Thursday , January 18 2018
Home / شہر کی خبریں / حیدرآباد میں گورنر کے اختیارات پر 18 اگست کے بعد کانگریس کا ردعمل

حیدرآباد میں گورنر کے اختیارات پر 18 اگست کے بعد کانگریس کا ردعمل

حیدرآباد /13 اگست (سیاست نیوز) تلنگانہ کانگریس کے فلور لیڈر کے جانا ریڈی نے کہا کہ حیدرآباد میں گورنر کے اختیارات کے مسئلہ پر کانگریس پارٹی 18 اگست کے بعد اپنے موقف اور ردعمل کا اظہار کرے گی۔ آج یہاں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ کئی قربانیوں کے بعد کے بعد علحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل ہوئی، تلنگانہ عوام کی عزت نفس اور ترقی

حیدرآباد /13 اگست (سیاست نیوز) تلنگانہ کانگریس کے فلور لیڈر کے جانا ریڈی نے کہا کہ حیدرآباد میں گورنر کے اختیارات کے مسئلہ پر کانگریس پارٹی 18 اگست کے بعد اپنے موقف اور ردعمل کا اظہار کرے گی۔ آج یہاں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ کئی قربانیوں کے بعد کے بعد علحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل ہوئی، تلنگانہ عوام کی عزت نفس اور ترقی کے معاملے میں کانگریس پارٹی کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی اور ان دونوں معاملے میں مرکزی حکومت کی غیر ضروری مداخلت کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انھوں نے تلنگانہ حکومت کی جانب سے قرضوں کی معافی کے تعلق سے جاری کردہ مکتوب کا خیر مقدم کیا اور ساتھ ہی اندرون ماہ کسانوں کو نئے قرضہ جات کی اجرائی کا حکومت سے مطالبہ کیا۔ انھوں نے زرعی اغراض کی تکمیل کی تکمیل کے لئے کسانوں کو 7 گھنٹے مسلسل برقی سربراہ کرنے کا مطالبہ کیا، بصورت دیگر زرعی شعبہ کو نقصان سے دوچار ہونے کا خدشہ ظاہر کیا۔ تلنگانہ کے قائد اپوزیشن نے کہا کہ ٹی آر ایس نے اپنے انتخابی منشور میں جو وعدے کئے تھے، ان پر عمل آوری کے لئے حکومت فوری رہنمایانہ خطوط جاری کرے۔ انھوں نے جاریہ بجٹ سیشن میں چند وعدوں پر اور اس کے بعد منعقد شدنی اسمبلی اجلاس میں چند وعدوں اور مسائل کا جائزہ لیتے ہوئے ان پر عمل آوری کی منصوبہ بندی کا مطالبہ کیا۔ انھوں نے کانگریس سے مستعفی ہوکر ٹی آر ایس میں شامل ہونے والے قائدین پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جو قائدین سیاسی وفاداریاں تبدیل کر رہے ہیں، وہ اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے فوری عہدوں سے مستعفی ہو جائیں، بصورت دیگر انھیں نااہل قرار دینے اسپیکر اسمبلی سے نمائندگی کی جائے گی۔

TOPPOPULARRECENT