاش کرنی شروع کردی ہیں اور جو ہندستانی شہری بیرون ملک ملازمت کرتے ہوئے اپنے شہر میں سرمایہ کاری کیا کرتے تھے وہ بھی اب پریشان ہیں ۔ خلیج کے تیزی سے تبدیل ہو رہے حالات کے سبب صورتحال ابتر ہوتی جا رہی ہے اور لوگ ترک ملازمت کرتے ہوئے واپس ہونے لگے ہیں اسی لئے غیر مقیم ہندستانیوں کی سرمایہ کاری کی توقعات کم ہوتی جارہی ہیں۔ رئیل اسٹیٹ تجارت میں موجودہ دور کے متعلق ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے حالات گذشتہ 20برس کے دوران کبھی دیکھنے میں نہیں آئے ہیں جبکہ آندھرا اور تلنگانہ کیلئے تحریک کے دوران رئیل اسٹیٹ تجارت مندی سے گذر رہی تھی تب بھی سرمایہ کاری کے رجحان میں کوئی کمی نہیں آئی تھی اور سرمایہ کار اس دور کو سرمایہ کاری کیلئے بہتر تصورکر رہے تھے تاکہ ریاست کی تقسیم کے فیصلہ کے بعد حالات میں سدھار آنے کے امکانات سے فائدہ اٹھایا جائے لیکن فی الحال جو صورتحال ہے وہ اس سے زیادہ خطرناک ہوچکی ہے اور خریدار کے غائب ہونے کے سبب رئیل اسٹیٹ ادارے مشکل دور سے گذر رہے ہیں۔جائیدادوں کی قیمتو ںمیں آنے والی گراوٹ کے متعلق کہا جا رہا ہے کہ کرنسی تنسیخ اور جی ایس ٹی کے بعد حالات بہت زیادہ خراب ہو چکے ہیں اور صنعتی اداروں کے بند ہونے کا اثر بھی رئیل اسٹیٹ شعبہ پر نظر آنے لگا ہے ۔ حیدرآباد کے نواحی علاقو ںمیں جہاں اراضیات‘ فلیٹس اور مکانات کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا تھا اور لوگ سرمایہ کاری کے طور پر خرید رہے تھے اب یہ سلسلہ بند ہوچکا ہے جس کے سبب جائیدادوں کی قیمتوں میں اضافہ کا رجحان بھی تیزی سے زوال پذیر ہے۔

TOPPOPULARRECENT