Friday , November 24 2017
Home / شہر کی خبریں / حیدرآباد میں خانگی اسکولوں کی عمارتیں طلباء کے لیے غیر محفوظ

حیدرآباد میں خانگی اسکولوں کی عمارتیں طلباء کے لیے غیر محفوظ

آتش فرو آلات کی عدم موجودگی کے باوجود سرکاری عہدیدار لاپرواہی اور غفلت کا شکار

حیدرآباد۔ 7 نومبر (سیاست نیوز) شہر حیدرآباد میں موجود خانگی اسکولوں کی عمارتیں طلبہ کیلئے محفوظ نہیں ہیں! شہر میں اسکولوں میں آتش فرو آلات کی عدم موجودگی سے متعلقہ محکمہ جات بھی واقف ہیں لیکن اس کے باوجود اس انتہائی خطرناک غفلت سے لاپرواہی برتی جارہی ہے۔ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد میں موجود فائر سیفٹی شعبہ کے عہدیدار اس بات کا اعتراف کرنے سے گریز نہیں کررہے ہیں کہ شہر میں موجود 90 فیصد اسکولی عمارتوں میں آتش فرو آلات موجود نہیں ہیں اور یہ اسکولس بلدیہ کی جانب سے اجازت نامہ حاصل کرنے میں کامیاب ہورہے ہیں۔ اسکول انتظامیہ اور بلدیہ کے ملازمین کے درمیان موجود گٹھ جوڑ طلبہ کی زندگیوں کے لئے خطرہ بنا ہوا ہے۔ بلدی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ جن اسکولوں میں ہنگامی حالات سے نمٹنے کے آلات و دیگر سہولیات موجود نہیں ہیں، ان کے خلاف کارروائی محکمہ تعلیم کی ذمہ داری ہے جبکہ محکمہ تعلیم یہ کہتے ہوئے اپنا دامن بچانے کی کوشش کررہا ہے کہ جب آتش فرو آلات کے متعلق صداقت نامہ جاری کرنے والے ادارہ جی ایچ ایم سی کی جانب سے صداقت نامہ جاری کردیا گیا ہے تو محکمہ تعلیم کیونکر کارروائی کرے۔ یہ بات عیاں ہے کہ دونوں محکمہ جات میں رشوت کا چلن کس حد تک عام ہے اور دونوں محکمہ جات کس طرح خدمات انجام دیتے ہیں لیکن شہر میں موجود ہزاروں اسکولوں میں موجود تعلیم حاصل کرنے والے لاکھوں بچوں کی زندگیوں کو جوکھم میں ڈالتے ہوئے جو غفلت برتی جارہی ہے، یہ ایک ڈراؤنے خواب کی طرح ہے۔ قوانین کے مطابق اسکولی عمارتوں سے باہر نکالنے کے ایک سے زائد راستے فراہم کرنا لازمی ہے، اسی طرح ہر اسکول میں آتش فرو آلات کی تنصیب عمل میں لائی جانا ضروری ہے۔ آتشزنی کے واقعات سے بچنے کیلئے جو اقدامات کئے جانے چاہئیں ان کے مطابق 45 طلبہ پر مشتمل ایک کلاس روم کیلئے دو دروازے ہونے چاہئیں۔ اسی طرح سیڑھیوں کیلئے بھی قوانین مرتب کئے گئے ہیں۔ 50 طلبہ کیلئے ایک میٹر چوڑی سیڑھیاں ہونی چاہئیں جبکہ زائد از 200 طلبہ کی موجودگی کی صورت میں 4 میٹر چوڑی سیڑھیاں ضروری ہے۔ تعلیمی اداروں کیلئے مرتب کئے گئے ان قوانین پر عدم عمل آوری طلبہ کی زندگیوں کیلئے خطرہ ثابت ہوسکتی ہے اور محکمہ بلدیہ کے شعبہ فائر سیفٹی میں خدمات انجام دے رہے عہدیدار اس بات سے اچھی طرح واقف ہیں لیکن کارروائی نہ کرنے کی وجوہات کے متعلق پوچھے جانے پر یہ کہا جارہا ہے کہ کارروائی محکمہ تعلیم کا اختیار ہے جبکہ محکمہ تعلیم کی جانب سے یہ دعویٰ کیا جارہا ہے کہ جب صداقت نامہ موجود ہے تو کس طرح کارروائی کی جاسکتی ہے۔ تعلیمی اداروں میں برتی جارہی اس جان لیوا غفلت کے خلاف فوری طور پر کارروائی کی ضرورت ہے، لیکن جن عہدیداروں کو کارروائی کیلئے مجاز گردانا جاتا ہے، وہ عہدیدار خود دھاندلیوں میں ملوث ہیں۔ سال 2014ء میں شہر کے 1862 اسکولوں کو آتشزنی کی صورت میں ’’غیرمحفوظ‘‘ قرار دیا گیا تھا لیکن کسی ایک اسکول کے خلاف بھی سخت کارروائی نہیں کی گئی۔ اسکولوں میں فائر بکیٹس، فائر ایکسٹنگیشر، چھت پر ٹینک، فائر پمپ کے علاوہ دیگر آلات کی موجودگی لازمی ہے۔ شہر میں موجود ہوٹلوں میں جہاں بغرض سیاحت پہونچنے والے سیاح قیام کرتے ہیں ان ہوٹلوں کو آتش فرو آلات سے لیس نہ کئے جانے پر لائسنس منسوخ کئے جاتے ہیں لیکن شہر سے تعلق رکھنے والے طلبہ جو تعلیمی اداروں میں علم حاصل کررہے ہیں، ان کی زندگیوں کے متعلق حکومت لاپرواہی برت رہی ہے۔ حالیہ عرصہ میں یہ دیکھا جارہا ہے کہ تعلیمی ادارہ جات ایسی عمارتوں میں بھی چلائے جارہے ہیں جہاں بالکلیہ طور پر آزادانہ چہل پہل کی سہولت بھی موجود نہیں ہے، اس طرح کی عمارتوں میں تعلیمی اداروں کا قیام مزید خطرات کا باعث بن سکتا ہے لیکن کسی قسم کی کارروائی نہ کئے جانے کے باعث یہ ادارہ بھی من مانی طور پر دھڑلے سے چلائے جارہے ہیں۔ محکمہ تعلیم اور محکمہ بلدیہ کی جانب سے برتی جارہی اس غفلت کی بنیادی وجہ آتش فرو آلات رکھنے کا سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کیلئے ادا کی جانے والی کروڑہا روپئے کی رشوت ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ایک اسکول کو آتش فرو آلات رکھنے کا سرٹیفکیٹ جسے فائر سیفٹی این او سی کہا جاتا ہے، کے حصول کے لئے ایک تا دیڑھ لاکھ روپئے ادا کئے جاتے ہیں اور غیرقانونی طور پر یہ سرٹیفکیٹ حاصل کرلیا جاتا ہے۔ اس بات سے محکمہ تعلیم کے عہدیدار بھی واقف ہیں لیکن اس طرح کی سرگرمیوں کو روکنے کیلئے کوئی اقدامات نہیں کئے جارہے ہیں۔شہر میں جب کبھی کوئی حادثہ رونما ہوتا ہے تو ایسی صورت میں چند یوم کیلئے سختی دکھائی جاتی ہے اور بڑے پیمانے پر کارروائیاں کی جاتی ہیں لیکن تعلیمی اداروں میں برتی جانے والی اس غفلت پر کسی قسم کی کارروائی نہ کرتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ محکمہ بلدیہ کے شعبہ فائر سیفٹی اور محکمہ تعلیم کی جانب سے کسی حادثہ کا انتظار کیا جارہا ہے تاکہ شہری علاقوں میں موجود اسکولوں کو آتشزنی کے واقعات سے محفوظ بنانے کے عملی اقدامات کئے جائیں۔

TOPPOPULARRECENT