Sunday , January 21 2018
Home / شہر کی خبریں / حیدرآباد میں فضائی آلودگی میں بے انتہا اضافہ

حیدرآباد میں فضائی آلودگی میں بے انتہا اضافہ

شہریوں کی صحت کو خطرہ لاحق ، مختلف امراض کا شکار ہونے کا احتمال

شہریوں کی صحت کو خطرہ لاحق ، مختلف امراض کا شکار ہونے کا احتمال
حیدرآباد ۔ 23 ۔ ستمبر : ( ایجنسیز ) : حیدرآباد میں ہوائی آلودگی کی سطح میں کافی اضافہ ہورہا ہے جس کی وجہ شہریوں کو ایک بڑا خطرہ لاحق ہے ۔ اعداد و شمار کے مطابق شہر میں ریسپیریبل سسپنڈیڈ پارٹیکلیٹ میاٹر (RSPM) کی سطح میں بتدریج اضافہ ہورہا ہے ۔ صرف علاقہ سکندرآباد میں یو ایس ایمبیسی اور قونصلیٹ کے ایرکوالٹی مانیٹر نے پیر کو 114 کے ایک ایر کوالٹی انڈیکس (AQI) کا پتہ چلایا ہے ۔ اس کا مطلب ہے کہ امراض قلب و شش کے افراد میں اس کی علامات اور کارڈیو پلمنری مرض سے متاثرہ اور عمر رسیدہ اشخاص کی وقت سے پہلے اموات کے احتمال میں اضافہ ہوا ہے ۔ ڈاکٹر سبھاکر کانڈی ، کنسلٹنٹ پلمونولوجسٹ ، کیر ہاسپٹل نے کہا کہ ہوائی آلودگی میں اضافہ کے باعث لوگوں میں تنفس کے مسائل میں اضافہ ہورہا ہے ۔ اس سے دمہ اور دیگر امراض تنفس بھی پیدا ہوتے ہیں ۔ گاڑیوں صنعتوں اور ماحولیاتی آلودگی کے علاوہ غیر متحرک اسموکنگ بھی بہت نقصان دہ ہے کیونکہ اس سے انوائرنمنٹل ٹوباکو اسموک (ETS) کی سطح میں اضافہ ہوتا ہے ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ہوائی آلودگی کے باعث پھیپھڑوں کے امراض سے متاثرہ اشخاص کے علاوہ دیگر لوگوں کی صحت کو بھی خطرہ لاحق ہوتا ہے ۔ ہوائی آلودگی سے جلد میں خشکی پیدا ہوتی ہے اور پھنسیاں بھی ہوتی ہیں ۔ اس سے پھیپھڑے اور جلد کے کینسر کا احتمال رہتا ہے ۔ اس کے علاوہ فضائی آلودگی کے اثر کی وجہ جسم میں کاربو ہیمو گلوبن کی سطح میں اضافہ ہوجاتا ہے جس سے ہائپر ٹنشن اور امراض قلب پیدا ہوتے ہیں ۔ اگرچیکہ گاڑیوں سے ہونے والی آلودگی سے آلودگی میں کافی اضافہ ہوتا ہے ۔ اس کے علاوہ صنعتوں سے ہونے والی اور ماحولیاتی آلودگی میں بھی اضافہ ہورہا ہے ۔ پرانی گاڑیوں سے زیادہ دھواں خارج ہوتا ہے جس سے ماحولیاتی آلودگی اور بڑھ جاتی ہے اور کچرے کی وجہ سے بھی شہریوں کے لیے حالات نامساعد بن جاتے ہیں ۔ ڈاکٹر سبھاکر نے یہ بات بتائی اور کہا کہ Upper respiratory مسائل میں یقینا اضافہ ہوا ہے ۔ بالخصوص بچوں میں کیوں کہ ان کا تنفسی نظام پوری طرح قائم نہیں ہوتا ہے ۔ اس طرح بچوں کے لیے بڑا خطرہ لاحق رہتا ہے ۔ جب کہ وہ ہوائی آلودگی کے اثرات سے متاثر ہوں ۔ اے پی پولیوشن کنٹرول بورڈ ( ریاست کی تقسیم کے بعد ریاست تلنگانہ اور آندھرا پردیش کے لیے علحدہ ڈپارٹمنٹس ہنوز قائم نہیں کئے گئے ہیں) کے عہدیداروں سے ربط پیدا کرنے پر انہوں نے بتایاکہ شہر میں فضائی آلودگی پر قابو پانے کے لیے مختلف اقدامات کئے جارہے ہیں ۔ بورڈ کے ایک عہدیدار نے کہا کہ ہمارے یہاں لیاب میں کام کرنے والے صورتحال کی مستقل طور پر نگرانی کرتے ہیں اور اس بات کو یقینی بنانے کوشاں ہیں کہ حالات قابو سے باہر نہ ہوجائیں ۔ ہم شہر کے اہم مقامات پر پابندی کے ساتھ چیکنگ کررہے ہیں ۔ اس کے علاوہ ہم شہر میں ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنے کے لیے سی این جی بسوں کی حوصلہ افزائی کرنے پر بھی توجہ دے رہے ہیں ۔۔

TOPPOPULARRECENT