Friday , September 21 2018
Home / شہر کی خبریں / حیدرآباد میں شراب کی دکانات کی بھر مار ، قانون کی خلاف ورزی

حیدرآباد میں شراب کی دکانات کی بھر مار ، قانون کی خلاف ورزی

اندرون سال 350 کروڑ کی شراب فروخت ، سڑکوں پر کھلے عام شراب نوشی ، حکومت کا دعویٰ کھوکھلا ثابت
حیدرآباد ۔ /11 اپریل (سیاست نیوز) تلنگانہ ریاست میں شراب کی فروخت میں مسلسل اضافہ دیکھا جارہا ہے جبکہ شہر حیدرآباد میں بھی شراب کا کاروبار عروج پر ہے ۔ گزشتہ سال سے جاریہ سال کا تقابل کیا جائے تو 300 کروڑ سے زائد شراب فروخت کی گئی ہے ۔ حیدرآباد (ریونیو ڈسٹرکٹ) میں مالیتی سال 2016-17 ء میں 1,946 کروڑ کی شراب فروخت کی گئی تھی جبکہ مالیتی سال 2017-18ء میں 2300 کروڑ کی شراب فروخت کی گئی ہے ۔ صرف ایک سال کے وقفہ میں 350 کروڑ کی شراب کی فروخت میں اضافہ ہوا ہے ۔ محکمہ آبکاری و نشہ بندی کو ہر سال شراب کے کاروبار سے اضافی آمدنی برآمد ہورہی ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ شہر میں کھلے عام شراب کی فروخت اور شراب نوشی کے باعث شراب کے کاروبار میں اضافہ دیکھا گیا ہے ۔ جبکہ قوانین کے مطابق مذہبی مقامات ، تعلیمی ادارے اور دیگر عوامی مقامات پر شراب کی دوکان کھولنے کی اجازت نہیں ہے لیکن شہر میں ایسے کئی وائن شاپس اور بارس موجود ہے جو قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنا کاروبار زوروں پر چلارہے ہیں ۔ وائن شاپس کے پاس اور سڑکوں پر کھلے عام شراب نوشی کے نتیجہ میں عوام بالخصوص خواتین اور بچوں کو شرابیوں کی چھیڑ چھاڑ اور ان کی شرپسندی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ حالانکہ پولیس یہ دعویٰ کررہی ہے کہ کھلے عام شراب نوشی کے خلاف وقتاً فوقتاً کارروائی کی جارہی ہے ۔ حکومت کے جھوٹے وعدے اور بے روزگاری دور کرنے کے اقدامات کے فقدان کے نتیجے میں کثرت سے شراب نوشی کرنے والے افراد میں نوجوانوں کی تعداد زیادہ دیکھی جارہی ہے چونکہ وہ مایوسی کا شکار ہوچکے ہیں ۔ سستی شراب (گڑمبے) پر مکمل امتناع عائد کرنے اور محکمہ آبکاری و نشہ بندی کی جانب سے اس پر سختی سے عمل آوری کئے جانے کے نتیجہ میں عادی شرابیوں کو وائن شاپس سے شراب خریدنا لازم ہوگیا ہے اور یہ بھی ایک اور وجہ ہے جو شراب کے کاروبار کو عروج پر پہونچادیا ہے ۔ شہر حیدرآباد میں ایسے کئی مقامات دیکھے جاسکتے ہیں جہاں پر وائن شاپس پر شرابیوں کا ہجوم ہوتا ہے اور وائن شاپ کے لائسنس کے حصول کیلئے بھی بڑے پیمانے پر محکمہ آبکاری میں عہدیداروں کا تعاون بھی دیکھا گیا ہے ۔ تلنگانہ حکومت کی نئی اکسائز پالیسی کی وجہ سے شراب کے کاروبار میں سینکڑوں کروڑ کی آمدنی کا اضافہ ہوا ہے اور ہر گلی ہر نکڑ پر شہر میں شراب کی دوکانیں عام ہوتی جارہی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT