Monday , September 24 2018
Home / شہر کی خبریں / حیدرآباد و سکندرآباد کو فضائی آلودگی کا سنگین خطرہ

حیدرآباد و سکندرآباد کو فضائی آلودگی کا سنگین خطرہ

ہندوستان بھر میں آلودہ ماحول شہریوں کی حیات میں کمی کا موجب

ہندوستان بھر میں آلودہ ماحول شہریوں کی حیات میں کمی کا موجب
حیدرآباد ۔ 7 ۔ اپریل : ( سیاست نیوز ) : ہندوستانی شہروں کی فضائی آلودگی میں ہورہے بتدریج اضافہ سے انسانی زندگیوں کی مدت میں کمی ہوتی جارہی ہے ۔ قومی رئیسہ کوالیٹی کے مطابق ہندوستان کے ایسے شہر جن کی آبادی 10 لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے ان شہروں میں فضائی آلودگی انتہائی تشویشناک حد تک بڑھتی جارہی ہے اور فضائی آلودگی سے متاثرہ شہروں میں انسانی زندگی میں 3.2 سال کی اوسطاً گراوٹ ریکارڈ کی جارہی ہے ۔ دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد بھی خطرے کے نشان میں شامل شہروں کی فہرست سے بالکل قریب پہنچ چکے ہیں ۔ ماحولیاتی بورڈ کی جانب سے فضائی آلودگی کی پیمائش کے لیے 6 زمرے طئے کئے گئے ہیں اور ان میں حیدرآباد تیسرے زمرے میں پہنچ چکا ہے ۔ اگر فوری طور پر اقدامات کرتے ہوئے فضائی آلودگی پر کنٹرول کی کوشش نہیں کی جاتی ہے تو ایسی صورت میں شہر حیدرآباد کے حالات مزید ابتر ہوسکتے ہیں۔ سنٹرل پولیوشن کنٹرول بورڈ کی جانب سے طئے شدہ پیمائش کے زمروں میں سب سے بہتر وہ شہر ہیں جہاں پولیوشن ایک تا 50 ہے جب کہ دوسرے زمرے میں اطمینان بخش قرار دیا جارہا ہے جہاں پیمائش کے اعتبار سے 51 تا 100 اور تیسرے زمرے کو ناقابل برداشت میں رکھا گیا ہے اور اسی طرح چوتھے پانچویں اور چھٹویں زمرے میں آلودگی کے اعتبار سے زمرہ بندی کرتے ہوئے نشاندہی کی گئی ہے ۔ عالمی ادارہ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق بین الاقوامی سطح پر 20 آلودگی سے متاثرہ شہروں میں 13 ہندوستانی شہر شامل ہیں جو کہ انتہائی خطرناک بات ہے ۔ جنوبی ہند کے شہروں حیدراباد کے علاوہ بنگلور کی حالت انتہائی ابتر ہے اور بنگلور ملک بھر کے تمام شہروں کو آلودگی میں پیچھے چھوڑ چکا ہے اور انتہائی ابتر حالت والے شہروں کے زمرے میں بنگلور کا شمار ہونے لگا ہے جب کہ کانپور بھی اسی زمرہ میں پہنچ چکا ہے ۔ عالمی سطح پر دہلی کو دنیا کے فضائی آلودگی سے متاثرہ صدر مقام کی فہرست میں پہلے نمبر پر رکھا گیا ہے ۔ مرکزی حکومت فضائی آلودگی سے متاثرہ شہروں میں رہنے والے شہریوں میں شعور بیدار کرنے کے اقدامات کے علاوہ آلودگی کی سطح سے شہریوں کو واقف کروانے اور اس کے مضر اثرات سے آگاہ کرنے کی مہم کے طور پر 10 لاکھ سے زائد آبادی والے شہروں میں الکٹرانک بورڈس کی تنصیب کے ذریعہ شہریوں میں شعور اجاگر کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ حکومت کی جانب سے آلودگی کو کم کرنے کے اقدامات تو ہوں گے لیکن شہری علاقوں میں قیام پذیر افراد کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ فضائی و ماحولیاتی آلودگی پر کنٹرول میں اعانت کریں چونکہ آلودگی کا شکار صرف آلودگی میں اضافہ کا موجب بننے والے نہیں ہوتے بلکہ اس کے اثرات تمام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں ۔ دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد میں تیزی سے پھیل رہے کنکریٹ کے جنگل کے سبب بھی فضائی آلودگی میں کمی کے ذرائع یقینی درخت وغیرہ کم ہوتے جارہے ہیں لیکن اگر خود شہری حفظان صحت پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے فضائی آلودگی میں تخفیف کے اقدامات کرتے ہیں تو ایسی صورت میں شہر حیدرآباد کی فضاء کوجلد ہی بہترین شہر اور آب و ہوا کے اعتبار سے قابل رہائش شہروں کی فہرست میں شامل کروایا جاسکتا ہے لیکن اس کے لیے عوام کو راست شجرکاری اور کچرے کی نکاسی میں تعاون کرنے کے علاوہ فضائی آلودگی کا موجب بننے والے آلات و مشینوں کے استعمال میں کمی کرنی ہوگی۔ محکمہ جنگلات اور مجلس بلدیہ عظیم تر حیدراباد اگر ایک دوسرے کیتعاون سے آگے بڑھتے ہوئے شہریوں میں شجرکاری کے متعلق شعور اجاگر کریں اور انہیں پودے فراہم کرتے ہوئے ان کی حفاظت و نگہداشت کے لیے تیار کریں تو حیدرآباد کو بنگلور جیسے حالات سے بچایا جاسکتا ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT