Wednesday , January 17 2018
Home / شہر کی خبریں / حیدرآباد میں جرائم پیشہ افراد میں غیرمعمولی اضافہ

حیدرآباد میں جرائم پیشہ افراد میں غیرمعمولی اضافہ

تعلیم یافتہ اور آئی ٹی استعمال کنندے دھوکہ کا شکار، کمشنر سٹی پولیس کی پریس کانفرنس

تعلیم یافتہ اور آئی ٹی استعمال کنندے دھوکہ کا شکار، کمشنر سٹی پولیس کی پریس کانفرنس

حیدرآباد ۔ 27 ڈسمبر (سیاست نیوز) شہر حیدرآباد میں جرائم پیشہ افراد کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ جرائم پیشہ ورانہ مجرمین کی بنسبت تعلیم یافتہ اور ٹیکنالوجی کو استعمال کرنے والے دھوکہ دہی کا شکار ہوتے ہیں جس کے سبب سائبر جرائم میں 40 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ کمشنر پولیس حیدرآباد سٹی مسٹر مہندر ریڈی نے آج سالانہ جائزہ اجلاس میں میڈیا کو مخاطب کرتے ہوئے جرائم کی تفصیلات سے آگاہ کروایا۔ انہوں نے سال2014 ء میں پیش آئے واقعات کی تفصیلات بتائی اور پولیس کے اقدامات اور کارکردگی کی رپورٹ پیش کی۔ تاہم انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ سال 2014ء میں سائبر جرائم کے علاوہ خواتین پر مظالم اور عصمت ریزی کے واقعات و اغوا کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے وجوہات کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ شہریوں میں آگہی اور شعور بیداری کے سبب مقدمات درج کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت نے حیدرآباد اور سائبرآباد پولیس کمشنریٹ کی ترقی اور پولیس کے فلاحی اقدامات کے تحت 320 کروڑ روپئے جاری کئے ہیں، جس کی مدد سے محکمہ کو جدید ٹیکنالوجی سے مربوط کیا جارہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے جرائم پر قابو پانے کے اقدامات کئے جارہے ہیں۔ سال 2014ء میں ٹاسک فورس کے ذریعہ 2,564 مقدمات کو حل کیا گیا۔ تاہم پولیس کے ریکارڈ کے مطابق سرقہ کی وارداتوں میں 10 فیصد اور ظلم و زیادتی کی عصمت ریزی کے معاملات میں 5 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ سال 2014ء میں قتل کے 103 مقدمات جبکہ 107 مقدمات سال 2013ء میں درج کئے گئے تھے جبکہ عصمت ریزی 145 مقدمات سال 2014 میں جبکہ سال 2013ء میں 102 مقدمات درج کئے گئے۔ اغواء 365 مقدمات سال 2014 اور 130 مقدمات سال 2013ء میں درج رجسٹر کئے گئے۔ جاریہ سال دھوکہ دہی کے 2377 ڈکیتی کے 10 رہزنی کے52 کے علاوہ خواتین پر مظالم کے 1674 مقدمات درج کئے گئے جبکہ 29 خواتین کی جہیز و ہراسانی اور جہیز کیلئے دو خواتین کا قتل کا شکار ہوئیں۔ سال 2014ء میں خواتین کے خلاف ظلم و زیادتی، قتل اور عصمت ریزی کے کل 2790 مقدمات درج کئے گئے۔ سال 2014ء میں کل 21035 مقدمات درج کئے گئے جبکہ سال 2013ء میں ان کی تعداد 19110 تھی۔ سال 2014ء میں شہر حیدرآباد کے حدود میں 2500 سڑک حادثات درج کئے جن میں 338 افراد ہلاک ہوئے ایسے 99 سڑک حادثات پیش آئے جن میں اموات ہوئیں۔ سٹی پولیس کے ٹریفک شعبہ نے سال 2014ء میں نشہ کی حالت میں گاڑی چلانے والوں کے خلاف 14,246 مقدمات درج کئے۔ ان مقدمات کی تعداد سال 2013ء میں 13,476 تھی اور اس سال 2,490 افراد کے خلاف کارروائی کی گئی جنہیں سزاء بھی سنائی گئی۔ ٹریفک پولیس نے ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے افراد کے خلاف سال 2014ء میں 29,43,547 مقدمات درج کئے گئے اور 34,48,44,445 روپئے کی رقم جرمانوں کی شکل میں حاصل کی۔ سٹی پولیس کمشنر مہندر ریڈی نے بتایا کہ پولیس کی عوام دوست پالیسیوں سے بہترین نتائج برآمد ہورہے ہیں اور فیس بک کے ذریعہ بہترین عوامی ردعمل حاصل ہورہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاسپورٹ انکوائری اور فیڈ بیاک سرویس کے علاوہ خواتین کے تحفظ کیلئے شروع کردہ شی ٹیم جیسے نئے اقدامات کامیاب ثابت ہوئے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اب جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے ٹریفک نظام اور جرائم کی روک تھام میں بہتر اقدامات کئے جائیں گے۔ انہوں نے سیکوریٹی کے مئسلہ پر بنکس کو پابند کردیا کہ وہ اپنے اداروں میں سی سی ٹی وی کیمروں کو مؤثر بنائیں۔ انہوں نے بتایا کہ وی آئی پیز کے خلاف مقدمات میں کوئی نرمی نہیں برتی جارہی ہے جبکہ اکثر مقدمات چارج شیٹ میں داخل کردی گئی ہے اور تحقیقات میں پیشرفت جاری ہے۔ کمشنر پولیس نے بتایا کہ سپریم کورٹ کی ہدایت کے بعد کمسن بچوں اور لڑکیوں کی گمشدگی کے خلاف اغواء کا مقدمہ درج کیا جارہا ہے۔ اس موقع پر سٹی پولیس کے اعلیٰ عہدیداروں و ڈی سی پیز موجود تھے۔

TOPPOPULARRECENT