Saturday , September 22 2018
Home / شہر کی خبریں / حیدرآباد و سائبرآباد پولیس کمشنریٹ گریٹر حیدرآباد کمشنریٹ میں تبدیل

حیدرآباد و سائبرآباد پولیس کمشنریٹ گریٹر حیدرآباد کمشنریٹ میں تبدیل

کمشنریٹس کے انضمام پر اسمبلی میں بل کی منظوری ضروری، ملک کا سب سے بڑا کمشنریٹ کا اعتراز ممکن

کمشنریٹس کے انضمام پر اسمبلی میں بل کی منظوری ضروری، ملک کا سب سے بڑا کمشنریٹ کا اعتراز ممکن
حیدرآباد۔/10مئی، ( سیاست نیوز) ریاست کی تقسیم اور نئی ریاست تلنگانہ کے 2جون کو وجود میں آنے سے قبل گریٹر حیدرآباد کے حدود میں محکمہ پولیس کے نظام کو قطعیت دینے کا عمل مکمل ہوچکا ہے۔ چونکہ حیدرآباد 10برسوں تک دونوں ریاستوں کا مشترکہ دارالحکومت رہے گا لہذا محکمہ جات کی تقسیم سے متعلق کمیٹی نے حیدرآباد اور سائبرآباد پولیس کمشنریٹ کو ضم کرتے ہوئے گریٹر حیدرآباد پولیس کمشنریٹ کی تشکیل کا فیصلہ کیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ریاست کی تقسیم سے متعلق مرکزی حکومت کی کمیٹی کو یہ تجویز پیش کردی گئی اور ریاستی گورنر نے اسے منظوری دے دی۔ اس تجویز کے مطابق سائبرآباد پولیس کمشنریٹ کو ضم کرتے ہوئے گریٹر حیدرآباد کمشنریٹ وجود میں آئے گا۔ واضح رہے کہ سائبرآباد پولیس کمشنریٹ 10فبروری 2002کو قائم کیا گیا تھا اور 12برسوں تک ملک بھر میں پانچویں بڑے اور ریاست کے دوسرے بڑے کمشنریٹ کا درجہ رکھنے والا سائبرآباد پولیس کمشنریٹ اب باقی نہیں رہے گا۔حیدرآباد پولیس کمشنریٹ میں اسے ضم کرتے ہوئے وسیع تر کمشنریٹ کی تشکیل عمل میں آئے گی۔ بتایا جاتا ہے کہ سابق ڈائرکٹر جنرل پولیس دنیش ریڈی کے دور میں ہی یہ تجویز تیار کی گئی تھی۔ ماہرین کا خیال ہے کہ ریاستی اسمبلی میں علحدہ بل کی منظوری کے ذریعہ سائبرآباد کمشنریٹ کا قیام عمل میں آیا تھا لہذا اسے ضم کرنے یا ختم کرنے کیلئے اسمبلی میں بل پیش کرنے کی ضرورت پڑے گی۔ تلنگانہ میں نئی حکومت کی تشکیل کے بعد ہی اسمبلی میں اس سلسلہ میں بل پیش کرنے کی گنجائش ہوگی۔ ان قانونی اور دستوری نکات کا مرکزی حکومت کی کمیٹی جائزہ لے رہی ہے اور اسمبلی میں بل کی منظوری کے لازمی ہونے کی صورت میں تلنگانہ میں حکومت کے قیام کے بعد گریٹر حیدرآباد پولیس کمشنریٹ کے قیام کی کارروائی کو آگے بڑھایا جائے گا۔ واضح رہے کہ ریاست کی تقسیم کے سلسلہ میں پارلیمنٹ میں منظورہ بل کے مطابق دس برسوں تک حیدرآباد نہ صرف مشترکہ دارالحکومت رہے گا بلکہ لاء اینڈ آرڈر اور دیگر اہم اُمور کی ذمہ داری ریاستی گورنر کے ذمہ رہے گی۔اس اعتبار سے سائبر آباد پولیس کمشنریٹ کو ضم کرتے ہوئے گریٹر کمشنریٹ کے قیام کو ضروری سمجھا جارہا ہے۔ لاء اینڈ آرڈر گورنر کے تحت کئے جانے کی تلنگانہ کی اہم جماعتیں مخالفت کررہی ہیں۔ ٹی آر ایس نے اس مسئلہ کو عدالت سے رجوع کرنے کا من بنالیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ گریٹر کمشنریٹ کی تشکیل کی صورت میں یہ ملک کا سب سے بڑا کمشنریٹ ہوگا اور اس کمشنریٹ کے تحت اہم عہدوں کے حصول کیلئے ابھی سے پولیس عہدیداروںنے اپنی کوششوں کا آغاز کردیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT