Friday , January 19 2018
Home / شہر کی خبریں / حیدرآباد و اضلاع میں اردو دانی‘زبان دانی امتحانات کا کامیاب انعقاد

حیدرآباد و اضلاع میں اردو دانی‘زبان دانی امتحانات کا کامیاب انعقاد

حیدرآباد ۔ 14 ؍ جون ( سیاست نیوز) ادارہ سیاست کے زیر اہتمام چلائے جانے والے عابد علی خان ایجوکیشنل ٹرسٹ کی طرف سے دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد ‘ تلنگانہ و آندھرا کے علاوہ کرناٹک و مرھٹواڑہ نے اردو کی ترقی و ترویج کیلئے جاری مساعی کے ایک حصہ کے طور پر اردو دانی و زبان دانی کے امتحانات کا کامیاب انعقاد عمل میں آیا ۔ ان امتحانات میں

حیدرآباد ۔ 14 ؍ جون ( سیاست نیوز) ادارہ سیاست کے زیر اہتمام چلائے جانے والے عابد علی خان ایجوکیشنل ٹرسٹ کی طرف سے دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد ‘ تلنگانہ و آندھرا کے علاوہ کرناٹک و مرھٹواڑہ نے اردو کی ترقی و ترویج کیلئے جاری مساعی کے ایک حصہ کے طور پر اردو دانی و زبان دانی کے امتحانات کا کامیاب انعقاد عمل میں آیا ۔ ان امتحانات میں ہزاروں طلباء و طالبات کے علاوہ عمر رسیدہ خواتین و مرد حضرات اور چند غیر مسلم لڑکے و لڑکیوں نے بھی شرکت کی ۔ اردو کے سرکردہ اسکالرس ‘ پروفیسرس ‘جہد کاروں اور دیگر اہم شخصیات نے مختلف مراکز امتحان کا معائنہ کیا اور اردو کی ترقی و ترویج کے لئے ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خان کی مخلصانہ مساعی کی بھر پور ستائش کی ۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں جہاں نئی نسل انگریزی زبان کو ترجیح دے رہی ہے وہیں جناب زاہد علی خان نے دور اندیشی کو ملحوظ رکھتے ہوئے نئی نسل کو اردو زبان کی تعلیم کی فراہمی کیلئے قدم اٹھایا ہے ۔ جناب زاہد علی خان کی قیادت میں ’کاروان اردو‘ اپنی منازل طئے کررہا ہے۔ اُردو کی شمع روشن رکھنے کا تمام تر کریڈٹ جناب زاہد علی خان کے علاوہ ادارہ سیاست کے تحت چلائے جانے والے عابد علی خان ایجوکیشنل ٹرسٹ کے دیگر ذمہ داروں کوجاتا ہے ‘ بدلتے رجحانات کے اس پرآشوب دور میں اُردو زبان کی حفاظت کے لئے ہر وہ اقدام کرنے تیار ہیں جوکہ اُردو کی ترقی و ترویج کے لئے کاآمد ثابت ہوسکے ‘ ان خیالات کا اظہار سنٹرز کا معائنہ کرنے والوں نے کیا ۔عابد علی خاں ایجوکیشنل ٹرسٹ ( ادارہ سیاست) بہ تعاون ادارہ ادبیات اُردو پنجہ گٹہ حیدرآباد ابتدائی اُردو کی تعلیم کا آغاز گرمائی تعطیلات میں جو 1994 ء کیا گیا اُردو دانی ‘ زبان دانی ‘ انشاء کے امتحانات تحریر ہوتے ہیں ٹرسٹ کے جانب سے سوالات و جوابی بیاض اور ہال ٹکٹس جاری ہوتے ہیں ۔ سا ل حال جون حیدرآباد و سکندرآباد تعداد (4552) اضلاع آندھرا و تلنگانہ میں (3081) دیگر ریاستوں میں (1730) جملہ تعداد (9363) شریک امتحان ہوئے ‘ اُردو تعلیم کو عام کرنے ٹرسٹ کے زیر اہتمام سینکڑوں اداروں نے اس نظم کو اپنا کر حوصلہ افزائی کی۔ محبوب حسین جگر ہال احاطہ روزنامہ سیاست میں منعقدہ امتحانی مرکز کا معائنہ جناب ظہیرالدین علی خان سیکریٹری عابد علی خان ایجوکیشنل ٹرسٹ ‘ جناب پروفیسر محمد انورالدین سابق صدر شعبہ اُردو یونیورسٹی آف حیدرآباد ‘ جناب پروفیسر ایس اے شکور معتمد ادارہ ادبیات اُردو ‘ محترمہ منور خاتون ڈائرکٹر اشرف المدارس ‘ پروفیسر اطہر سلطانہ صدر شعبہ اُردو تلنگانہ یونیورسٹی ‘ ڈاکٹر موسیٰ اقبال تلنگانہ یونیورسٹی ‘ پروفیسر ناظم علی پرنسپل موڑتاڑ ڈگری کالج ضلع نظام آباد ‘ ڈاکٹر سلطانہ اختر صدر شعبہ اُردو ونیتا مہاودھیا ‘ جناب عمر بن حسین باوزیر(ریسرچ اسکالر مانو) ‘ جناب امرناتھ (ریسرچ اسکالر) ‘محمد اشتیاق احمد (ریسرچ اسکالر مانو) ‘محمد ابراہیم (ریسرچ اسکالر ایس سی وی) ‘محمد شارب خان(ریسرچ اسکالر) ‘محمد اعتماد (ریسرچ اسکالرس یچ سی وی) ‘ممتاز شاعر سردار اثر ‘ جناب محمد حبیب الرحمن سیکشن انچارج سیدہ سارہ سلطانہ (ریسرچ اسکالر مانو) ‘نجمہ سلطانہ (ریسرچ اسکالر)‘ یٰسین فاطمہ بی یو ایم ایس اور محمد وجاہت علی نے کیا ۔ ٹیم کے ارکان کا مجموعی تاثر یہ تھا کہ عابد علی خاں ایجوکیشنل ٹرسٹ کے زیر اہتمام منعقد ہونے والے اُردو دانی ‘ زبان دانی ‘ اور انشاء کے یہ امتحانات آج کی نسل کو جو انگلش میڈیم یا کسی اور میڈیم سے تعلیم حاصل کر رہی ہے اور جو لوگ اُردو سے بالکل ہی نابلد ہیں ان کو اُردو زبان کی میٹھاس و شیرینی سے روشناش کرانے میں بنیادی اور اہم کارنامہ انجام دے رہے ہیں۔ ان امتحانات میں ایسے طلبا بھی شریک ہیں جو دن رات محنت و مزدوری کرتے ہیں اور جن کے ماں باپ غربت کی وجہ سے اپنے بچوں کو اسکول میں داخلہ نہیں دلواسکتے ۔ ان امتحانات میں کمسن بچوں اور بچیوں کے علاوہ عمر رسیدہ مرد و خواتین اور غیر مسلم مرد و خواتین بھی شرکت کر رہے ہیں ۔ اس طرح اُردو زبان کے سیکولر کردار کو بھی بقا اور استحکام حاصل ہو رہا ہے ۔ ادارہ سیاست کے تحت جناب عابد علی خان مرحوم ‘ جناب محبوب حسین جگر مرحوم نے اُردو زبان کی ترویج و اشاعت اور ناخواندگی کے خلاف جو مہم شروع کی تھی وہ ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خان کی نگرانی اور سرپرستی میں آج تحریک کی شکل اختیار کرچکی ہے ان امتحانی مراکز کے معائنے کے بعد ہر شخص یہ کہے گا کہ اُردو زبان کا مستقبل تانباک ہے اور ہماری نئی نسل کے ہاتھوں محفوظ ہے ۔

TOPPOPULARRECENT