حیدرآباد میں ٹیلی فون خدمات کے 130 سال مکمل

حیدرآباد ۔ 11 ۔ فروری ۔ ( نمائندہ خصوصی )۔ٹیلی فون ، اب ضروریات زندگی کا ایک ایسا حصہ بن گیا ہے ، جس کی اہمیت اور افادیت سے کوئی بھی شخص انکار نہیں کرسکتا ، امیر ہو یا غریب آج ہر کوئی فون استعمال کرنے پر مجبور ہے ۔ مگر کیا آپ جانتے ہیں کہ فون کا استعمال کب سے شروع ہوا ؟

حیدرآباد ۔ 11 ۔ فروری ۔ ( نمائندہ خصوصی )۔ٹیلی فون ، اب ضروریات زندگی کا ایک ایسا حصہ بن گیا ہے ، جس کی اہمیت اور افادیت سے کوئی بھی شخص انکار نہیں کرسکتا ، امیر ہو یا غریب آج ہر کوئی فون استعمال کرنے پر مجبور ہے ۔ مگر کیا آپ جانتے ہیں کہ فون کا استعمال کب سے شروع ہوا ؟ حیدرآباد دکن میں ٹیلی فون کا آغاز ہو کر 130 سال ہوچکا ہے اور آج ہم اسی مناسبت سے چند اہم ترین تفصیلات سے روشناس کرارہے ہیں ۔ دراصل حیدرآباد دکن میں ٹیلی فون خدمات کا باقاعدہ شروعات ساتوں آصفجاہی حکمراں میر محبوب علی خاں کے دور حکمرانی میں ہوا تھا ۔ اس حقیقت سے بہت کم ہی لوگ واقف ہوں گے کہ 1884 میں اس وقت بلدہ حیدرآباد میں محکمہ ٹیلی فون قائم کیا گیا اور اس سلسلے میں سب سے پہلے میر محبوب علی خاں کی دیوڑھی سے مہاراجہ نریندر بہادر پیشکار منصرم مدارالمہام کو دیوڑھی تک اس کا سلسلہ قائم کیا گیا ۔ اس کے بعد سرکاری دفاتر ، امراء عہدیداران کی قیام گاہوں پر ٹیلی فون کی خدمات فراہم کی گئی ۔ ابتدائی ایام میں ممبئی ٹیلی فون کمپنی کے ذریعہ اس کا کام لیا گیا ۔ اور مذکورہ کمپنی نے مارچ 1886 تک یہ سہولت فراہم کی ۔ اس کے بعد اس انتظام اور دیکھ بھال کارخانہ سرکار عالی منتقل کردیا گیا ۔ اس ڈپارٹمنٹ کو سر رشتہ تعمیرات کے تحت کردیا گیا یہ چونکہ ایک قسم کا پہلا تجربہ تھا ، کسی اور مقام سے کسی شخص کی آواز کو سننا اور پھر اس کا اس آلہ کے ذریعہ اس کا جواب دینا انہیں حیرت زدہ کردیتا تھا ۔ تاریخی اعتبار سے 1890 ء میں نارائن گوڑہ میں ایک ورک شاپ قائم کیا گیا تھا جس کے بعد سکندرآباد ایکسیچنس کا قیام عمل میں آیا ، 19 اگسٹ 1912 ء کو بارہ دری ایکسیچنس اور ورک شاپ ایکسچنج کو سٹی ایکسچنج اور نارائن گوڑہ ایکسچنج کے نام سے موسوم کیا گیا ۔ ان دنوں سرزمین دکن میں ٹیلی فون صارفین کی تعداد صرف 148 تھی ، بعدازاں نواب میر عثمان علی خان کے دور اقتدار میں 19 اگسٹ 1912 کو مسٹر گارڈن سپرنٹنڈنٹ ٹیلی فون انچارج سررشتہ محکمہ ٹیلی فون مقرر کئے گئے ،

اور ان کے بعد 19 ڈسمبر 1914 ء کو مسٹر چیٹ وڈ سابق ناظم رسدگاہ کا تقرر صرف 6 مہینے کیلئے کیا گیا ۔ دکن میں اس کی ابتداء کے بعد تقریباً 31 سال بعد 1915 کو مذکورہ محکمہ کا انتظام کیلنڈر کیبل اینڈ کنسٹرکشن کمپنی کو تفویض کیا گیا ، اس دور میں جو ٹیلی فون استعمال ہوتا تھا وہ کافی بھاری بھر کم ہوتا تھا ۔ اس دور میں یہ لکڑی اور اس کے مختلف آلات لوہے سے بنائے جائے تھے ۔ 1885 ء میں نواب میر محبوب علی خان کی ہدایت پر مقناطیسی واحد لائن ٹیلی فون سسٹم شروع کیا گیا تھا اور بارہ دری ایکسنج کے ذریعہ 16 صارفین بنائے گئے تھے ۔ بعدازاں آصف سابع نے 1923 میں اورنگ آ باد ، جالنہ ، نانڈیڑ ، گلبرگہ ، رائچور ، ورنگل ، لاتور ، پربھنی اور نظام آباد میں بھی ٹیلی فونس کی تنصیب کے احکامات جاری کئے تاہم سقوط حیدرآباد کے بعد اسی محکمہ میں ہوئی مختلف نئی تبدیلیوں کے بعد ٹیلی فون اب سیل فون کی شکل اختیار کر گیا ہے ۔ اور نوابوں کی دسترس سے نکل کر اب عام آدمی کے ہاتھوں کھلونا بن گیا ہے ۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT