Saturday , November 18 2017
Home / شہر کی خبریں / حیدرآباد میں قحط سالی کی سنگین صورتحال ، عوام پانی کیلئے ترس رہے ہیں

حیدرآباد میں قحط سالی کی سنگین صورتحال ، عوام پانی کیلئے ترس رہے ہیں

مقامی سیاسی کارکن پانی فروخت کرنے میں مصروف ، واٹر مافیا اور محکمہ آبرسانی پر کنٹرول کی ضرورت
حیدرآباد۔13مئی(سیاست نیوز) شہر کے کئی علاقے قحط سالی کی صورتحال کا شکار بنے ہوئے ہیں لیکن اس کے باوجود ان علاقوں میں پینے کے پانی کی سربراہی کو بحال کرنے کے کوئی اقدامات ہوتے نظر نہیں آرہے ہیں بلکہ عوام کو ان کے حال پر چھوڑ دیا گیا ہے نہ حکومت کی جانب سے پانی کی قلت سے پریشان حال عوام کو راحت پہنچانے کے اقدام کئے جا رہے ہیں اور نہ ہی منتخبہ عوامی نمائندے عوام کے اس سنگین مسئلہ کو حل کرنے میں دلچسپی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ پرانے شہر کے بیشتر علاقوں میں عوام کو پینے کے پانی کے مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور مقامی سیاسی کارکن پانی فروخت کرنے میں مصروف ہیں بلکہ جو لوگ پانی کی عدم سربراہی کی شکایات کے ساتھ رجوع ہو رہے ہیں انہیں مشورہ دیا جا رہا ہے کہ وہ پانی خرید کر استعمال کریں۔ سلطان شاہی‘ تالاب کٹہ ‘ نشیمن نگر ‘ بھوانی نگر ‘ امان نگر‘ وٹے پلی ‘ فلک نما‘ فاطمہ نگر کے علاوہ کئی علاقوں میں سربراہی آب کے مسائل کے سبب عوام کو پانی جیسی انتہائی ضروری شئے کیلئے راتوں کے اوقات میں دوڑ دھوپ کرنی پڑ رہی ہے۔ حکومت کی جانب سے بارہا یہ کہا جا رہا ہے کہ ریاست کے تمام اضلاع با لخصوص حیدرآباد میں پینے کے پانی کی سربراہی میں کسی قسم کی تکلیف نہیں ہے بلکہ قحط جیسی صورتحال کے باوجود شہریوں کو پینے کا پانی سربراہ کرنے میں کوتاہی نہیں کی جا رہی ہے۔ پرانے شہر کے ان علاقوں میں عوام کو جس صورتحال کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اسے دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا کہ منظم سازش کے تحت پانی کی سربراہی کو بند کیا جا رہا ہے چونکہ اس پانی کی سربراہی کو بند کرنے پر شہری منرل واٹر پلانٹ سے پانی خریدنے پر مجبور ہیں۔ خانگی واٹر مافیا کی سرگرمیوں پر کنٹرول کیلئے یہ ضروری ہے کہ واٹر مافیا اور محکمہ آبرسانی کے درمیان جاری گٹھ جوڑ ختم کیا جائے لیکن عہدیدار نہیں چاہتے کہ ایسا ہو۔ چوںکہ واٹر مافیا کی سرگرمیوں سے انہیں بھی فائدہ حاصل ہو رہا ہے۔ پرانے شہر کے کئی علاقوں میں سربراہی آب کی غیر یقینی صورتحال کے سبب عوام میں شدید ناراضگی پائی جاتی ہے اور اس ناراضگی کو دور کرنا منتخبہ عوامی نمائندوں کی ذمہ داری ہے لیکن وہ اس سنگین مسئلہ کو غیر اہم قرار دیتے ہوئے نظر انداز کرنے لگے ہیں اور یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ شہر کے صرف بعض مقامات پر یہ صورتحال ہے۔ جبکہ شہر کے کئی علاقوں میں یہی حالت ہے اور شہر کی غریب بستیوں میں اس کے اثرات نظر آرہے ہیں چونکہ غریب عوام کیلئے روزانہ پانی خریدنا انتہائی دشوار کن امر ہے۔

TOPPOPULARRECENT