Wednesday , August 22 2018
Home / شہر کی خبریں / حیدرآباد میں جنسی جرائم کے مرتکب افراد کے لیے رجسٹری کے قیام کا منصوبہ

حیدرآباد میں جنسی جرائم کے مرتکب افراد کے لیے رجسٹری کے قیام کا منصوبہ

امریکہ اور برطانیہ میں جنسی جرائم کا ارتکاب کرنے والوں سے نمٹنے کے مختلف طریقہ ، ملزمین کے ناموں کو راز میں رکھنا بہتر
حیدرآباد ۔ 7 ۔ نومبر : ( سیاست نیوز ) : حیدرآباد میں جنسی ہراسانی کے بڑھتے واقعات اور جنسی جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کو سدھارنے اور بہتر درس دینے کے لیے مختلف اقدامات پر غور کیا جارہا ہے ۔ اس خصوص میں حال ہی میں ایڈیشنل کمشنر آف پولیس ( کرائمس ) سواتی لاکرا نے کہا کہ حیدرآباد میں جنسی ہراسانی کے مرتکب افراد کے لیے ایک رجسٹری قائم کرنے کا منصوبہ بنایا جارہا ہے ۔ حیدرآباد میں اس طرح کے ادارہ کے قیام کے ذریعہ جنسی ہراسانی کے واقعات پر قابو پانے کی کوشش کی جائے گی ۔ ایک ادارہ کے قیام یا رجسٹری کی تعمیر کا کام پہلے ہی شروع ہوچکا ہے ۔ اس سے ایک میکانزم کو وضع کرنے میں مدد ملے گی ۔ شریمتی سواتی لاکرا نے کہا کہ یہ رجسٹری امریکہ اور برطانیہ میں کام کررہے انسداد جنسی ہراسانی اداروں کے خطوط پر قائم کیا جائے گا ۔ تاہم دونوں امریکہ اور برطانیہ میں ان اداروں کے کام کرنے کا طریقہ مختلف ہے ۔ برطانیہ میں جنسی ہراسانی کا ارتکاب کرنے والوں کی اطلاع پولیس اور اس طرح کے واقعات سے نمٹنے کے لیے تربیت یافتہ آفیسرس کے پاس رہتے ہیں اور صورتحال سے یہی ادارہ واقف ہوتا ہے لیکن امریکہ میں جنسی ہراسانی کیس میں ملوث افراد کے لیے جو نظام بنایا گیا ہے اس پر شدید تنقیدیں ہورہی ہیں کیوں کہ جنسی حملوں کا ارتکاب کرنے والوں کی تفصیلات کو عوام پر ظاہر کیا جاتا ہے ۔ اس تعلق سے ماہرین کا کہنا ہے کہ جنسی جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کی تفصیلات ظاہر کرنے سے ان افراد کو معاشرہ میں بدنامی کا شکار ہونا پڑتا ہے خاص کر ان کے ارکان خاندان کی زندگی سماج کے سامنے مشکوک بن جاتی ہے ۔ ان افراد میں اصلاحات کا عمل بھی بے اثر ہوجاتا ہے ۔ اس سسٹم کو 90 کے اوائل سے شروع کیا گیا تھا لیکن اس کی وجہ سے بہتری سے زیادہ ابتری کا عنصر نمایاں ہونے لگا ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جنسی جرائم کا ارتکاب کرنے والوں میں کمسن بچوں کی فہرست بھی ہے جو ہنوز روزگار سے محروم ہیں ۔ انسانی حقوق پر نظر رکھنے والے ادارہ کے جائزہ میں جنسی جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کی شناخت کو اگر برسر عام ظاہر کیا جائے تو اس سے ان کے خلاف ہراسانی یا تشدد کا امکان بڑھ جاتا ہے ۔ کئی کیسوں میں ان پر رہائشی پابندیاں بھی عائد ہوتے ہیں تو ان لوگوں کو مجبوراً اپنے گھروں اور خاندان والوں سے دور رہ کر زندگی گذارنا پڑتا ہے ۔ مزید یہ کہ جنسی جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کو بچوں کے رہنے کے مقامات کے قریب بسنے سے روکنا بھی ممکن نہیں ہے ۔ اور یہ بھی قطعی نہیں کہا جاسکتا کہ بچے ان جنسی جرائم کے ارتکاب افراد کے جنس تشدد سے محفوظ رہ سکیں ۔ برطانیہ میں رائج سسٹم کا تفصیلی جائزہ سے پتہ چلتا ہے کہ یہ سسٹم سب سے زیادہ کارآمد ہے ۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے جرائم کو روکنے ایک اور اضافی سسٹم کی ضرورت ہے ۔ اس میں مالیاتی سرمایہ کاری کی بھی ضرورت ہے ۔ اور انسانی و فنی وسائل کو بھی متحرک کرنا ضروری ہے ۔ جس کے بعد ہی دیگر بہترین اصلاحات کا عمل شروع ہوگا ۔ خواتین اور بچوں کے خلاف ہی زیادہ جرائم ہوتے ہیں اور یہ جرائم اکثران کے ہی دائرہ میں رہنے والوں کے خلاف ہوتے ہیں جن میں سے اکثر جرائم کی کوئی خبر بھی نہیں ہوتی ۔ جائزہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ہندوستان میں بھی جنسی جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کے لیے ایک رجسٹری ادارہ ہوناچاہئے ۔ اسکول آف کرائمینالوجی اینڈ کریمنل جسٹس نارتھ ایسٹرن یونیورسٹی بوسٹن امریکہ کی ایک ڈاکٹری کرنے والے طالب علم سبیا کو کلرلارا نے خاص کر کمسن بچوں اور ملزم کو بھی اس دائرہ میں شامل کرنے پر دوبارہ غور کرنے پر زور دیا ہے جنہیں ہنوز قانون کے شکنجے میں کسا نہیں گیا ۔ ہندوستان میں مجوزہ قومی جنسی ہراسانی رجسٹری کے حصہ کے طور پر ایک ایسا قانون بنایا جائے جس میں جنسی ملزمین کے ساتھ منصفانہ مقدمہ چلایا جائے ۔ اس کے علاوہ اس کے لیے مختص کئے جانے والے بجٹ کو جیل میں اصلاحات کے لیے استعمال کیا جائے اور باز آبادکاری پروگرام میں بھی تبدیلی لائے جائے جس کے بعد ہی اصلاحات کا عمل پورا ہوگا ۔ وی کے سنگھ ڈائرکٹر جنرل محابس نے احساس ظاہر کیا کہ جیل اصلاحات سے اس طرح کے مسائل سے نمٹنے میں مدد ملے گی ۔ زیادہ تر ملزمین کو عام طور پر سزا نہیں ہوتی ۔ اس کے علاوہ تمام جرائم ایک دوسرے سے مربوط ہوتے ہیں ۔ اس کو ایک خاص زاویہ سے دیکھا جانا چاہئے تاکہ کسی ایک کو نشانہ بنانے کے بجائے اس طرح کی ذہنیت کو دور کرنے کی کوشش کی جائے ۔ ان لوگوں کی ایک بہتر طریقہ سے کونسلنگ ہونی چاہئے ۔ انہیں زندگی گذارنے میں مدد کرتے ہوئے متبادل انتظام کیا جانا چاہئے ناکہ انہیں ایک خاص نام دے کر سماج سے متروک کیا جائے ۔ کارکن سنیتا کرسٹن نے کہا ہے کہ اس عمل کے لیے ایک تیز رفتار پالیسی کی ضرورت ہے اس کے لیے ایک علحدہ سیل ہونا چاہئے جہاں ان کی نگرانی ہوسکے ۔۔

TOPPOPULARRECENT