Thursday , September 20 2018
Home / شہر کی خبریں / حیدرآباد میں سیما آندھرا عوام کی پچاس فیصد آبادی

حیدرآباد میں سیما آندھرا عوام کی پچاس فیصد آبادی

حیدرآباد ۔ 24 جنوری (سیاست نیوز) ریاستی وزیرمعدنیات مسز جی ارونا کماری نے آج ایوان میں جاری ریاست کی تقسیم سے متعلق بل پر مباحث میں حصہ لیتے ہوئے ریاست کی تقسیم کی شدید مخالفت کی اور کہا کہ اس سے ریاست کے عوام بالخصوص پسماندہ علاقے متاثر ہوں گے۔ انہوں نے بتایا کہ حیدرآباد کے کئی علاقوں میں سیما ۔ آندھرا سے تعلق رکھنے والے عوام کی 50 فی

حیدرآباد ۔ 24 جنوری (سیاست نیوز) ریاستی وزیرمعدنیات مسز جی ارونا کماری نے آج ایوان میں جاری ریاست کی تقسیم سے متعلق بل پر مباحث میں حصہ لیتے ہوئے ریاست کی تقسیم کی شدید مخالفت کی اور کہا کہ اس سے ریاست کے عوام بالخصوص پسماندہ علاقے متاثر ہوں گے۔ انہوں نے بتایا کہ حیدرآباد کے کئی علاقوں میں سیما ۔ آندھرا سے تعلق رکھنے والے عوام کی 50 فیصد آبادیاں موجود ہیں جوکہ شہر کی ترقی اور وسعت میں اپنا اہم کردار ادا کررہی ہیں۔ مسز جی ارونا کماری نے دعویٰ کیاکہ ریاست کی تقسیم کا اثر طلبہ کے مستقبل پر بھی پڑے گا اور انہیں قومی ادارے جوکہ تلنگانہ میں قائم ہیں، ان میں داخلوں میں دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ریاستی وزیر نے کہا کہ حیدرآباد میں کئی اہم ملٹی نیشنل کمپنیاں قائم ہیں، جن میںزائد از ایک لاکھ نوجوان جن کا تعلق سیما ۔ آندھرا سے ہے، برسرخدمت ہیں۔ مسز جی ارونا کماری نے بتایا کہ ریاست کی تقسیم سے علاقہ رائلسیما کے مزید پسماندہ ہونے کا خدشہ ہے جوکہ ابتداء سے ہی پسماندہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ریاست کی تقسیم سے متعلق مرکز کی جانب سے کئے گئے فیصلہ کے خلاف۔

سیما آندھرا علاقوں میں عوام کا ہر طبقہ احتجاج کررہا ہے۔ ملازمین، طلبہ، مرد، خواتین کے علاوہ تاجر بھی ریاست کی تقسیم کے فیصلہ کی مخالفت کررہے ہیں۔ انہوں نے ریاست کی تقسیم کے فیصلہ سے دستبرداری کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ رائلسیما جوکہ بالکل علحدہ تھا، اسے تلگو زبان بولنے والوں کے درمیان اتحاد کے نام پر مدراس پریسیڈنسی سے علحدہ ہونے والے آندھرا اور تلنگانہ کے ساتھ جوڑ دیا گیا اور رائلسیما عوام نے تلنگانہ کی ترقی میں اپنا اہم حصہ ادا کیا ہے۔ انہوں نے حکومت کی جانب سے تلنگانہ کی ترقی کیلئے کئے گئے اقدامات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے ان کے علاقہ رائلسیما کو نظرانداز کیا لیکن تلنگانہ بالخصوص حیدرآباد کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔ مسز جی ارونا کماری نے کہا کہ ریاست کی تقسیم سے صرف تعلیم اور ملازمتوں میں بڑے مسائل پیدا نہیں ہوں گے بلکہ صحت سے متعلق مسائل میں بھی اضافہ ہوگا۔ ریاستی وزیر نے ریاست کی تقسیم سے پیدا ہونے والے مزید کئی خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سیما ۔

آندھرا علاقوں کے ساتھ مسلسل ناانصافی کا سلوک روا رکھا گیا، جس کے زیادہ اثرات رائلسیما پر مرتب ہوئے لیکن اس کے باوجود بھی آج ریاست کی تقسیم کا فیصلہ کیا جارہا ہے جوکہ ریاست کے عوام کے مفاد میں نہیں ہے۔ مسز جی ارونا کماری نے مختلف امور اور حکومتوں کے دور میں ہوئے ترقیاتی کاموں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ حیدرآباد اور تلنگانہ نے ترقی کے بہترین ثمرات حاصل کئے ہیں۔ انہوں نے تلگو عوام اور ریاست کے مفادات کے تحفظ کیلئے ریاست کی تقسیم نہ کرنے کی اپیل کرتے ہوئے ’’آندھرا پردیش تشکیل جدید بل 2013‘‘ کی مخالفت کی اور کہا کہ وہ اس اقدام کی مخالف ہیں۔

TOPPOPULARRECENT