Thursday , December 14 2017
Home / شہر کی خبریں / حیدرآباد میں ملاوٹ شدہ خون کا اسکام ، بلڈ ڈونیشن کیمپس پر عوام کے شبہات

حیدرآباد میں ملاوٹ شدہ خون کا اسکام ، بلڈ ڈونیشن کیمپس پر عوام کے شبہات

حکام کو نظر رکھنے کی ضرورت ، حقیقی غریب اور مستحق افراد استفادہ سے محروم
حیدرآباد۔/20 مئی، ( سیاست نیوز) حیدرآباد میں ملاوٹ شدہ خون کا اسکام منظر عام پر آنے کے بعد نہ صرف بلڈ بینکس بلکہ بلڈ ڈونیشن کیمپس منعقد کرنے والوں کے بارے میں عوام میں شبہات پیدا ہورہے ہیں۔ پولیس نے کل ملاوٹ شدہ خون کے اسکام کو بے نقاب کیا۔ شہر میں مختلف مواقع پر منعقد کئے جانے والے بلڈ ڈونیشن کیمپس پر بھی حکام کو نظر رکھنی چاہیئے کیونکہ عوام سے مختلف عنوانات کے تحت حاصل کیا جانے والا خون بلڈ بینکس کو فروخت کیا جاتا ہے اور اس سے حقیقی غریب اور مستحق افراد کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا۔ غیر سرکاری اداروں کی جانب سے اکثر و بیشتر اس طرح کے کیمپس منعقد کئے جاتے ہیں اور یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ حاصل کیا جانے والا خون غریب اور مستحق افراد کو مفت سربراہ کیا جائے گا لیکن کیمپ کے اختتام کے بعد آرگنائزرس دکھائی نہیں دیتے اور اگر کوئی ان سے خون کی ضرورت کا تذکرہ کرے تو وہ خانگی بلڈ بینکس سے رجوع ہونے کا مشورہ دیتے ہیں۔ روزانہ سوشیل میڈیا پر خون کی ضرورت سے متعلق کئی اپیلیں کی جاتی ہیں اور انسانی خدمت کا جذبہ رکھنے والے افراد پہنچ کر خون کا عطیہ دیتے ہیں۔ بلڈ گروپ بھلے ہی درکار گروپ سے میل نہ کھائے لیکن دواخانہ کے حکام خون حاصل کرتے ہوئے اس کے بدلے درکار بلڈ گروپ کا خون مریض کو چڑھاتے ہیں۔ اس سلسلہ میں غریب افراد سوشیل میڈیا سے دور ہیں جس کے نتیجہ میں انہیں ضرورت کے وقت خون کا حصول انتہائی دشوار ہوتا ہے اور اکثر واقعات میں خون نہ ملنے کے سبب غریبوں کی اموات واقع ہوجاتی ہیں۔ بلڈ ڈونیشن کیمپس کا قریب سے جائزہ لینے والے افراد کا ماننا ہے کہ ڈونیشن کیمپس کے طریقہ کار میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ مقدس ایام کے موقع پر بلڈ ڈونیشن کیمپ میں ہزاروں افراد کا خون حاصل کیا جاتا ہے اور بعد میں یہ اطلاع دی جاتی ہے کہ یہ خون فلاں مریضوں یا فلاں بلڈ بینکس کے حوالے کردیا گیا۔ ہونا تو یہ چاہیئے کہ بلڈ ڈونیشن کیمپ میں حاصل کردہ خون جس بلڈ بینک کو بھی حوالے کیا جائے اس سے یہ ادارہ تحریری معاہدہ کرے کہ اگر وہ کسی غریب کو خون کیلئے روانہ کریں گے تو وہ مفت سربراہ کرے گا۔ جس قدر خون بلڈ بینک یا ہاسپٹل کے حوالے کیا گیا اسی مقدار تک سفارش کردہ افراد کو خون فراہم کرنے سے متعلق معاہدہ کیا جانا چاہیئے۔ اس طرح حقیقی معنوں میں غریبوں کو خون کی ضرورت کی تکمیل کی جاسکتی ہے۔ خون کے حصول کیلئے غریب سرکاری دواخانوں میں دربدر بھٹکتے ہیں اور ان کی استطاعت نہیں ہوتی کہ خانگی ادارہ سے خون خرید سکیں۔ سماجی تنظیموں سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ مقدس ایام اور مختلف مواقع پر مسلم تنظیموں کی جانب سے قائم ہونے والے بلڈ ڈونیشن کیمپس کو بھی شرائط وضع کرنے ہوں گے۔ وہ صرف بلڈ ڈونیشن کیمپ تک ہی خود کو محدود نہ کریں بلکہ کیمپ کے بعد بھی جب بھی کسی کو خون کی ضرورت ہو وہ اس موقف میں رہیں کہ مفت میں خون فراہم کرسکیں۔ اگر یہ ممکن نہیں ہے تو پھر اس طرح کے کیمپس کا انعقاد صرف نام و نمود اور اپنی شہرت کے سوا کچھ نہیں ہوگا جس کے ذریعہ یہ افراد اعلیٰ عہدیداروں سے قربت حاصل کرلیتے ہیں۔ اس طرح کے کیمپس سے غریبوں کا کوئی بھلا ممکن نہیں اور نہ ہی کسی غریب کو یہ ادارے خون کی فراہمی میں دلچسپی لیتے ہیں۔ حکومت کو ایک طرف ملاوٹ شدہ خون سے متعلق سرگرمیوں پر نظر رکھنی چاہیئے تو دوسری طرف بلڈ ڈونیشن کیمپس منعقد کرنے والے اداروں اور تنظیموں کو بھی شرائط کا پابند کرنا چاہیئے تاکہ حقیقی معنوں میں غریبوں کا فائدہ ہو ورنہ ہزاروں افراد جس انسانی جذبہ کے ساتھ خون کا عطیہ دیتے ہیں ان کا مقصد فوت ہورہا ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ بلڈ ڈونیشن کیمپس کے نام پر خون کی تجارت کی جارہی ہے؟۔

TOPPOPULARRECENT