Friday , January 19 2018
Home / شہر کی خبریں / حیدرآباد میں لاء اینڈ کنٹرول پر گورنر کے اختیارات پر مرکز کے فیصلہ کی مخالفت

حیدرآباد میں لاء اینڈ کنٹرول پر گورنر کے اختیارات پر مرکز کے فیصلہ کی مخالفت

وزیراعظم پر نریندر مودی پر ٹی آر ایس حکومت کے اختیارات سلب کرنے کا الزام، ڈپٹی چیف منسٹر و دیگر قائدین کا شدید ردعمل

وزیراعظم پر نریندر مودی پر ٹی آر ایس حکومت کے اختیارات سلب کرنے کا الزام، ڈپٹی چیف منسٹر و دیگر قائدین کا شدید ردعمل
حیدرآباد۔/9اگسٹ، ( سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت اور برسراقتدار ٹی آر ایس پارٹی نے حیدرآباد کے لاء اینڈ آرڈر کنٹرول پر گورنر ای ایس ایل نرسمہن کو زائد اختیارات سے متعلق مرکز کے فیصلہ پر شدید ردِ عمل کا اظہار کیا ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر ڈاکٹر ٹی راجیا، ریاستی وزراء کے ٹی راما راؤ، ہریش راؤ اور جوگو رامنا نے مرکز کے اس فیصلہ پر شدید ردعمل کا اظہار کیا اور کہا کہ تلنگانہ حکومت کیلئے یہ فیصلہ ناقابل قبول ہے۔ ان وزراء نے حکومت کو مرکز کی جانب سے روانہ کردہ مکتوب پر علحدہ علحدہ ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ نریندر مودی زیر قیادت این ڈی اے حکومت عوامی منتخبہ ٹی آر ایس حکومت کے اختیارات سلب کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ ڈاکٹر راجیا نے کہا کہ مرکز کی یہ تجویز نہ صرف حکومت بلکہ تلنگانہ عوام کیلئے بھی ہرگز قابل قبول نہیں ہے۔ اس طرح کی ناانصافیوں کو عوام ہرگز برداشت نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کا فیصلہ دستور میں ریاستوں کو دیئے گئے اختیارات کے برخلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کے اس فیصلہ پر ٹی آر ایس حکومت ہرگز عمل نہیں کرے گی اور مرکز کو اس فیصلہ سے دستبرداری کیلئے مجبور کیا جائے گا۔ ڈاکٹر راجیا نے اس بات کا اشارہ دیا کہ ریاستی حکومت پھر ایک مرتبہ بڑے پیمانے پر عوامی ایجی ٹیشن کا آغاز کرسکتی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ آندھراپردیش تنظیم جدید بل 2014 کی آڑ میں تلنگانہ کے ساتھ ناانصافی کی سازش رچی گئی ہے۔ وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی کے ٹی راما راؤ نے الزام عائد کیا کہ مرکزی حکومت اپنے حدود سے تجاوز کرتے ہوئے فیصلے کررہی ہے۔ انہوں نے گورنر کو زائد اختیارات سے متعلق مرکز کے مکتوب پر شدید برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ مرکز کا یہ فیصلہ ایک سیاسی سازش کا حصہ ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ تلنگانہ حکومت اپنے حقوق کے تحفظ کیلئے قانونی لڑائی لڑے گی۔ کے ٹی راما راؤ نے بتایا کہ غیر بی جے پی ریاستوں کے چیف منسٹرس کے ساتھ اس مسئلہ پر مشاورت کرتے ہوئے مرکز پر دباؤ بنانے کی کوشش کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ امن و ضبط کا مسئلہ مکمل طور پر ریاست کے تحت آتا ہے اور اس پر گورنر کی اجارہ داری نہیں ہوسکتی۔ وزیرآبپاشی ہریش راؤ نے حیدرآباد پر گورنر کے زائد اختیارات کو چیف منسٹر آندھرا پردیش چندرا بابو نائیڈو اور مرکزی وزیر وینکیا نائیڈو کی سازش قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ ریاست کو کمزور کرنے کیلئے یہ سازش رچی گئی۔ انہوں نے کہا کہ یو پی اے دور حکومت میں نریندر مودی نے حکومت پر تلنگانہ کو تباہ کرنے کا الزام عائد کیا تھا لیکن اب ان کے وزارت عظمیٰ کے دور میں تلنگانہ کے خلاف سازشیں کی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد میں آندھرائی عوام کے جان و مال کے تحفظ کے نام پر گورنر کو زائد اختیارات تفویض کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ہریش راؤ نے کہا کہ تلنگانہ حکومت ریاست میں مقیم ہر شہری کے جان و مال کے تحفظ کی پابند ہے اور حکومت نے بارہا اس بات کی وضاحت کی کہ آندھرائی عوام کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے گا۔ وزیر جنگلات جوگو رامنا نے بھی مرکز کے فیصلہ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اس تجویز کو قبول کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ وزیر اعظم نریندر مودی آندھرا پردیش کے چیف منسٹر چندرا بابو نائیڈو کے ہاتھوں کٹھ پتلی بن چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ چندرا بابو نائیڈو کی ایماء پر ہی مرکز مسلسل تلنگانہ کے خلاف فیصلے کررہا ہے۔

TOPPOPULARRECENT